ایک زندہ آدمی کا قصہ،جومرنا چاہتا تھا۔۔۔۔سعید ابراہیم

وہ میرے سامنے مکمل حواس اور سکون کیساتھ بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر ایک لمحے کیلئے بھی یہ گمان ممکن نہیں تھا کہ یہ زندہ شخص خودکشی کے ادھورے تجربے سے گزرنے کے بعد میرے سامنے بیٹھا ہے۔ اسے ہزاروں گیت ازبر تھے۔ اچھی بری پرانی یادوں کا ایک وسیع ذخیرہ بھی ذہن میں محفوظ تھا۔ نہ بیوی سے کوئی شکائت تھی نہ اولاد کی طرف سے کوئی پریشانی۔ بیٹیوں اور بیٹوں کا تعلیمی سفر بہت عمدگی سے طے ہورہا ہے۔ بلکہ ایک بیٹی تو سکالرشپ پر امریکہ جانے والی ہے۔ مگر اس کا خیال تھا کہ اولاد کو مامون مستقبل دینے کے بعد اسے زندگی کا سفر ختم کردینا چاہیے۔ مجھے وہ ایک ایسا شخص لگا جس نے شاید اولاد کو ایک محفوظ مستقبل دینے کو محض ایک دفتری اسائنمنٹ سمجھا ہو مگر اس کے اختتام پر اچیومنٹ کا کوئی جذباتی احساس موجود نہ ہو۔

پچپن برس کے اس انسان نے بظاہر ایک بھرپور زندگی جی۔ جس میں جی داری، دوست داری، سیاست، روائتی بدماشی (بد معاشی نہیں)، فلرٹ، آوارہ گردی، عمدہ ادب کا مطالعہ اور ادبی دوستیاں سبھی کچھ شامل تھا مگر اس کے باوجود اچھا خاصا بھرا ہوا آباد شخص خود کو بالکل خالی اور تنہا محسوس کررہا تھا۔

اس نے چار برس قبل بن باس لے لیا تھا جسکی صورت یہ تھی کہ اس نے خود کو ایک کمرے تک محدود کرلیا تھا۔ کہیں بھی کسی سے ملنے جانا چھوڑ دیا تھا۔ ہاں کوئی  ملنے آجاتا تو وہ ممکنہ حد تک زندہ دلی کی اداکاری کرتا جو اس کی کیفیت میں کسی اچھے یا برے جذبے کا کوئی پھول نہ کھلاتی۔ وہ نہ تو کوئی عام سا فرد تھا اور نہ ہی کسی نسبت سے غیر اہم، مگر اس نے خود کو ایسا ضرور سمجھ لیا تھا۔ شاید وہ پوری ذہانت کے باوجود خود اپنے آپکو سمجھنے میں ناکام ہوچکا تھا۔ وگرنہ اس کے پاس ایک بھرپور جیون جینے کے سبھی لوازمات اور صلاحتیں موجود تھیں۔

وہ میرے سامنے بیٹھا  بہت کچھ کہے جارہا تھا اور کچھ دیر بعد جیسے خواب سے بیدار ہوا اور بولا ”معلوم نہیں میں یہ سب کچھ اتنی آسانی سے کیوں بولے چلا جارہا ہوں؟” میں نے صرف اتنا کہا کہ مجھے معلوم ہے آپ میرے سامنے کیوں بول رہے ہیں۔ آدمی صرف وہیں اپنا اندر آشکار کرتا ہے جہاں اسے اپنی عزتِ نفس پر تہمت کا ڈر نہ ہو۔ اسے یہ نہ لگے کہ اسے سنتے ہوئے ،سامنے والا طعن و تشنیع یا پند و نصائح پر اتر آئے گا۔ وہ بےساختگی سے باتیں کرتے ہوئے بالکل ایک معصوم بچہ لگ رہا تھا۔

ہم سب بھی ایسے ہی ہیں۔ ہمارے اندر بھی ایک معصوم بچہ بیٹھا ہے مگر ہم اسے نظرانداز کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں۔ ہم سنجیدگی کے کلف سے اتنے اکڑ چکے ہیں ہمیں بچوں کی شرارتیں، بے ساختہ اچھل کود اور خوشی بھری چیخیں اچھی نہیں لگتیں، بدتہذیبی محسوس ہوتی ہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو بچپن کی بے ساختگی کھو کر ہمارے جیسے ”مہذب” بن جائیں۔

میرے سامنے بیٹھے شخص کا والد بھی ایسا ہی تھا اور ابھی تک ایسا ہی ہے۔ وہ کسی بھی اختلاف پر مکالمہ نہیں کرتا تھا، ڈنڈا اٹھاتا تھا اور بیٹے پر برسانے لگتا تھا۔ اس کا مسئلہ بیٹے کو حافظِ قرآن بنانا تھا، انسان نہیں۔ سو اسے اس کے پچپن کو قربان کرنے پر کوئی افسوس نہیں تھا۔ اپنی مرضی منوانے کے لیے اس کے پاس صرف دھونس، اور تشدد کا ہتھیار تھا۔

میرے سامنے ردِعمل میں بنا ہوا ایک شخص بیٹھا تھا جو پچھلے دنوں اپنی جان لینے کی پوری کوشش کرچکا تھا اور میں اس کے اندر چھپے خوبصورت مگر سرد ہوچکے جذبوں کو کرید کر اسے دکھانے کی کوشش کررہا تھا تاکہ اسے بتا سکوں کہ وہ وہ نہیں ہے جو خود کو سمجھ بیٹھا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *