• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • راولپنڈی سازش کیس اور سید سجاد ظہیر کی گرفتاری کا قصہ(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔احمد سہیل

راولپنڈی سازش کیس اور سید سجاد ظہیر کی گرفتاری کا قصہ(دوسرا،آخری حصّہ )۔۔احمد سہیل

مخبر سے یہ خفیہ اطلاع چوہدری اصغر کو ملی کہ سجاد ظہیر ایک مکان میں چھپے ہوئے ہیں۔ تو انھوں نے اس مکان کے سامنے ایک خالی پلاٹ پر راتوں راتوں لکڑی کی ٹال کھلوادی سادہ کپڑوں میں ملبوس پویس کے اہل کار اس ٹال کا کروبار چلاتے رہے اور پولیس والے ہی اس کے گاہک بھی بنے۔ اس گھر کی کٹری نگرانی شروع ہو گئی ۔ پولیس والوں نے دیکھا کی ایک دبلا پتلا آدمی ہر روز کم از کم دو بار آتا ہے اور وہاں تھوڑی دیر بعد ٹھہر کر واپس چلا جاتا ہے۔ اس آدمی کو چند روز نظروں میں رکھنے کے بعد اس کو خاموشی سے گرفتار کر لیا گیا۔ تو پولیس تو معلوم ہوا یہ کمیونسٹ پارٹی کا رکن ہے اور پھر پولیس والوں نے اپنے روایتی انداز تفشیش اور تشدر کرکے اس سے سب کچھ اگلوالیا۔ اس نے بتایا کی وہ یہاں کھانا لے کر آتا ہے۔ اگلے ہی دن اسے برقع  پہنا کر سجاد ظہیر کے مکان پر لے جایا گیا۔ اور اسے مخصوص طریقے سے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے کو کہا۔ کھٹکھٹانے کی مانوس اور مخصوص آواز سن کر سجاد ظہر نے فوراً دروازہ کھول دیا توسلیٹی رنگ کی گھیرے دار شلوار قمیض پینے ہوئے  ایک پختون{ پٹھان} پنجاب پولیس کے سپاہی جیسے لوگ ” مولانا” کے نام سے جانتے تھے، سجاد ظہیر کو جا دبوچا۔ اور فوراً ہی انسپکٹر چوہدری محمد اصغر نے سجاد ظہیر سے تھوڑی سی بات کرکے ان کی شناخت کی تصدیق کی۔ سجاد ظہیر نے مہذب لہجے میں نہایت سچائی سے اپنا تعارف کروایا۔ تھانے دار محمد اصغر ان کی سادگی اور پُرسکوں ٹھنڈے مزاج کو دیکھ کر حیران تھا۔ پھر انسپکٹر نے پستول ان کی چھاتی پر رکھ دی اور سجاد ظہیر کو ہتھکڑی لگا کر حراست میں لے لیا گیا۔

راولپنڈی سازش کیس میں سجاد ظہیر پر مقدمہ چلا۔ سرکاری وکیل نے انکے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا لیکن عدالت نے انھیں  4 سال کی سزا دی۔ سجاد ظہیر دو برس حیدرآباد { سندہ} اور مچھ { بلوچستان} کے جیلوں میں اپنی سزا کاٹی۔ ۔ اس جیل میں فیض احمد فیض ان کے ” ہم زندان” تھے۔

tripako tours pakistan

سجاد ظہیر پاکستانی جیل  سے 1955 میں بھارت چلے گئے ۔جہاں جواہر لال نہرو تھے جو بنے میاں کے دوست اور سب سے بڑے مداح تھے ۔ہندوستان میں زندگی دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی ،کچھ ترقی پسند تحریکوں اور تنظیموں کی بنیاد رکھی ،اسی دوران قاہرہ اور روس کا دورہ بھی کیا ۔

سجاد ظہیر نے ستمبر 13، 1973 کو الماتے، (قازقستان)، جو تب سوویت یونین کا حصہ تھا، میں ایفرو ایشیائی مصنفین کی تنظیم کے ایک اجلاس کے دوران وفات پائی۔کامریڈ روس کے دورے پر تھے کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ،وہ راستے میں ہی انتقال کر گئے ،فیض صاحب کامریڈ سجاد ظہیر کی لاش لیکر دلی پہنچے ،جہاں دلی میں انہیں دفن کیا گیا ،یہ ہوتی ہے حقیقی اور اصلی انقلابی کی زندگی جو اپنے اصولوں اور نظریات کے ساتھ جذباتی ، فکری اور نظریاتی پر جڑے رہے۔
ڈاکٹر اندر بھان بھیسن نے ۔۔” سجاد ظہیر کا دور اسیری” ۔۔ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی۔

معروف نقاد قمر رئیس اپنی کتاب سجاد ظہیر :حیات و ادبی خدمات کے حرف آغاز میں لکھتے ہیں کہ،”سجاد ظہیر ہمارے ملک کے ایک عہد ساز ادیب اور دانشور ہیں وہ بلا شبہ بیسویں صدی کی ان قد آور شخصیتوں کی صف سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے اپنے فکر و عمل سے، اپنے سیکولر، جمہوری نظریات سے اور اپنے تہذیبی  وژن سے آزاد جدید ہندوستان کی تعمیر کا ایک روشن تصور دیا۔ ان کی حب الوطنی، انسان دوستی سائنسی عقل و دانش سے ہی قومی ہم آہنگی، تہذیبی یکجہتی اور معاشرتی تعمیر و ترقی کا وہ ماحول پیدا ہو سکا جس میں سانس لے کر آج ہم اعتماد و طمانیت محسوس کرتے ہیں اور جس کے سہارے ہر طرح کی مشکلات سے قابو پاتے ہوئے ہم اپنی عمر کے اختتامی پڑاو پر سجاد ظہیرؔ نے شاعری کی طرف سنجیدگی سے شاعری پر توجہ دی۔ اور اردو کی جدید شاعری میں اسلوب اور فکر کی بوقلمی نظر آتی ہےاور ان کا ایک شعری مجموعہ ’’ پگھلا نیلم‘‘ کے نام سے شائع ہوا ۔۔ اگر چہ  انہوں نے  اپنی شروع کی ادبی زندگی میں کچھ نظمیں لکھی تھیں ۔ مگران کی باقاعدہ شاعری مجموعہ پگھلا ؔنیلم سے شروع ہوتی ہے۔ یہ بات ابتدا ہی میں کہی گئی ہے کہ سجاد ظہیرؔ کو ہر صنف ادب میں جسے انھوں نے برتا، ایک ہر ا وّل کی حیثیت حاصل رہی۔ ’’پگھلا نیلم‘‘ ترقی پسند شاعری اور اس کی جمالیات میں نئی سمتوں متعین کرتا ہے ۔ اس میں پابند نظمیں بھی شامل ہیں اور نثری نظمیں بھی۔ یہ مجموعہ نومبر ۱۹۶۴ء میں دلی سے شائع ہوا۔ اس کے دیباچے میں بہت دلچسپ بحث نظموں میں پابندی اور عدم پابندی کر بہتریں مکالمہ ملتا ہے۔ جو آج بھی موضوع بحث رہتا ہے۔انھوں نے تراجم بھی کئے۔

Advertisements
merkit.pk

ترقی پسند تحریک کے ساتھ سجاد ظہیر کے گہرے رشتوں اور جذباتی وابستگی سے واضح ہے کہ وقت کے ساتھ کس طرح ،کسی تحریک کا عروج و زوال تو ہو سکتا ہے وقتی طور پر اس میں رکاوٹیں اور پریشانیاں  آتی ہیں لیکن اس کا بنیادی نظریہ کبھی نہیں مکمل طور پر مرتا نہیں ۔ سجاد ظہیر نے ہندوستانی ادب کو جس ترقی پسندی سے منسلک کیا وہ وہ نظریات اور افکار عہد عصر بھی محسوس کئے جاسکتے ہے اور یہ خیال تب تک زندہ رہے گا جب تک کوئی بھی ادیب کسی ناانصافی ، غربت، طبقاتی کشمکش اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گا ، احتجاج اور مزاحمت ہو گی اور اسی کے ساتھ سجاد ظہیر کی ادبی خدمات بھی زندہ رہیں گی۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply