الف لیلوی قوم کی الف لیلوی غیرت۔بلال شوکت آزاد

ہماری قوم کو دور بہت  ہی دور  کی پریوں جنوں کی الف لیلوی کہانیوں کی طرح اصل زندگی میں بھی دور بہت  ہی دور کے ظلم اور جبر کے واقعات میں شدید دلچسپی ہے لیکن قریب بلکہ قریب ترین کسی طرح کا روا ظلم اور جبر ہماری قوم کی دلچسپی حاصل نہیں کرپاتا۔

وجہ کوئی بہت بڑی نہیں بلکہ بہت ہی معمولی سی ہے کہ ہم صرف سینہ کوبی اور شور و واویلہ کرنے والی قوم ہیں۔بہت ہی معذرت کے ساتھ لیکن ہمیں عافیہ صدیقی اور اس جیسی دیگر قوم کی بیٹیوں کا دکھ اور درد تو بہت بڑے پردے پر بہت دور سے نظر آجاتا ہے لیکن اپنے ہی ملک شہر محلے گلی میں کتنی عافیہ صدیقیوں کی زندگی حیوان سے بدتر ہے وہ ہمیں نظر نہیں آتی۔

ہمارا ظلم اور جبر پر جو میعار سیٹ ہے اس کی رو سے ہماری منافقت کا پردہ چاک ہوجاتا ہے کہ کوئی غیر مسلم کافر اگر چاند پر بھی ہماری کسی عزت دار بہن کا نام غلط انداز سے لے تو وہ ظلم عظیم بن جاتا ہے اور ہم تمام تر وسائل کا استعمال کرکے اس بد بخت کافر کا سر قلم کرنے کو بیتاب ہوجاتے ہیں لیکن یہیں ہمارے اردگردہماری کتنی پردہ دار اور پاک باز بہنوں کو خود ہمارے کلمہ گو غیرت مند بھائی کس طرح جسمانی اور روحانی طور پر ہراساں اور ذلیل کرتے ہیں لیکن من حیث القوم ہماری غیرت ستو پی کر سوئی رہتی ہے اور ہمارا ہاتھ ان کے گریبان تک تو کیا جانا ہماری انگلی اور آواز تک نہیں اٹھتی کہ جناب یہ ظلم ہوا ہے یہ بہت برا ہوا ہے۔ہماری ظلم اور جبر کی تعریف کافر کے لئے الگ اور خود کے لئے الگ ہے۔

خواتین پر ظلم و جبر اور ان کی تذلیل اسلام میں دور جہالیت کے اختتام کے ساتھ سختی سے ختم کردی گئی ہے لیکن زمانہ جدید میں جب پاکستان جیسے متشدد اسلامی شہریوں کو اسلام اور انسانیت کو پس پشت ڈال کر خواتین کی بدترین تذلیل کرتے دیکھتا ہوں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ زمانہ جہالیت میں اگر مذہب نہیں تھا تو وہ جاہل تھے لیکن ہم بطور مسلمان ان کو جہالیت میں بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔

گزشتہ ماہ سے آج کی تاریخ تک کم و بیش آٹھ دس ایسی نیوز سٹوریز میری نظر سے گزر چکی ہیں جن میں نشانہ ہدف اور ظلم کا شکار سراسر معصوم اور پردہ دار خواتین تھیں جو کہ ہماری مسلمان بہن بیٹیاں اور مائیں تھیں لیکن ہم جو اسلام کے قلعے کے چوکیدار اور عالم اسلام کی بہن بیٹیوں کے خدائی محافظ ہیں ان بہن بیٹیوں کے محافظ نہیں جو پاکستان میں ہمارے ہی ہاتھوں ذلیل و خوار ہورہی ہیں۔ہم نے خواتین کو ذلیل کرنے کے لئے علاقائی و بدعتی رسم و رواج بنائے ہوئے ہیں جن کی بدولت ہم خود ساختہ شرعیت اور آئین کا جھنڈا بلند کرتے ہیں۔

کبھی کسی بھائی کے معاشقے کی سزا بہن بھگت کر کاری ہورہی ہے تو کبھی کسی باپ کی خاندانی دشمنی کو صلح میں تبدیل کرنے کی قیمت کوئی بیٹی ونی ہوکر ادا کررہی ہے اور کہیں کوئی معصوم بچی قبر میں پاؤں لٹکائے کسی بڈھے کے ساتھ سوارہ کی سزا بھگت کر خاندان کے مردوں کے پاپ دھو رہی ہے۔

ابھی دودن پہلے ایک نیوز سٹوری کسی آن لائن ویب نیوز پر پڑھنے کو ملی کہ ڈیرہ اسمعیل خان کے کسی قصبے میں چند دشمندار اور توانا مردوں نے مخالف کے گھر کی سولا سالہ جوان بیٹی کو گھر سے اٹھا کر سر عام برہنہ  کیا اور قصبے کا چکر لگوایا۔اور یہی نہیں بلکہ کسی کو اس کی مدد نہیں کرنے دی, کسی کو آگے آکر اس کی برہنگی چھپانے نہیں دی اور نہ ہی کوئی اس قصبے میں اتنا غیرت مند نکلا کہ ایک بہن بیٹی کی برہنگی کو چھپانے کی خاطر ان چار پانچ غنڈہ صفت لوگوں سے براہ راست ٹکرا جاتا۔

ہاں تب بات اور ہوتی اگر وہ اس قصبے کے کسی باغیرت مسلمان پاکستانی کی اپنی بیٹی ہوتی یا پھر وہ عافیہ صدیقی جیسی کوئی دور بیٹھی مظلوم قوم کی بیٹی ہوتی تو غیرت کا طوفان امڈ پڑتا کہ صرف سینہ پیٹ کر ہائے ہائے ہی تو کرنی تھی اور کون سا راکٹ چلانا تھا۔مین سٹریم میڈیا پر تو خیر مجھے یہ خبر سننے اور دیکھنے کو نہیں ملی کہ ان کی ترجیحات آج کل عوامی مسائل نہیں بلکہ سیاسی و سازشی مسائل ہیں۔

ہمارے وہ اینکر پرسن جو دور کی کوڑی لانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے وہ بھی ایسے موضوعات کو تب تک نہیں چھیڑتے جب تک ذلیل ہونے  والی متاثرہ عورت ان سے بھی سرعام عوام کے سامنے ذلیل ہونے اور اس ذلالت کی تگڑی قیمت وصول کرکے آدھی آدھی بانٹنے پر راضی نہ ہو یا سول سوسائٹی کے نام پر چلنے والی کسی سرخیل عورت کی این جی او کا ہاتھ سر پر نا ہو تو وہ صحافی بھی  گونگے بہرے   بنے رہتے ہیں۔

میں اسی لئے اس قوم کو الف لیلوی کہنے پر مجبور ہوا ہوں کہ انہیں مصالحے دار بھڑکیلی کہانیاں سننے اور ان پر جذباتی ردعمل دینے کا تو بہت علم اور شوق ہے لیکن ارد گرد موجود اصل چیختی چلاتی زندگی پر ان کے دیدے خشک اور لب سلے ہوئے جبکہ ہاتھ ذہنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ہم کسی عافیہ صدیقی کسی ملالہ کی کہانیوں کو تو دلچسپی سے سن پڑھ کر تبصرے اور تجزیے کرنے اور تحریکیں  چلانے میں تو بہت ماہر ہیں لیکن کسی معصوم بہن بیٹی کہ جو ہمارے لئے ہماری بے حسی کی بدولت گمنام ہےکو اہمیت دینے اور اسکی آواز بننے سے قاصر ہیں۔

من حیث القوم تو ہم الف لیلوی ہیں ہی لیکن ہماری غیرت, حمیت اور شرم و حیا کے ساتھ ہمارے ایمان بھی الف لیلوی بن چکے ہیں۔دنیا کے دوسرے کونے پر ہونے والے ظلم و جبر کی خبر تو ہمیں منٹوں میں ہوجاتی ہے اور ہم اس پر ہر طرح کا ردعمل بھی منٹوں میں دے دیتے ہیں لیکن اپنے ہی ملک میں کسی بھی طرح کا ظلم و جبر ہوجائے تو ہمیں دنوں تک خبر نہیں ہوتی اور اگر خبر ہوتو اسے نظر انداز کرنے میں چند سیکنڈ کا وقت نہیں لگاتے۔

معذرت لیکن میں عوام کو یاد کرانا چاہتا ہوں کہ یہ ملک بھی نام نہاد اسلامی ہی ہے اور یہاں بسنے والی عوام خاص کر خواتین بھی مسلمان ہی ہیں۔اس لئے ان کی زندگیوں کی تلخیوں اور ذلالت کا بھی مڑکر پتہ لے لیں اور تھوڑی اسلامی و انسانی غیرت ادھر بھی دکھا لیں۔جب یہاں کی بہن بیٹیوں پر روا جاہلانا و غیر انسانی ظلم روک نہیں سکتے تو کس منہ سے کشمیر, فلسطین, برما, شام اور صومالیہ کی بہن بیٹیوں کے محافظ و مجاہد بننے کے دعویدار ہو؟

اپنے درمیان موجود بھیڑیوں کا تو قلع قمع کرلو پھر بہت وقت اور جگہیں ہیں امت کا درد بانٹنے اور لڑنے مرنے کو۔چھوڑ دو یہ الف لیلوی طرز عمل زندگی کے ہر معاملے میں اور حقیقت پسند بننے کی جانب قدم اٹھاؤ۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *