قطلان ریفرینڈم عوام اور سیاست ۔عمیر فاروق

SHOPPING

قطلونیہ کے ریفرینڈم پہ آپ پہلے ہی کافی کچھ پڑھ چکے ہوں گے ، ہسپانوی معیشت میں قطلونیہ کا حصہ، قطلان علیحدگی پسندی کی تاریخی جڑیں یا کتنے فیصد قطلان عوام ہسپانیہ سے علیحدگی کے خواہشمند ہیں وغیرہ۔ ہمارا مقصد انہی کو دوبارہ سے بیان کرنا نہیں بلکہ کچھ ایسے گوشے اجاگر کرنا ہے جن کی طرف بوجہ مین سٹریم میڈیا نے دھیان نہ دیا لیکن ان کا عوام کے نفع و نقصان سے گہرا تعلق ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ قطلان ریفرینڈم غیرآئینی تھا جسے ہسپانوی سپریم کورٹ نے بھی غیرقانونی قرار دے دیا تھا لیکن اس کے باوجود قطلان جنرالیتات کے صدر کارلس نے اس پہ اصرار کیا اور اس کا انعقاد کروایا۔ دوسری طرف ہسپانوی صدر ماریانو راخوئی کا رویہ بھی کافی سخت تھا وہ یہ جانتا تھا کہ ایک غیرقانونی ریفرینڈم کے نتائج سرے سے قابل نفاذ ہوں گے ہی نہیں لیکن پھر بھی اس نے پولیس اور گارڈ یا سول کو دخل اندازی کرکے ریفرینڈم کو درہم برہم کرنے کا حکم جاری کیا اسے یہ بھی اندازہ ہوگا کہ اس ریفرینڈم کو مکمل طور پہ روکا نہیں جاسکے گا اور یہ عمل محض پولرائزیشن کو ہوا دے ایسی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئیں گی جن پہ انسانی حقوق کے زاویہ سے اعتراض کیا جاسکے گا اور علیحدگی پسندوں کو بصری شہید نصیب ہوں گے۔ عام فہم کی رو سے راخوئی کا رویہ سیاسی طور پہ درست نہ تھا لیکن پھر بھی اس نے اس کا ارتکاب کیا۔

کہا جاتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔
جی ہاں دل چاہے نہ ہو سیاست کے سینہ پہ جیب ضرور واقع ہوتی ہے اور اسی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ عوامی مفاد وغیرہ نعروں میں ہی جگہ پاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قطلونیہ کی موجودہ حکمران پارٹی نے کبھی علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا تھا۔ اور یہ اپنے طرز سیاست میں دائیں بازو کی ہی جماعت ہے جس نے امیر طبقہ پہ ٹیکسز بڑھانے کی کبھی کوشش نہ کی اور مفت تعلیم یا علاج کبھی بھی اس کے لئے اہمیت کے حامل نہ رہے۔ لیکن یہ سب اس بڑے سوال کا حصہ ہی ہے کہ آخرکیوں قومیت پرست جماعتیں علیحدگی کے سوال کے علاوہ اپنے طرز سیاست میں دائیں بازو کی سیاست ہی اختیار کرتی ہیں اعلی طبقہ اس سیاست سے فیضیاب ہوتا ہے اور وسیع تر عوامی مفاد ان کی توجہ کا مستحق کم ہی ٹھہرتا ہے۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ ملکی مین سٹریم دایاں بازو قومیت پرستوں سے مکالمہ سے انکار کرتا ہے اور مین سٹریم بایاں بازو ان سے مکالمہ کی راہ کو ترجیح دیتا ہے اس لئے شاید ان کو بائیں بازو سے نتھی کردیا جاتا ہے۔

بہرحال حالیہ قطلان صدر کارلیس پچمونت پہ کرپشن کے اعتراضات اٹھنا شروع ہوئے تھے اور ناجائز دولت اندورا اور دوسری جگہوں پہ چھپائے جانے کے الزامات تھے جو کارلیس کی مقبولیت کو مجروح کرنے کے باعث تھے۔ شاید اس لئے اس نے یہ ہنگامہ خیز قدم اٹھایا۔

ہسپانوی صدر ماریانو راخوئی دائیں بازو کی جماعت پاپولر پارٹی کا سربراہ ہے۔ ۲۰۱۱ کا الیکشن جیتنے کے بعد ۲۰۱۲ میں بینکوں کو جس طرح بیل آؤٹ کیا گیا اس پہ بہت سارے اعتراضات تھے بلکہ کرپشن کے الزامات تھے کیونکہ بینکوں کو من مانی مراعات دے کر بیل آؤٹ کیا گیا اور اس خسارے کا سارا بوجھ عوام پہ ٹیکسوں کی شکل میں نازل کردیا گیا تب سے ہسپانوی معیشت مسلسل بگڑتی گئی۔ پچھلا الیکشن یہ پارٹی اصولی طور پہ ہار چکی تھی لیکن نئی ابھرنے والی بائیں بازو کی جماعت پودیموس کے ساتھ کولیشن حکومت بنانے پہ بائیں بازو کی دوسری جماعتیں ہی تیار نہ تھیں تو واحد بڑی پارٹی ہونے کے ناتے پاپولر پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع مل گیا لیکن راخوئی اور پاپولر پارٹی کی مقبولیت نچلی ترین سطح پہ آگئی تھی۔

ایک غیر قانونی ریفرینڈم پہ جارحانہ اصرار اور اس کو یکساں طور پہ جارحانہ طور سے روکنے میں دونوں سیاستدانوں کو ذاتی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ قطلونیہ میں کارلیس کی کرپشن سے عوامی توجہ ہٹ گئی ہے اور مرکز مخالف ووٹر اس کی اندھا دھند حمایت کرنے کو تیار ہے یا کم سے کم کارلیس کو یہ توقع ہے۔ اسی طرح دوسری طرف ایک ناکام اور کرپٹ سیاستدان راخوئی کو نئی سیاسی زندگی مل گئی مرکز مائل ووٹر کی نظر میں وہ ایک ایسا سیاستدان ہے جو ہسپانیہ کو متحد رکھنے کے لئے ہر قدم اٹھانے کا اہل ہے( حالانکہ اس کا سرے سے کوئی خطرہ نہ تھا)۔

SHOPPING

عامی مشکلات کا حال یہ ہے کہ سپین میں پہلی بار خوراک پہ بھی ویلیو ایڈڈ ٹیکس نافذ ہوچکا ہے جس کا اعجاز کہ آج زیتون کے گھر سپین میں زیتون کا تیل برطانیہ کی نسبت بھی مہنگا ہے۔ لیکن ایک نئی سیاسی ٹرک کی بتی کے پیچھے عوام کو لگادیا گیا کرپشن کا ایشو اب پس منظر میں اور دونوں طرف کے جیالے اپنے اپنے لیڈر کی کرپشن کو نان ایشو قرار دے کے لیڈران کے گیت گائیں گے۔
سیاست کے سینے میں دل نہ سہی سینے پہ جیب ضرور ہوتی ہے اور وہی اہم ہے۔

SHOPPING

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *