جرنیلی سڑک۔ابنِ فاضل/قسط3

گوجرانوالہ سے نکلتے ہی یوں لگتا ہے جیسے اجمیر شریف میں داخل ہو رہے ہوں ۔ یا پھر جیسے مسلمانوں کا ویٹی کن سٹی ہو۔ سفید ریش بزرگان دین کی یہ قد آدم تصاویر سڑک کے دونوں اطراف ۔ ایک دفعہ تو انسان سمجھتا ہے کہ شاید یہ اسلام کا صدر مقام ہے ۔ اور تمام بہتر فرقوں کے موجد و مالکان کی بڑی بڑی تصاویر تعارف کے لئے لب سڑک آویزاں کر دی گئی ہیں تاکہ سند رہے اور بوقتِ اختلاف کام آویں۔ مگر جستجو کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ تو راہولی کا علاقہ ہے جہاں بہت اچھی قلفی بنائی اور بڑی تعداد  میں بیچی جاتی ہے اور یہ بڑے بڑے بورڈ قلفی بیچنے کے اشتہارات ہیں۔ اور باریش بزرگان اس تشہیری مہم کے ماڈل ۔ وطنِ عزیز میں رمضان نشریات کے بعد قلفی واحد چیز ہے جس کی تشہیر کے  لیے باریش بزرگ ماڈلز کا استعمال کیا جاتا  ہے وگرنہ تو ٹریکٹر کے ٹائر سے دھان کے سنڈی مار زہر تک اور داڑھی مونڈنے والے استرے سے لے کر بھینس کے دودھ تک کوئی اشتہارنازک اندام حسیناؤں کی جلوہ گری کے بغیر نا مکمل ہے ۔ راہوالی نام کس ‘راہ والی ‘ کا رہین منت ہے اور یہ تمام عمر ‘راہولی’ ہی کیوں رہی اور گھر والی کیوں نہ بن سکی اس پر ہمارا ایک علیحدہ سے ‘تحقیقی مقالہ ‘ بہ نام ‘راہولی کی قلفی’ موجود ہے ۔ ایک زمانہ تھا راہولی میں بہت بڑا چینی بنانے کاسرکاری کارخانه ہوا کرتا جو حوادثِ زمانہ اور ہوس حکام کی نذر ہو گیا ۔آج کل شاید قلفی، اس کے تیلے اور سفیدریش بزرگ ہی راہوالی کی سب سے اہم پیداوار ہیں۔

راہوالی سے گجرات کی طرف جاتے ہوئے ایک مشاہدہ عجب ہوتا ہے ۔ گاہے نوجوانوں کی ایک فوج جرنیلی سڑک پر موٹر سائیکلوں کو ایک پہیہ پر اڑاتے ہوئے سوئے وزیر آباد جاتی ہے اور پھر وزیر آباد سے واپس راہوالی کی طرف ۔ کوئی لیٹ کر موٹر سائیکل چلا رہا ہوتا ہے تو کوئی ہاتھ چھوڑ کر  ۔ بہت عقلِ سلیم کے گھوڑے دوڑائے ۔کہ اے خدایا یہ کیا معاملہ ہے ۔ بہت دوڑائے ،دوڑ دور کر تھک گئے بیچارے پر کچھ سمجھ نہ آیا۔ سوائے اس کے کہ یہ بندگانِ خدا اس سڑک کے خالق شیرشاہ کو اپنے اندازمیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں ۔ اُدھر ہماری عقلِ سلیم کے گھوڑے دوڑتے دوڑتے تھک ہار کر ایک ہوٹل پر سانس لینے کو رکے تو ہم بھی ان کے ساتھ ٹھہر گئے ۔ ہوٹل کا مالک ہمیں جہان دیدہ لگا جبکہ قابل خرگوشوی کو محض “نورجہاں” دیدہ ۔ پھر بھی ہم نے اس کو موٹر سائیکل والے نوجوانوں کی بابت سوال داغ دیا ۔ وہ تو خوب رہی کہ اس نے “داغ تو اچھے ہوتے ہیں”والا اشتہار دیکھ رکھا تھا سو بالکل نہ گھبرایا ۔

بولا اس علاقہ کے بہت سے لوگ حصولِ رزق کی خاطر دوسرے ملکوں میں گئے ہیں ۔یہ ان محنت کش آسودہ حال تارکین وطن کی ناخلف اولادیں ہیں۔ اوہ ہو ۔۔ سارا معاملہ ہماری سمجھ میں آگیا۔ “جو بیچارے محنتی باپ بیرونِ مُلک بارہ بارہ گھنٹے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر اپنوں کے لئے آسودگی کما رہے ہیں ۔ان کے آسودہ حال اپنے یہاں ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلا رہے “۔ لیکن یقیناََ اس معاملہ میں سارا قصور ان نوجوانوں ہی کا نہیں کچھ چوک ہم سے بھی ہوئی ہے ۔ اگر نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے  اظہار کے  لیے مناسب مواقع مہیا کیے جائیں تو نہ صرف یہ کہ اس طرح اپنی اور دوسروں کی زندگیاں خطرہ میں ڈال کر وہ اپنی ذہنی تطہیر نہ کریں ۔بلکہ شاید باقاعدہ تربیت سے یہ موٹر سائیکلنگ اور ایسے دیگر کھیلوں میں نام بھی پیدا کریں۔ اور ان کاموں کے لیے وسائل کی کمی کا رونا رونے کی بھی چنداں ضرورت نہیں، جس طرح بڑے بڑے مدرسے اور مسجدیں اپنی مدد آپ کے تحت بنائے اور چلائے جاتے ہیں اسی طرز پر کھیلوں کے میدان اور سٹیڈیم وغیرہ بھی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے تعاون سے بنائے اور چلائے جا سکتے ہیں ۔ اور یقیناً یہ بھی مدرسوں ہی کی طرح معاشرہ کے لئے مفید اور ثواب کا کام ہے۔

راہوالی کے بعد قصبہ گکھڑ آتا ہے ۔ ہم بچپن سے اس نام سے بہت متاثر ہیں ۔اور بہت متحیر بھی ۔ عجیب نام ہے ۔گکھڑ ، پتہ نہیں کسی شخص کے نام پر ہے یا کسی شے کے ۔ ایسا لگتا ہے کہ کہیں کوریا یا ہالینڈ سے درآمد کرکے لگا دیا گیا ہے ۔ ویسے ہم نے کبھی چیزوں پر غور ہی نہیں کیا ۔ ہمیں بالکل عادت ہی نہیں غور کرنے کی ۔حالانکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تھوڑا سا غور کرنے سے اس کی وجہ تسمیہ سامنے آجائے ۔ تو پھر غور شروع کرتے ہیں ۔ پہلے سادہ غور کریں ۔۔۔گکھڑ ۔۔۔گکھڑ ۔۔۔۔کچھ سمجھ آیا ۔۔۔۔۔۔نہیں۔ اب عینک آنکھوں سے ہٹا کر سر پر ٹکا دیں۔ اب غور کریں ۔۔۔۔گکھڑ ۔۔۔گکھڑ ۔۔۔۔ نہیں کچھ پلے نہیں پڑا ۔ اچھا بیٹے  اتنی جلدی مایوس نہیں ہوتے۔ اب ایک کوشش آنکھیں موندھ کے کر کے دیکھ لیں۔ چلیں۔ شاباش آنکھیں بند۔۔۔۔گکھڑ ۔۔۔گکھڑ ۔۔۔ اوہ ہو ۔ابھی بھی بات نہیں بنی۔ ایک دفعہ دایاں مُکہ دائیں گال کے نیچے ٹکائیں ۔اور آنکھیں بند کریں ۔بھئی واہ کیا مفکر لگ رہے ہیں زبردست ۔ اب غور کریں ۔ گکھڑ ۔۔۔کھگڑ ۔۔۔۔۔گاکھڑ ۔۔۔۔۔۔گوکھڑ ۔۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آیا ۔اس کا مطلب صرف غور ہی کافی نہیں ساتھ ساتھ علم کا حصول بھی ضروری ہے ۔

لیکن بہرحال غور ہی بنیاد ہے حصول علم کی۔ اگر ہم اس لفظ پر غور ہی نہ کرتے تو ہمیں اس کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی جستجو کبھی پیدا ہی نہ ہوتی۔ جیسا کہ آج تک نہیں ہوئی ۔ تو پھر قابل خرگوشوی سے پوچھتے ہیں ۔ گکھڑ اصل میں پوٹھوہار کے علاقہ میں ہزاروں سال سے بسنے والی ایک جنگجو قوم ہے۔ مشہور ہے کہ جاٹوں کی ایک قسم ہے۔ پوٹھوہار کے علاقہ میں انہوں نے باقاعدہ حکمرانی کا نظام وضع کیا ۔ گیارہویں صدی عیسوی سے اٹھارویں صدی تک اس علاقہ میں ان کی باقاعدہ حکومت رہی جس کا صدر مقام موجودہ تحصیل کہوٹہ کا ایک مقام پھروالہ تھا جہاں آج بھی قلعہ پھروالہ کے کھنڈرات موجود ہیں۔ گکھڑ واحد قوم ہے کہ جس نے بیرونی حملہ آوروں کا بساط بھر مقابلہ کیا ۔ کھاریاں اور جہلم سے جو قوم کے بہادر سپوت جوق در جوک فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اکثریت گکھڑ ہی ہیں۔ بطور خاص کیانی۔ اور یہ قصبہ انہیں کے نام سے ہے۔ گکھڑ کی مشہور پیداوار دریاں ہیں جو بچھانے کے کام آتی ہیں۔ ویسے بچھائی جا سکنے والی دوسری مشہور چیزیں پلکیں، کلیاں و پھول، دیدہ و دل سڑکوں کا جال اور غریب دا بال ہیں۔ جس طرح کلیاں اور پھول وغیرہ اگر نہ بھی بچھائیں جائیں تو یہ کلیاں اور پھول ہی رہتے ہیں اسی طرح اگر دریاں نہ بھی بچھائی جائیں تو بھی دریاں ہی کہلائیں گی۔ گکھڑ کی دری کے علاوہ کامران کی دری بھی مشہور ہے فرق صرف یہ ہے کہ وہ بارہ دری ہے۔

ویسے اگر کسی پٹھان نے درجن دریاں خریدنا ہوں تو وہ یوں بھی کہ سکتا ہے ۔۔خوچہ ‘بارہ دری’ کا کیا بھاؤ ہے۔ اور یہ گکھڑ ہی وہ جگہ ہے جہاں چوہدری عصمت صاحب دریوں کی نئی دکان کھولنا چاہتے تھے اور انہوں نے  اپنے پروفیسر دوست سے پوچھا بھئی ہماری دکان کے لئے اچھا سا نام تجویز کیجیے ۔ پروفیسر صاحب ایک لمحہ کے توقف کے بغیر بولے ‘عصمت دری ہاؤس ‘ سنا ہے آج تک چوہدری عصمت صاحب اپنے پروفیسر دوست سے نالاں ہیں ۔

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *