حسین لبرل جمہوریت

آپ بے وجہ پریشان سی کیوں‌ ہیں مادام؟
لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہوگی
میرے ماحول میں انسان نہ رہتے ہوں گے

مادام پریشان نہیں ہیں میرے بھولے شاعر. مادام تو ان کیڑوں مکوڑوں کے رینگتے وجود سے گھن محسوس کررہی ہیں. وہ تو اس تفعن زدہ ماحول میں گھٹن کا شکار ہیں. ان کو بھلا ان کچی آبادیوں, ٹوٹے مکانوں, ابلتے نالوں, ناکارہ اجسام, غربت زدہ چہروں اور فاقے زدہ زندہ انسانی لاشیں دیکھنے کی کہاں عادت ہے. وہ تو اس جمہوری اسلامی پاکستان کے اعلٰی طبقے سے تعلق رکھنے والی باوقار خاتون ہیں. میرے بھولے اور معصوم شاعر یہ وطن ایک جمہوری ملک ہے اس میں تجھے بھی وہی مقام حاصل ہے جو مادام کو ہے. مگر یہ کیا کہ تجھے کھانے کو روٹی بھی میسر نہیں اور مادام کے دسترخوان پہ ایک وقت میں اتنا کھانا ہوتا ہے جو تیری پوری کچی آبادی آسانی سے کھا لے گی. یہ کیا کہ تیرے اہل علاقہ لوگ سرکاری ہسپتالوں میں فرش پہ دم توڑ دیتے ہیں اور مادام کے کتے کا علاج بھی لندن کے بہترین شفاء خانوں میں ہوتا ہے. یہ کیا کہ تو تجھے اور تیرے لوگوں کو روز کارخانوں میں نوکریوں سے بےدردی کے ساتھ نکال دیا جاتا ہے اور تیرے گھر میں فاقے آکاس بیل کی مانند پرورش پاتے ہیں. یہ کیا کہ بھوک اور بیماری سے تیرا چہرا پیلا ہوتا ہے مگر مادام کا چہرے سیب کی مانند سرخ و سفید ہے. مزدوری اور اوقات کی سختی تیرے جسم کو کملا دیا ہے. میرے معصوم شاعر تو تو وطن کی محبت میں اپنا سب کچھ چھوڑ کے آگیا اور جب کوئی تیرے وطن کو برے کہے تو تیرا ہاتھ اس پہ اٹھنے کو بے تاب رہتا ہے لیکن یہ کیا کہ مادام کا طبقہ تو وطن میں موجود اپنے پست حالوں سے دولت چھین کر باہر لے جاتا ہے اور وطن دشمنوں کو سونپتا ہے. میرا شاعر واقعی ہی بہت معصوم ہے. غربت نے وقت سے پہلے ہی اسے بڑا کردیا ہے. لیکن یہ جمہوری دور ہے اسے حق حاصل ہیں وہ ووٹ دے سکتا ہے. وہ ووٹ جو اس کے پاس امانت ہے وطن کی. لیکن یہ کیا کہ یہ اپنا ووٹ بھی بیچ رہا ہے. یہ تو وطن کی امانت کے ساتھ خیانت کررہا ہے. شاعر “بے ایمان”, “لالچی” اور “خود غرض” ہے. میرے شاعر نے مادام کا مسئلہ ایسے حل کیا!
نورِ سرمایہ سے ہے روئے تمدّن کی جِلا
ہم جہاں ‌ہیں وہاں‌ تہذیب نہیں پل سکتی
مفلسی حسِّ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں‌ میں نہیں ڈھل سکتی!

میرا شاعر دوست بھوکا ہے. سیٹھ نے اسے نوکری سے اضافی سمجھ کے نکال دیا ہے. اب بھلا اس بھک منگے شاعر ہی کیا رونا روتے رہیں, مادام کا بھی تو زکر بدرجہ اتم لازم و ملزوم ہے. ان “کیڑے مکوڑوں” کی کیا اوقات? یہ تو گلیوں کے “آوارہ بے کار کتے” ہیں جن کا کام فقط دن میں لڑنا اور ایک دوسرے کو کاٹنا اور رات کو لڑ جھگڑ کے سو جانا ہے. مادام کے شوہر نے دیکھا ہے کہ ان کا منافع کچھ کم ہورہا ہے اور کارخانے میں سے سب زیادہ آسانی سے یہ مزدور زائد لوگوں کو نکالا جاسکتا ہے پس مادام کے شوہر نے ان “آوارہ کتوں” کو بھوک اور فاقے کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا ہے.
ان کے بچے کتنے غلیظ ہیں! دیکھو ناک بہہ رہی ہیں! کسی کے کپڑے پورے نہیں ہیں. مادام استعفار کرتی ہیں کہ ان کے بچے بیمار کیوں لگتے ہیں ان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے? او ہو! کس قدر غلیظ بستی ہے. مادام جمہوری سیاست میں حصہ لے رہی ہیں. اور وہ اس علاقے کے مسائل کے بارے میں جاننا چاہتی ہیں. وہ چاہتی ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں. اور یہ لوگ اچھی زندگی گزاریں. مادام ہمارے شاعرسے پوچھتی ہیں کہ یہ لوگ اس قدر غلیظ ماحول میں کیسے جیتے ہیں. بے حیا لوگ ہیں. مرد پورے کپڑوں میں نہیں اور عورتیں بھی گلیوں میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں. ہمارا شاعر برجستگی میں کہہ جاتا ہے!

لوگ کہتے ہیں تو لوگوں ‌پہ تعجب کیسا؟
سچ تو کہتے ہیں کہ ناداروں کی عزت کیسی
لوگ کہتے ہیں۔۔۔ مگر آپ ابھی تک چپ ہیں
آپ بھی کہیے، غریبوں میں شرافت کیسی!
انتخاب ہوا جنابہ مادام بھاری اکثریت سے مقابلہ جیت گئیں ہیں. ہمارے شاعر کو بلایا جاتا ہے, وہ جاتا ہے سیٹھ کے پاس. سیٹھ اسے کہتا ہے کہ تجھے نوکری بھی ملے گی اور پانچ ہزار روپے بھی. میری بیوی کو ووٹ دو. میرا شاعر دو دن سے بھوکا ہے. کیا کرے! ہاں بھوک کا علاج تو اس سے اچھا کوئی بھی نہیں دے گا. ہمارا شاعر اسے ہاں کرکے خوشی خوشی لوٹ آیا. ووٹ دیا! مادام کامیاب ہوگئیں. ہمارا شاعر خوش ہے. سوچتا ہے کہ چلو مادام سے مل کر ان کو مسائل کا ادراک نئے سرے سے کرایا جائے کیونکہ ان کا بےحد اسرار تھا کہ وہ اس بستی کی حالت کو سنوارنا چاہتی ہیں. مصروف لوگ ہیں ان کمتر لوگوں کی بستی کا بھلا کہاں زہن میں رہتا ہے. ہمارا شاعر خوشی خوشی مادام کے محل کے باہر پہنچتا ہے اور اندر داخل ہونے ہی لگتا ہے کہ گارڈ آتا ہے اور اسے دفعہ ہوجانے کا کہہ کر دھتکارتا ہے. محافظ اسے بھکاری سمجھ رہا ہے لیکن وہ اسے مسلسل یقین دلانے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ مادام کے بلاوے پہ ہی ادھر آیا ہے آج سے پہلے بھلا اس نے کبھی ہمارے شاعر کو ادھر آتے دیکھا ہے کیا?. اتنے میں مادام کی بڑی سی گاڑی محل سے نکلتی ہے, ہمارا شاعر ان کی طرف لپکتا ہے تاکہ ان کو یاد دلا سکے. محافظ ان کو ہمارے شاعر کی آمد سے متعلق بتاتا ہے. مادام سرد مہر رویہے اور بے رخی سے دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں نکالو اس بھک منگے کو, ” آجاتے ہیں غلیظ لوگ کہیں سے اٹھ کے”…
مادام کی گاڑی کے پیچھے سینکڑوں موٹر سائیکل اور کاریں ہیں. نعروں سے فضا گونج رہی ہے.
” جمہوریت زندہ باد”

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *