• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ٹینسی ولیمز: روح اور جسم کے تجریری روحانی محبت کا لایعنی ڈرامہ نگار۔۔احمد سہیل

ٹینسی ولیمز: روح اور جسم کے تجریری روحانی محبت کا لایعنی ڈرامہ نگار۔۔احمد سہیل

ڈرامہ نگار ٹینیسی ولیمز{Tennessee Williams} مسیسپی، کولمبس میں، 26 مارچ، 1911 میں پیدا ہوئے۔. کالج کی تعلیم کے بعد ریاست نیو اورلینز منتقل ھو گئے جہان ان کا خیال تھا کہ  یہاں ان کے ڈراموں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ جب وہ 28 برس کے تھے تو انھوں نے اپنا نام تبدیل کیا۔

31 مارچ، 1945 میں ان کا ایک ناٹک ” شیشے کے آئینے” نے ان کے شہرت دور دور پھیلا دی۔ اور ان کے لیے براڈوے کے دروازے کھول دئیے۔ دو سال بعد ان کا معرکتہ آرہ ڈرامہ “A Streetcar Named Desire” کو پولیٹرز انعام ملا۔. ٹینسی ولیمز کے اس ڈرامے پر فلم بھی بنی جس میں مارلن برانڈو اور الزبتھ ٹیلر نے کمال کی اداکاری کی تھی .1960 میں ٹینسی ولیمز پرمشکل وقت آیا تھا جب ان کے ڈراموں پر نقادوں نےمنفی اور خراب قسم کے تبصرے لکھے اور وہ آہستہ آہستہ ڈرامہ اور تھیٹر سےغائب ہو گئے۔ اور تیزی سے یہ عظیم ڈرامہ نگار شراب اور منشیات کی علت کا شکار ہوگیا۔

tripako tours pakistan

ٹینسی ولیمز نےاپنی   تحریروں کو حقیقت سے دور رکھا۔ پھر بھی ایسا کرتے ہوئے انہوں نے حقیقت کا ایک ایسا ورژن تخلیق کیا جو اکثر اس صورتحال کا انکشاف کرتا تھا جس سے وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے سارے کردار ایماندارانہ اور شریفانہ ماحول اور مقام میں پیدا ہوئے تھے۔ یہاں نہ تو کوئی عظیم ہیرو ہے ، نہ کوئی ولی، سنت، پارسا اور نہ ہی بدمعاش یا ولن ہے۔ بس یہ لوگ دنیا میں یا محض کسی اور شخص کی نظر میں اپنا مقام محفوظ رکھنے کی کوشش کرنے والے عیب دار لوگ ہوتے ہیں۔

اسی سبب ولیمز کو روزمرہ ،نامساعہ اور ناممکن حالات سے نمٹنے والے عام لوگوں کی طنز و مزاح اور مزاحیہ مکالمات کے ذریعے تصویر کشی کی ہے ۔ ان کے کردار طوائفوں اور ان کے دلالوں سے لے کر پودوں کے مالکان سے لےکر جوتوں کی فیکٹری میں کام کرنے والے شاعروں تک ہیں ، پھر بھی سب کو ایک پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زندگی میں بعض اوقات ایسے وقت بھی آتے ہیں جب چاہیں اور ذمہ داریاں ایک جیسی ہیں ، لیکن کسی وقت بھی یہاں تک کہ عارضی طور پر بھی وہ سوچتے ہیں کہ ایک دوسرے سے اپنا قد بڑھانے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔

فیصلے کے یہی وہ لمحے ہیں جہاں ٹینسی ولیمز نے اپنے ڈرامے ترتیب دیئے اور ہر کردار سے یہ حقیر فیصلہ کرنے کی اشد امید پیدا کی ہے جس کو وہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ ان کے کردار ہمیشہ روایتی معنوں میں فتح حاصل نہیں کرتے اور ناکامی ان کا مقدر بن جاتی ہے،اور یہ بات سمجھ سے باہر ہو جاتے ہیں ان کے ڈراموں کو ان کا قاری اور ناظرین ان کے ڈراموں کو کیسے برداشت کرلیتا ہے۔ – مگر ان کے کھیلوں میں انسانی روح قابل ذکر ہے جو ہر شخص میں رہتی ہے۔ جیسا کہ ولیمز کا سب سے زیادہ ان کے سوانح حیات نگار ٹام ونگ فیلڈ کا کہنا ہے ” ہم سب تاخیر سے لیکن ہمیشہ کسی ایسی چیز کی توقع کرتے ہیں جس کے لئے ہم زندہ رہتے ہیں۔”۔ جو انسان کی لایعنی صورتحال کا عندیہ دیتے ہیں۔

ولیمز اپنی فلموں سے  زیادہ مطمئن نہیں تھے۔ براہ راست فلموں کے لیے نہیں لکھا کرتے تھے۔ نہ تو لکھا تھا اور نہ ہی ان کو فلم کی پروڈکشن پرکوئی کنٹرول تھا۔ تاہم ، انھوں نے اپنے ڈراموں کی سالمیت کو برقرار رکھنے اور فلموں کے مجموعی فنی معیار میں کامیابی کی مختلف ڈگریوں کے باوجود ، اسکرین پر مستقل موضوعاتی ویژن فراہم کرنے میں ولیمز دوسرے ڈرامہ نگاروں کی نسبت زیادہ کامیابی حاصل کی۔ ایک اکائی کے طور پر کوئی پندرہ فلمیں ولیمز کی فکری اور اخلاقی کائنات کا یکجا احساس دیتی ہیں ، جس میں مضبوط موضوعاتی تسلسل کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

ولیمز کی فلموں میں معاشرے سے چھٹکارا حاصل کرنے والے کرداروں کے بارے میں اخلاقی کہانیاں ملتی ہیں ہیں۔ ان کی آخری فلمیں گہری فکر لیے ہوئے اور واضح طور پر مذہبی ہیں۔ پھر بھی اس کے کرداروں کی اخلاقیات کی وضاحت معاشرتی طبقے کے اعتبار سے نہیں کی جاسکتی ، جس طرح سے آرتھر ملر کے ہیرو متوسط طبقے کی ثقافت اور بورژوا نظریہ کے حوالے کرسکتے ہیں۔ اور نہ ہی اس کے مرکزی کردار کو دوسرے صفات جیسے کام یا پیشے کے لحاظ سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ ، ان کی جوہر ان کی مخصوص روحانیت اور محو نما شخصیات کے لحاظ سے پوری طرح گرفت میں لی جاتی ہے۔ موضوعی طور پر ، ان کی فلموں میں اخلاقی اور جسمانی خاتمے اور اخلاقی اور جسمانی تخلیق نو کی ضرورت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ در حقیقت ، ولیمز کی فلمیں سب سے آفاقی اور وجودی امور سے وابستہ ہیں: تنہائی ، جنسی جبر ، بدکاری ، زوال اور مایوسی کی انسانی حالت ان کے ڈراموں اور فلموں کا بنیادی مقولہ ہے۔

1969 میں ان کے بھائی نے انھیں منشیات کے ہسپتال میں داخل کروادیا اور کچھ دنوں بعد وہ صحت یاب  ہوکر واپس آگئے اور دوبارہ ڈرامہ نویسی شروع کی۔ ساتھ ہی اپنی اذیت ناک اور دردناک کہانی کو یاداشتوں کی صورت میں بھی لکھا۔ 1975 میں انھوں نے کئی ڈرامے لکھے اسی دوران ٹینسی ولیمز کثرت شراب خوری ، منشیات اور امرد پرستی اس قدر مبتلا ھوئے کی ان کی صحت روز بہ روز بگڑتی رہی اور 25 فروری 1983 میں نیویارک کے سٹی ہوٹل کے ایک کمرے میں انتقال ہوا۔
ٹینسی ولیم نے دو ناولز، انیس مختصر کہانیاں، اور دو نظموں کے کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی ڈراموں کی فہرست یہ ہے:
The Glass Menagerie (1944)
A Streetcar Named Desire (1947)
Summer and Smoke (1948)
The Rose Tattoo (1951)
Camino Real (1953)
Cat on a Hot Tin Roof (1955)
Orpheus Descending (1957)
Suddenly Last Summer (1958)
Sweet Bird of Youth (1959)
Period of Adjustment (1960)
The Night of the Iguana (1961)
The Eccentricities of a Nightingale (1962, rewriting of Summer and Smoke)
The Milk Train Doesn’t Stop Here Anymore (1963)
The Mutilated (1965)
The Seven Descents of Myrtle (1968, aka the Kingdom of Earth)
In the Bar of a Tokyo Hotel (1969)
Will Mr. Merriweather Return from Memphis? (1969)
Small Craft Warnings (1972)
The Two-Character Play (1973)
Out Cry (1973, rewriting of The Two-Character Play)
The Red Devil Battery Sign (1975)
This Is (An Entertainment) (1976)
Vieux Carré (1977)
A Lovely Sunday for Creve Coeur (1979)
Clothes for a Summer Hotel (1980)
The Notebook of Trigorin (1980)
Something Cloudy, Something Clear (1981)
A House Not Meant to Stand (1982)
In Masks Outrageous and Austere (1983

Avatar