سفر زیست۔ روحانی مدارج۔۔محمد خان چوہدری

زیر ِ تالیف داستانِ  زیست پارٹ دوئم، بعنوان “سفر زیست “سے ایک باب ۔

اسلام آباد میں اِنکم ٹیکس کی وکالت میں بہت جلد پاؤں جما لئے بلکہ گوڈے گوڈے کھب گئے تو مارکیٹ میں موجود دیگر کولیگز  کا جائزہ لیا، دو تین سادہ مزاج وکلا ء کے علاوہ چند جُزوقتی وکلا ء تھے۔ یہاں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ کے کُل وقتی دفاتر تھے اور وہی چھائے ہوئے تھے، ان کی پریکٹس کی بنیاد ظاہر ہے آڈٹ اور اکاؤنٹ تھی، انکے ہتھے جو چڑھ جاتا پہلے اسے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنا کے دیتے ، سالانہ آڈٹ اور رپورٹ کی فیس بھی پکی کمپنی بنانے کی فیس بیس پچیس ہزار ،سمجھیں  مفت کمائی  تھی، پٹرول پمپ کے لئے بھی کمپنی بنا دی جاتی۔

tripako tours pakistan

ہم نے بھی ایس اے سی پی میں راہ و رسم استوار  کی، لیکن یہ اصول رکھا کہ کسی بھی مجوزہ کلائنٹ کو اس فیس کے لئے کمپنی نہیں  بنا کر  دینی۔ جب تک اسکی اشد ضرورت نہ ہو

اسلام آباد کا کمپنی رجسٹریشن آفس ، ایس ای سی پی کے ذیلی ادارہ کا اپنا دفتر تھا، سال بھر میں دس بارہ کمپنیاں رجسٹر کرواتے وہاں کے انچارج فاروق صاحب جو ہمارے پڑوس میں رہائش پذیر تھے ۔
لیکن ان سے بےتکلفی کی مہر شروع میں ایک حسین اتفاق سی  لگی۔۔

ہماری آفیشل ملاقات طے تھی، آفس پہنچے   تو سٹاف نے ہال میں روک لیا۔۔ کہ صاحب کے پاس بڑی ہستی مہمان ہے اور اسکے لئے جنرل مجید صاحب جو منسٹر تھے ان کی  کال بھی آئی  ہوئی  ہے، ہم سٹاف کیساتھ گپ لگانے بیٹھ گئے۔
فاروق صاحب دفتر سے ہمیں دیکھ رہے تھے، مہمان کی پشت تھی، کال ختم ہوئی  ، کچھ دیر مزید گزری تو فاروق صاحب اٹھ کے دروازے پر آئے ،ہم بھی قریب ہوئے تو انتظار کی معذرت کی ۔ مہمان نے ہماری جھلک دیکھی تو اُٹھے،آمنا سامنا ہوا، تو بغلگیر ہو گئے، اب فاروق صاحب اور سٹاف پریشان ۔۔

وہ مہمان ہمارے چکوال کے سکول فیلو خواجہ جہانگیر یوسف تھے جو اب چکوال گروپ آف انڈسٹریز کے ڈائریکٹر تھے۔
ہم نے اجازت چاہی تو جہانگیر نے فاروق صاحب سے تعارف ہنستے ہوئے کرواتے  ہوئے کہا۔۔
“ صاحب جی یہ میرے جماعتی چکوال کے چوہدری محمدخان ہیں، بھائی  یہ ناراض ہوں تو ہم چکوال رہ بھی نہ سکیں”۔

اب ہم نے قہقہہ لگایا۔ اور کہا، “ جناب وڈے میاں صاحب مجھے نیچے اتاریں، “ کچھ زیادہ ہی چُک دیا ہے،ہماری میٹنگ اگلے دن پر ملتوی ہوئی ، دو تین چکوالی لطیفے جھاڑ کے اجازت لی، کہ بچوں کا  سکول  سے چھٹی کا ٹائم ہو گیا تھا۔

فاروق صاحب خاندانی انسان تھے پہلے بھی بہت خیال رکھتے تھے لیکن اس غیبی امداد سے اُس دفتر میں ہم وی آئی  پی وکیل بن گئے۔

Avatar