پناہ۔ مبشر زیدی

امریکہ میں لکھی گئی ایک کہانی، جو ناقابل اشاعت قرار پائی:

“کراچی میں پندرہ سال کے دوران باون ڈاکٹر قتل کیے گئے۔
مجھ پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا لیکن بچ گیا۔
مجبوراً ترک وطن کرنا پڑا۔”
ڈاکٹر صاحب نے بتایا۔
وہ ہیوسٹن میں کلینک کرتے ہیں۔
“آپ امریکہ ہی کیوں آئے؟
کسی قریبی مسلمان ملک چلے جاتے۔”
میں نے خواہ مخواہ کی بات کی۔
انھوں نے ٹھنڈا سانس لے کر کہا،
“میرے والد نے نصیحت کی تھی،
بیٹے! جب پناہ درکار ہو تو
عیسائی ملک چلے جانا،
اپنے قبیلے والوں کے پاس مت جانا۔
مکہ والوں نے مکہ والوں کو پناہ نہیں دی تھی،
انھیں نجاشی کے پاس جانا پڑا تھا۔”

مبشر علی زیدی
سنجیدہ چہرے اور شرارتی آنکھوں والے مبشر زیدی سو لفظوں میں کتاب کا علم سمو دینے کا ہنر جانتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *