قبائلی سردار۔۔۔محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

عثمان بزدار صاحب کی کارکردگی پہ آج کل بہت تنقید کی جارہی ہے۔ ایک منظم میڈیا کمپین چلائی جا رہی ہے بلکہ جب سے وہ وزیراعلیٰ بنے ہیں ،میڈیا سمیت تمام نسل در نسل سیاستدانوں سے یہ ہضم ہی نہیں ہو رہا کہ اتنے پسماندہ علاقے کا کوئی شخص وزیراعلیٰ کیسے بن سکتا ہے ؟ لاہور اسلام آباد جیسے شہروں میں رہنے والی مخلوق جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اچھوت اور کم عقل سمجھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بیوروکریسی میں جنوبی پنجاب کے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنوبی پنجاب کے لوگ مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا ذہین نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ بیوروکریسی کی بددیانتی ہے، جو ہمیشہ سے ان کی نیتوں پہ حاوی رہی ہے ،کہ سول سروس ان کی خاندانی ملکیت ہے اور اس ملک پہ ہمیشہ انہی کا راج رہے گا ۔

اگر بات ذہانت کی ہے تو اسکو بھی کمپیئر کر لیتے ہیں۔ اگر آپ صرف تونسہ شریف کے لوگوں کو ہی لے لیں اور سروے کروائیں تو آ پ کو تونسہ شریف کے تقریباً ہر گھر سے کوئی ڈاکٹر, انجینئر ضرور ملے گا۔ اس وقت پورے پاکستان میں بلکہ دنیا میں جنوبی پنجاب کے ڈاکٹرز اور انجینئرز کام کر رہے ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ایک نوجوان FSC میں بہترین نمبر لے کے ڈاکٹر تو بن جاتا ہے لیکن وہ CSS کے امتحان میں ناکام ہو جاتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایک عام بی اے پاس لڑکا سی ایس ایس کلیئر کر کے بیوروکریٹ بن جاتا ہے؟۔ اس پہ سوچنے کی ضرورت ہے۔

ایسا ہی کچھ عثمان بزدار صاحب کے ساتھ ہو رہا ہے۔ پہلے دن سے ہی ان کے خلاف ایک میڈیا وار لانچ کر دی گئی،قصہ کچھ ایسے بنا کہ اگست میں وزیراعلیٰ کے منصب کا بوجھ اٹھانے کیلئے کچھ لوگوں نے شیروانیاں سلوانے کے آرڈر دینے شروع کر دیئے۔ جن میں میرے ایک قریبی عزیز جہانزیب خان کھچی, لاہور کے علیم خان صاحب, سبطین خان صاحب,اسلم اقبال صاحب اور کئی نامور سیاستدان شامل تھے۔ علیم خان صاحب نے تو باقاعدہ طور پہ بیوروکریسی سے مبارک بادیں وصول کرنا شروع کردیں بلکہ اپنی کابینہ بھی ترتیب دینا شروع کر دی۔

لیکن حکمران کا فیصلہ تو اللہ رب العزت کی ذات کرتی ہے۔ قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔۔۔ 17 اگست کی شام کو اچانک عمران خان نے بزدار صاحب کی نامزدگی کا اعلان کر دیا ۔
کئی دل چھناکے سے ٹوٹ گئے ۔ارمانوں کے خون ہو گئے۔ تخت لاہور کے پتھر دل مالک جو جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ہمیشہ نااہل سمجھتے تھے۔وہ عثمان بزدار جیسے بھلے مانس آدمی کو کہاں قبول کرنے والے تھے۔خود کو گیم چینجر سمجھنے والے چاروں شانے چت ہو گئے۔ لیکن کہاں خاموش رہنے والے تھے۔ ہم جیسے نسل در نسل غلام لوگوں کو حکمران بنتے دیکھنا سٹیٹس کو کی موت تھی۔
عمران خان کے اس فیصلے سے موت کی سی خاموشی چھا گئی۔۔طوفان سے پہلے والی خاموشی، پھر فون کی طوفانی گھنٹیاں بجیں،73 سالہ غلیظ بدبودار گلا سڑا مافیا حرکت میں آیا،بکاؤ ٹی وی چینلز حرکت میں آئے،ہم مقصد اکھٹے ہوئے۔۔ فیصلہ ہوا”بزدار کا راستہ روکو “،آنا ًفاناًبریکنگ نیوز چلنا شروع ہوئیں۔

ایک مشہور ٹی وی چینل پہ تین گھنٹے کی مسلسل بریکنگ نیوز چلی”عثمان بزدار قاتل نکلے “۔میڈیا ٹرائل اتنا خوفناک تھا کہ پورے ملک میں بھونچال آگیا۔میرے جیسا شریف آدمی بھی سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ عمران خان نے غلط فیصلہ کیا ہے۔
بالآخر اسلام آباد سے لاہور کے معروف سیاستدان کو شٹ اپ کال دی گئی اور عمران خان کودوبارہ ٹی وی پہ آکے اعلان کرنا پڑا کہ عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ ہوں گے۔ سب کو سانپ سونگھ گیا۔شیروانیاں کھونٹیوں پہ ٹنگی رہ گئیں۔لیکن لوگ بڑے کینہ پرور ہوتے ہیں۔۔۔موقع ملتے ہی ڈنک مارتے ہیں اور اس وقت یہی کچھ بزدار صاحب کے ساتھ ہو رہا ہے۔اپنے پرائے سب بزدار صاحب کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔بزدار صاحب کا قصور یہ ہے کہ وہ ایک غریب آدمی ہے۔پرائمری سکول بارتھی سے پڑھا (بارتھی ایک نہایت پسماندہ پہاڑی علاقہ ہے) ۔بارتھی جانے کا اتفاق ہوا۔ 3 گھنٹے کے کٹھن پہاڑی سفر کے بعد بارتھی پہنچا۔ بزدار صاحب کا گھر دیکھا تو عمران خان کی wisdom اور بزدار صاحب کی قسمت پہ رشک آیا اور دماغ میں بس ایک ہی بات گونجی”و تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ”۔

ایک قبائلی پسماندہ علاقے کا لڑکا آج سے 28 سال پہلے سیاسیات میں ماسٹرز کرتا ہے۔لاء کرتا ہے۔ اور پھر اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے اس وقت ہمارا پورا سیاسی نظام اسے ان پڑھ ثابت کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔۔ کیونکہ لغاری, مزاری,کھچی,قریشی,اور بہت سے سیاسی خاندان جو 73 سال سے خود کو اس قوم کا خود ساختہ نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ انکے پیٹ پہ لات پڑی ہے۔کسی سے یہ ہضم ہی نہیں ہو رہا کہ ایک عام قبائلی آدمی حکمران بن جائے۔اپنے پرائے سب ناکام کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
جو لوگ قبائلی کلچر کو نہیں جانتے۔۔ ان کیلئے عرض ہے کہ قبائلی سردار انصاف کرنے اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔اس لیے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عثمان بزدار فیصلہ سازی میں کمزور ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔اگر آپ نے کارکردگی کی جانچ کرنی ہے تو بیوروکریسی سے پوچھیے،جو بیوروکریٹ خود کو کبھی سپریم سمجھتے تھے اور اپنے ائیر کنڈیشنڈ آفس سے نکلنا اپنی شان میں گستاخی تصور کرتے تھے۔

یقین کیجیے اب انکی حالت دیکھ کے ترس آتا ہے۔ عثمان بزدار قبائلی سردار ہے اور قبائلی بڑے جفاکش ہوتے ہیں تو بزدار صاحب اس ولائتی بیوروکریسی کو بھی قبائلی سمجھ بیٹھے، اور ان سے اپنے انداز میں کام لینا شروع کر دیا۔وہ اب دن رات اپنی پروگریس دکھانے کیلئے پاگلوں کی طرح دوڑے پھر رہے ہیں۔میں نے بڑے بڑے بیوروکریٹس کو دور دراز علاقوں میں بھوک مٹانے کیلئے پکوڑوں کے ساتھ روٹی کھاتے دیکھا ہے۔منرل واٹر پینے والوں کو گاؤں کے ہتھ نلکے سے پانی پیتے دیکھا ہے،بان کی بْنی چارپائیوں پہ کمر سیدھی کرتے دیکھا ہے۔
نواب امیر محمد خان مرحوم کے بعد اگر کسی حکمران نے بیوروکریسی کو ” ڈانگ دی ہے ” تو وہ عثمان بزدار ہی ہے۔ورنہ 35 سال تک تو ہم گلہری کی پھرتیوں سے ہی محظوظ ہوتے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
اور میں بزدار صاحب سے بھی یہی کہوں گا کہ اللہ نے موقع دیا ہے یہ وزارت اعلیٰ ﷲ کی عطا ہے۔ کسی سے ڈرو مت اور ان سے اتنا کام لو کہ آئندہ یہ اپنے بچوں کو ڈاکٹر انجینئر بنائیں۔۔۔ بیوروکریٹ نہ بنائیں۔آپ یقین کیجیے آپ کی جرات و استقامت کی داد دیتا ہوں۔ اگر آپ نے یہ استقامت برقرار رکھی تو قوم آپکو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
رہی بات پنجاب حکومت کی کارکردگی کی تو آئیے اس پہ بھی نظر ڈال لیتے ہیں،آج ہم تبدیلی اور بڑے بڑے دعوے کرنے والوں کا ذکر کریں گے ۔
کیا کسی ملک میں تبدیلی سڑکوں،پلوں یا عمارتوں کی تعمیر سے آتی ہے یا ملکی معیشت اور قومی اداروں کی بہتری سے آتی ہے؟
کیا تبدیلی جھوٹی اور جعلی سکیموں سے عوام کے اربوں روپے ہڑپ کرنے سے آتی ہے یا عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کرنے سے آتی ہے؟
تبدیلی کس بلا کا نام ہے آج ہم اس پر غور کریں گے۔

تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار میں آئے ڈیڑھ سال بیت گیا ہے اگر ہم اس دوران حکومت پنجاب اور وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیں تو لگتا ہے کہ سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب حکومت نے 5 سال کا کام ایک سال میں مکمل کر لیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ہم اداروں کو خود مختار بنا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی قیادت میں حکومت پنجاب نے عوام کی فلاح وبہبود اور معیار زندگی بلند کرنے کےلئے بے شمار اقدامات اٹھائے جن کو ملکی وغیر ملکی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی اور عوام کا سیاسی نظام پر اعتماد بحال ہوا۔ وزیراعلی کی جانب سے محکمہ صحت پنجاب میں یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور،مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال لاہور کا قیام، ٹیچنگ ہسپتال ڈی جی خان میں گائنالوجی بلاک کا قیام،ٹریثری کیئر ہسپتالوں میں 279وینٹی ولیٹرز،199آئی سی یو بیڈز اور 333پیشنٹ مانیٹرز کی فراہمی،پنجاب میں صحت انصاف کارڈز کی فراہمی، ڈی جی خان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام، ڈی ایچ کیو ڈی جی خان کی اپ گریڈیشن، ٹیلی میڈیسن کی سہولت،میانوالی،لیہ اٹک اور راجن پور میں 200بیڈز کے حامل مد ر اینڈ چائلڈ ہسپتال اینڈ نرسنگ کالج کا قیام،ہسپتالوں میں معیاری ادویات کی فراہمی، THQsاورRHCsکی ری ویمپنگ،16اربن ہیلتھ سنٹرزکا قیام، وزیراعظم ہیلتھ اقدامات کے تحت 8ارب روپے کی لاگت سے 18اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، پنجاب کی 38جیلوں میں HIVسکریننگ سہولیات کی فراہمی،نوجوانوں میں ایڈز سے بچاؤ کےلئے صوبہ بھر کے تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم کا آغاز، تعلیمی اداروں میں ماڈل ہیلتھ رومز کا قیام،کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے شکایات کا ازالہ،سکول ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن پروگرام کا آغاز، اینتھسیزیا ماہرین کی کمی کو پورا کرنے کےلئے 225نئے میڈیکل افسران کی تربیت،17ہزار ڈاکٹروں کی بھرتی اور سرکاری ہسپتالوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کے منصوبہ جات سمیت بے شمار اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

اگر پنجاب کے دوسرے اہم محکمہ محنت وانسانی وسائل کی بات کی جائے تو وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے نئی لیبر پالیسی کے تحت 6نئے قوانین ،PESSIآرڈیننس میں ترمیم،کام کے دوران اتفاقی حادثات اور خطرات کی طرف توجہ دلوانے کےلئے پنجاب آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2019، معاشرے کے کمزور ترین طبقے اور گھریلو ملازمین کی داد رسی کےلئے پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ2019،مزدوروں کے تحفظ کےلئے پنجاب minimum ویجز ایکٹ2018میں کم سے کم ماہانہ تنخواہ 16500روپے کا تقرر،گھریلو ملازمین اور ان کے مالکان کی رجسٹریشن کے لئے آگاہی مہم کا آغاز،ورکرز ویلفیئر فنڈز کی فوری فراہمی کے لئے قانون سازی،کمپنی ملازمین کی فلاح وبہبود کےلئے قانون سازی،صنعتی ملازمین کی فلاح وبہبود کےلئے نیا پیکج، بچوں کےلئے ہاﺅسنگ کی سہولت،شادی گرانٹ،مفت تعلیم اور وظائف ،سرکاری ملازمین کے بچوں کےلئے میرج گرانٹ میں تین گنا اضافہ،سرکاری ملازم کی وفات کی صورت میں 50ہزار جنازہ گرانٹ اور بیوہ کی ماہانہ گرانٹ 5ہزار سے بڑھا کر تاحیات20ہزار روپے تک کا اضافہ، 2012 سے کھٹائی میں پڑی لیبر کالونیوں کی الاٹمنٹ کی بحالی،ملتان اور لاہور میں 3کالونیوں کی تکمیل، 700 خالی آسامیوں پر میرٹ پر بھرتی ،208پرائمری سطح کے اساتذہ کی ترقی، PESSI قوانین میں ترمیم کی بدولت ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو صحت انصاف کارڈ کی فراہمی،تمام سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، رحیم یار خان، سرگودھا اور ڈی جی خان میں نئے سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کا قیام اور کاروباری مراکز اور اداروں کی رجسٹریشن جیسے اقدامات شامل ہیں۔
کورونا وائرس جیسی موذی وبا سے نمٹنے کیلئے ہزاروں بیڈ ,ایکسپو سینٹر کو ایک ہفتے میں ہی 10000 بیڈ کے ہسپتال , میں تبدیل کر دینا جیسی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی سربراہی اور نگرانی میں تمام ادارے ملکی ترقی اور عوام کو ریلیف دینے کےلئے تمام تر توانائیاں خرچ کررہے ہیں۔ وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اور وزیر محنت وانسانی وسائل انصر مجید خان کی سربراہی میں دونوں محکمہ جات میں اٹھائے گئے اقدامات انتہائی قائل ستائش اور لائق تحسین ہیں۔ وزیراعلی پنجاب کی ٹیم دن رات ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کےلئے کوشاں ہے۔اللہ پاک کے حضور تحریک انصاف کو ملکی ترقی کا سبب بنانے کےلئے دعا گو ہیں۔
میری نظر میں عثمان بزدار پنجاب کیلئے بہترین حکمران ثابت ہوا ہے۔وقت نے ثابت کیا ہے کہ عمران خان نے بہترین انتخاب کیا ہے۔
اللہ رب العزت آپ سب کو خوشیاں عطا فرمائے!آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *