عبادت کا صفر۔محمد اصغر چوہدری

انسان مذہبی ہوتے ہی متکبر کیوں ہو جاتا ہے ؟اس کے چہرے پرتبسم کی بجائے غضب کا غلبہ کیوں ہوجاتا ہے؟یہ سوالات ہمیشہ میرے ذہن پر دستک دیتے رہتے ہیں ۔ آپ کبھی ان لوگوں کے چہروں کا مشاہدہ کریں جو اچانک مذہب کی طرف راغب ہوجاتے ہیں کبھی ان کی حرکات و سکنات پر غور کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ایک نو دولتیے سیٹھ اور ایک نوزائیدہ مقدس شخص کے رویے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ جس طرح نو دولتیا سیٹھ باقی لوگوں سے زندگی کا حق چھین لینا چاہتا ہے ۔جس طرح وہ غیر معمولی پروٹوکول کا خواہشمند ہوتا ہے بالکل اسی طرح جوشخص دو چار مذہبی کتابیں پڑھ لے وہ دوسروں کو گنہگاریاجاہل سمجھنا شروع ہو جاتا ہے ۔

جوشخص دو چار دن لگاتار نمازیں پڑھ لے اسے دوسرے سارے بے نمازی جہنمی لگنا شروع ہو جاتے ہیں ۔اس نئے نئے نیک ہوئے شخص کی خود ساختہ سنجیدگی ،اس کے احساس تفاخر اور احساس برتری کی غماز ہوتی ہے انسانی نفسیات ہے کہ اگر اسے تھوڑی سی اہمیت یا عزت مل جائے تو وہ سمجھنا شروع ہوجاتا ہے کہ شاید اب اس کا استحقاق بن گیا ہے کہ اسے ہر جگہ خصوصی توجہ سے نوازا جائے ہر جگہ اس کی عزت کی جائے ۔ وہ چاہتا ہے کہ جب وہ کسی محفل میں آئے تو لوگ اس کو تحسین کی نگاہوں سے دیکھیں ۔ اس کے لئے اٹھ کر کھڑے ہوں اور وہ سب میں نمایاں ہو۔

دبئی ایئر پورٹ پر جب میں نے احرام باندھا تو میں نے دیکھا کہ ائیر پورٹ پرکام کرنے والا عملہ اور وہاں موجود دیگر مسافرمجھے نہایت احترام سے دیکھنا شروع ہو گئے ۔ چیک ان کے رستے میں ایک الیکٹرانک ترازوہ لگا ہو اتھا جہاں مسافر اپنا ہینڈ کیری بیگ کا وزن کر رہے تھے ۔ ائیر لائین کی پالیسی لکھی ہوئی تھی کہ سات کلو سے زیادہ وزن جہاز میں لیکر نہیں جا سکتے ۔ مجھے یقین تھا کہ میرے بیگ میں وزن زیادہ ہے میں اسے ترازوپر رکھنے لگا تو وہاں ڈیوٹی پر موجود ذمہ دار نے نہایت احترام سے اشارہ کیا کہ آپ جا سکتے ہیں ۔

اس سے آگے بڑھ کر جب میں سکیورٹی چیک کی لائین میں لگا تو سکیورٹی آفیسر نے مجھے اپنی طرف بلایا میں سمجھا اب شاید وہ میٹل ڈیٹکٹر سے میری تلاشی لے گا لیکن جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مصافحے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھادیا ۔ میں نے اس کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دیا تو پوچھنے لگا آپ حج پر جا رہے ہیں ۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو اس نے اپنے چہرے پر گہری سنجیدگی اور حسرت لاتے ہوئے مجھے کہا میری ایک درخواست ہے میں نے کہا ہاں کیوں نہیں کہنے لگاکیاآپ مکہ مکرمہ میں میرے لئے دعا کرسکتے ہو میں نے کہاضرور کیوں نہیں ۔ کہنے لگا بھول تو نہیں جائیں گے ۔ اس درخواست کے دوران وہ میرا ہاتھ چھوڑ نہیں رہا تھا جیسے مجھ سے پکی ضمانت چاہ رہا ہوں کہ میں کہیں وعدہ کر کے بھول ہی نہ جاﺅں ۔میں نے کہا ایک سیکنڈ مجھے تمہارا نام دیکھ لینے دو میں نے اس کی وردی پر لگااس کا نام پڑھا عبداللہ کے ساتھ بن فلاں بن فلاں تھا میں نے کہا عبداللہ میں نے تمہارا نام پڑھ لیا ہے انشا ءاللہ میں تمہارا نام لے کر دعا کروں گا ۔ اس نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے مجھے جانے کا کہا ۔

اس کے بعد امیگریشن آفیسرز کی لائن تھی وہاں بھی ایک پولیس مین لوگوں کو مختلف کیبن کی طرف گائیڈ کر رہا تھا مجھے دیکھ کر اس نے ایک کیبن کی طرف بڑے احترام سے جانے کا اشارہ کیا ۔ امیگریشن آفیسر کی آنکھوں میں بھی اسی احترام کی جھلک نظر آئی ۔سعودی عرب کے جد ہ ائیر پورٹ پر انسانی سروں کا ایک سمندر تھا ۔ آفرین ہے اس امیگریشن عملہ پرجوامیگریشن پراسس میں اتنے زیادہ لوگوں کو کلیئر کرتے ہیں ۔ سعودی امیگریشن عملہ کافی جوان تھا ۔ وہ اس کام کو بڑے ہلکے پھلکے انداز میں لے رہے تھے ۔ ان کے چہروں پر تھکاوٹ اور بے زاری نظر نہیں آئی ۔ جب میں نے اپنا پاسپورٹ ایک نوجوان آفیسر کے سامنے رکھا تو اس نے پاسپورٹ پکڑ کر خوشی سے شور مچادیا ”ایطالیہ “ ایطالیہ “ اور میرا پاسپورٹ اپنے دوسرے کولیگز کو دکھانا شروع ہوگیا وہ بھی جواباً مسکرا رہے تھے ۔

مجھے یاد ہے اتنی ہی خوشی مجھے بھی ہوئی تھی جب ایک اطالوی مسلمان کومیں نے پہلی دفعہ دیکھا تھااس نے مسجد میں خطاب کیا تھا وہ جب قرآن کی آیتیں پڑھتا تو میں بھی اسی طرح خوش ہوتا تھا جیسے کوئی بچہ خوش ہوتا ہے ۔امیگریشن آفیسر نے میرے ہاتھوں کے انگوٹھوں کے فنگر پرنٹ لئے پھر اشارے سے مجھے باقی کی آٹھوں انگلیوں کو ایک ساتھ مشین پر رکھنے کو کہا۔ جب میں نے انہیں فنگر پرنٹ لینے والی مشین پر رکھا تو اس نے اپنے ہاتھوں سے ان کو دبایا کہ فنگر پرنٹ ٹھیک طرح سے سکین ہوں ۔اس کے بعد اس نے پاسپورٹ پر دخول کی مہر لگائی اور مجھے کہا ”یا حاجی ویلکم ٹو سعودی عرب “

اب مجھے یہ اشتیاق تھا کہ اس اسلامی ملک میں اس نے میرے تو دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر فنگر پرنٹ لے لئے ہیں یہ خواتین کے فنگر پرنٹس کیسے لے گا ؟ میں نے دیکھا کہ اس نے اپنے ڈیسک پر ٹشو پیپرز کا ایک ڈبہ رکھا ہوا تھا وہ خواتین کے فنگر پرنٹس لیتے وقت ان کے ہاتھوں پر ڈیر سارے ٹشو پیپرز رکھ دیتا تھا تاکہ انہیں اپنے ہاتھوں سے چھونا نہ پڑے ۔

جدہ ائرپورٹ سے باہر نکلیں تو کچھ نوجوان موبائل کمپنیوں کے سم کارڈ بیچ رہے ہوتے ہیں سم کارڈ کے لئے شرط ہے کہ آپ کے پاسپورٹ کی کاپی اور آپ کے فنگر پرنٹ لئے جائیں ۔ نوجوانوں کے پاس کوئی دفترنہیں ہے ۔ نہ کسی کرسی میزکا جھنجھٹ اور نہ ہی کسی پرنٹر، فوٹو کاپئیر اور دیگر دفتری سامان کی ضرورت۔ایک نوجوان کو میں نے کہا کہ مجھے دو سم کارڈ چاہیے ایک میرے لئے ایک میری بیوی کے لئے انہوں نے دونوں پاسپورٹ طلب کئے ۔ان کے پاس آئی فون تھے اور ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی  ڈیوائس لگی ہوئی  تھی   جس پر وہ فنگر پرنٹ لے رہے تھے ۔

وہ وہیں کھڑے کھڑے سب کو سم کارڈ جاری کر رہے تھے وہ آئی فون ہی ان کا دفتر ،کمپیوٹر ، فوٹو کاپئیر ، پرنٹر اور سب کچھ تھا ۔ اس نے کھڑے کھڑے سارا فارم آئی فون میں فل کیا ، ساری بائیو ڈاٹا فیڈ کیا ، پاسپورٹ کی فوٹو لی ۔ اس کے ساتھ لگے ڈیوائس پر انگوٹھے کا پرنٹ لیا ۔ اور میری بیو ی کو کارڈ جاری کر دیا ۔ اس کے بعد اس نے میرا پاسپورٹ مانگا اس نے میرا پاسپورٹ دیکھتے ہی شور مچا دیا ۔ ایطالیہ یطالیہ ۔ انہیں انگلش صرف اتنی ہی آتی تھی کہ انہوں نے ویلکم ٹو سعودی عرب کہا تھا ۔

میر اپاسپورٹ دیکھ کر اس نے بڑی تحسین کی نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا انت ایطالوی اور میری بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا باکستانی ۔ پھر اپنے دوستوں کواپنے دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیاں جوڑتے ہوئے اشارہ کیا اطالوی اینڈباکستانی ۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ میں تو اطالوی ہوں لیکن میں نے ایک پاکستانی لڑکی سے شادی کی ہوئی ہے اور ا س پر وہ دونوں کہہ رہے تھے الحمد للہ ماشا ءاللہ یا اخی ۔ مرحبا میں نے انہیں اپنی انگریزی میں سمجھانے کی کوشش کی کہ میں بھی پاکستانی مسلمان ہوں لیکن ان کی خوشی سے یہی لگتا تھا کہ وہ مجھے نو مسلم سمجھ رہے تھے انہیں انگریزی کی سمجھ آنہیں رہی تھی اور میں ان کی خوشی ان سے چھیننا نہیں چاہ رہا تھا ۔

لوگوں کی نظروں میں اتنا زیادہ احترا م ہی ہے جو شاید کم ظر ف لوگوں کے نفس امارہ کوجگا دیتا ہوگااور وہ خودکو کوئی غیر معمولی شخصیت کا مالک سمجھ لیتا ہوگا اسی لئے بعض لوگ اپنے نام کے ساتھ حاجی صاحب لکھوانا پسند کرتے ہیں حالانکہ صحابہ ؓ میں سے کسی نے اپنے نام کے ساتھ حاجی نہیں لکھا ۔ میں نے اپنے دل میں کہا۔ یااللہ یہ لوگ تیرے در پر حاضری کی وجہ سے احترام دے رہے ہیں ۔ لیکن تو تو جانتا ہے کہ میرے اندر کاانسان کیسا ہے میرے اندر تقدس کی ایسی کوئی خاص بات نہیں کہ جس کی وجہ سے میرا احترام کیا جائے اے اللہ مجھے شیطان کے شر سے محفوظ رکھنا کہیں یہ سب ریاکاری کے ذمرے میں نہ آجائے ۔

یہ ریاکاری کیا ہوتی ہے ؟ دسویں جماعت میں ریاضی کے ٹیچر نے جب ہمیں صفر سے ضرب دینے کا پڑھایا تو ایک دن کہنے لگے جانتے ہو عبادت میں صفر کیا ہوتا ہے۔ کلاس میں خاموشی چھا گئی کہنے لگے ”ریا کاری “ ایسا صفر ہے کہ اگر اس کو انسان کی عبادت سے ضرب دی جائے تو ساری عبادت صفر ہوجاتی ہے ۔ میں نے خدا سے دعا کی اے اللہ اس ریا کاری کے صفر سے میرے دل کوپاک کر دے۔

شیخ سعدی بیان کرتے ہیں مجھے بچپن میں عبادت کا بہت شوق تھا.میں اپنے والد محترم کےساتھ ساری ساری رات جاگ کرقرآن پاک کی تلاوت اور نماز میں مشغول رہتاتھا.ایک رات میں اور والد محترم حسب معمول عبادت میں مشغول تھے ہمارے پاس ہی کچھ لوگ غافل پڑے فرش پہ سو رہے تھے،میں نے ان کی یہ حالت دیکھی تواپنے والد صاحب سے کہا کہ ان لوگوں کی حالت پہ افسوس ہے ان سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اٹھ کے تہجد کے  نفلیں ہی ادا کر لیتے ۔والد محترم نے میری یہ بات سنی تو فرمایا: کہ بیٹا دوسروں کو کم درجہ خیال کرنے اور برائی کرنے سے بہتر تھا کہ تو بھی پڑ کے سو جاتا۔

Save

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *