بلیک ہول۔شاہزیب صدیقی/زیب نامہ

100 سال پہلے تک کائنات میں ستارے ان فلکی اشیاء کو کہا جاتا تھا جو روشنی پھیلا کر کائنات کو منور کرتے ہیں مگر اس پرسرار کائنات میں کچھ ایسے ستاروں کا سائنسدانوں نے پتہ چلایا جو کہ روشنی کی بجائے تاریکی پھیلانے کے شوقین ہیں، یہ ستارے آج بھی نظر نہ آنے کے باعث سائنسدانوں کے لئے ایک پہیلی بنے ہوئے ہیں، اس پہیلی کا آغاز 1784ء میں تب ہوا جب جان مشل نے حادثاتی طور پر ریاضی کی مساوات حل کرتے ہوئے ایک انکشاف کیا کہ اس کائنات میں ایسے گڑھے موجود ہیں جن سے نکلنا کسی کے بس کی بات نہیں، اس نے کہا کہ اس سے نکلنے کے لئے روشنی سے بھی تیز رفتار چاہیے ہوگی (روشنی ایک سیکنڈ میں 3 لاکھ کلومیٹر طے کرلیتی ہے) چونکہ اس وقت تک یہ بات ثابت نہیں ہوپائی تھی کہ کشش ثقل کا روشنی پر اثر ہوتا ہے کہ نہیں، جس کے باعث سائنسدان جان مشل کے اس نظریے کو ماننے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے تھے.

بعد ازاں آئن سٹائن نے مساوات سے ثابت کیا کہ کشش ثقل کا روشنی پر بھی اثر ہوتا ہے، بلیک ہولز کی پہیلی کو سلجھانے کے لئے اسٹیفن ہاکنگ نے بے پناہ محنت کی، کہا جاتا ہے کہ جب کوئی سورج سے تین گناہ یا اس سے بھی زیادہ ماس کا ستارہ مرتا ہے تو وہ بلیک ہول بن جاتا ہے، یہ ایک غلط concept ہے کہ بلیک ہول بے پناہ طاقت کا حامل ہوتا ہے، آپ اس کی مثال ایسے لیجیے کہ ایک ایسا ستارہ جس میں ہماری زمین جیسی 40 لاکھ زمینیں فٹ ہوجائیں تو جب وہ ستارہ مرنے لگتا ہے تو 2 قوتیں پیدا ہوتی ہے ایک اس کے مادے کو باہر کی جانب پھینک رہی ہوتی ہے دوسری گریوٹی جو اس کے مادے کو اندر کی جانب کھینچتی ہے

جب ستارہ تباہ ہوجاتا ہے تو گریوٹی پہلی والی فورس پر حاوی ہوجاتی ہے لہذا جب یہ ستارہ بلیک ہول بنتا ہے تو اس ستارے کے تمام ایٹمز (جو پہلے دور دور ہوتے ہیں) وہ ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں اور اتنے جڑ جاتے ہیں کہ اس ستارے کو صرف 18 کلومیٹر کا ایک پتھر بنا دیتے ہیں، اب اس 18 کلومیٹر والے پتھر کی کشش ثقل چونکہ اس ستارے جتنی ہی ہوتی ہے تو اس خاطر کہا جاتا ہے کہ بلیک ہولز بہت طاقتور ہیں حالانکہ اس کی کشش ثقل اتنی ہی ہوتی ہے جتنی اس وقت تھی جب یہ ستارہ تھا، فرق یہ آجاتا ہے کہ اب اس کے گرد ایک علاقہ بن جاتا ہے جسے ایونٹ ہوریزن یا علاقہ ممنوعہ کہہ لیں، اس علاقے میں روشنی سمیت جو چیز داخل ہوگی بچ نہیں سکتی، بلیک ہول 3 قسم کے ہوتے ہیں
1. Miniature (ایٹم کے سائز کے بلیک ہول)
2. Stellar (ایسے ستاروں کے بلیک ہولز جو سورج سے تھوڑا سے بڑا تھے)
3. Supermassive (سورج سے لاکھوں کروڑوں گنا بڑے ستاروں کے بلیک ہولز)

سائنسدانوں کے مطابق کائنات کے آغاز میں پہلی قسم کے بلیک ہولز موجود تھے بلکہ کچھ کے نزدیک بگ بینگ کے واقعے کے ذمہ دار یہی بلیک ہول ہیں بلکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ بلیک ہولز سائنسدان اپنی سرن لیبارٹری میں بنا چکے ہیں، دوسری قسم کے بلیک ہولز کائنات میں اب بھی بے پناہ تعداد میں موجود ہیں جبکہ تیسری قسم کے بلیک ہولز ہر کہکشاں کے درمیان میں ہوتے ہیں، ستاروں کو بکھرنے نہیں دیتے اور کہکشاں بنائے رکھتے ہیں، بے شک بلیک ہولز کائنات کے اربوں رازوں میں سے ایک راز ہے… کائنات کی الجھنوں کو سلجھاتے ہوئے حضرت انسان اس میں مزید الجھتا جارہا ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ کائنات کو کھوجنے کے اس انتھک اور پرسرار سفر کی کوئی منزل بھی ہے کہ نہیں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *