سابق صدر آصف زرداری کا مطالبہ۔۔۔

سیاست مفادات کا کھیل ہے،کم از کم ہمارے سماج اور سیاسی روایات کے اندر تو یہی ہوتا آ رہا ہے اور وراثتی سیاسی نظام کے کہنہ مشق کھلاڑی اپنے بچوں کو بھی اسی سبق کو یاد کرنے کی مشق کراتے ہیں۔سر گنگا رام اور، رائے ونڈ ہسپتال کے واقعات اپنی طرف متوجہ کیے ہوئے ہیں۔نون لیگ کے اندر توڑ پھوڑ اور پھر اس توڑ اور پھوڑ کا انکار کرنے والے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔لیکن مجھے دل چسپ بیان سابق صدر آصف علی زرداری کا لگا۔
ان کے گذشتہ سات آٹھ برسوں کی سیاست دیکھی جائے تو مکمل مفاہمتی اور مک مکا والی سیاست ہے۔ پیپلز پارٹی کا دائمی ووٹر اور کارکن مزاحمتی مزاج رکھتا ہے، مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے شوہر نے پارٹی پر ایک وصیت نامے کی مدد سے گرفت مضبوط کر کے جیالے کے مزاحمتی سیاسی مزاج کو تکلیف پہنچائی  اور خود آسودہ ہوئے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2013 کے عام انتخابات میں پارٹی سمٹ کے سندھ تک چلی گئی۔ اس کی اگرچہ دیگر کئی ایک وجوھات ہیں، مگر ایک بنیادی اور اہم وجہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور صدر آصف علی زرداری کی پالیسیاں بھی تھیں۔یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ پیپلز پارٹی جب محترمہ کی شہادت کے بعد اقتدار میں آئی تو اسے کئی بحرانوں کا سامنا تھا اور پھر بجلی بحران اور توانائی کے دیگر ایشوز کے ساتھ، دہشت گردی سمیت کئی مسائل نے یک بیک گھیر لیا، مگر یہ پارٹی کی نالائقی ہے کہ وہ ان معاملات کو سنبھال نہ سکی اور زرداری صاحب اپنی مدت پوری کرنے کے چکر میں لگے رہے۔
اپنی مفاہمتی پالیسی کو دوام دینے کے لیے انھوں نے پاکستان کی سیاسی روایات کے برعکس کسی بھی شخص یا سیاستدان کو سیاسی قیدی نہیں بنایا اور یہ غالباً 80 کی دھائی کے بعد پہلی بار پاکستانی تاریخ میں ہوا۔اس سب کے باوجود ، پارٹی کو وہ اٹھان نہ بخش سکے جس کی جیالوں کو امید تھی یا جو جیالوں کا مزاج ہے۔اب جبکہ لاہور کے حلقہ این اے 120 میں پیپلز پارٹی کا امیدوار بری طرح ناکام ہوا تو زرداری صاحب نے نواز شریف خاندان اور نون لیگ کے خلاف پہلی زوردار آواز اٹھائی اور مطالبہ کر دیا کہ انھیں گرفتار کیا جائے۔یاد رہے کہ پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جاری کیسز کے الزام میں فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کردیاہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کے مطابق پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ چونکہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف کرپشن کے سنگین مقدمات ہیں لہٰذا انہیں جلد از جلد گرفتار کیا جانا چاہیے۔تاہم اعلامیے کے مطابق انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورِ اقتدار میں کسی کو بھی سیاسی قیدی نہیں بنایا گیا۔ سابق صدر نے نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر اور پی پی پی رہنما ڈاکٹر عاصم کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بطور ملزم مختلف رویہ رکھنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ شریف خاندان کے فرد ہیں تو آپ کی ضمانت ایک دن میں منظور ہو جائے گی جبکہ ہمارے لوگ ڈھائی سال بعد ضمانت پر رہا کیے گئے۔
ایسا مطالبہ اپوزیشن پارٹی کے شریک چیئر مین کی جانب سے ایسے حالات میں آنا یقیناً پیپلز پارٹی کے ووٹرز اور جیالوں کو کسی حد تک چارج ضرور کرے گا، مگر زرداری صاحب اپنی اس جارحیت سے یہ پیغام دینا چاہ رہے ہیں کہ انھوں نے مفاہمتی پالیسی کو اب ایک حد سے آگے نہ جانے دینے کا سوچ لیا ہے۔یہ امر واقعی ہے کہ اگر شریف خاندان کے نامزد ملزمان گرفتار کر لیے جاتے ہیں تو ملکی سیاست کے سمندر میں کئی مدو جزر آئیں گے۔اس کا پیپلز پارٹی کو کتنا فائدہ ہو گا؟ یہ ابھی طے نہیں، البتہ جو افسوس ناک بات ہے وہ پیپلز پارٹی کے قائدین، یعنی بلاول بھٹو اور ان کے والد آصف علی زردای کی جانب سےمرکز اور پی ٹی آئی پہ مسلسل تنقید ہے، مگر وہ خود اپنا کوئی پروگرام یا لائحہ عمل نہیں دے پا رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو انتخابات میں کامیابی کے لیے اپنے منشور پر کام کرنا ابھی باقی ہے۔ اگرچہ خبریں ہیں کہ منشور پر ایک کمیٹی کام کر رہی ہے لیکن کیا منشور ایسا ہی ہو گا جو موجودہ عہد کے تقاضوں اور بالخصوص خطے کے حالات اور عالمی براداری سے تعلقات کی نئی جہت قائم کر سکے گا؟ کیا شریف خاندان کی گرفتاری کے بعد یہ مطالبہ زور نہیں پکڑے گا کہ سوئس اکاونٹس ہولڈرز کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ الزامات کی سیاست کے بجائے ایشوز کی سیاست کی جائےا ور پیپلز پارٹی آمدہ انتخابات اور ،اگر ان انتخابات میں اسے کامیابی ملتی ہے،تو حکومت بنانے کی صورت میں اس کے پاس کیا کیا منصوبے ہیں، یہ آشکار ہونا چاہیے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *