علامہ صاحب کی یادیں(دوسرا،آخری حصہ)۔۔۔صفی سرحدی

SHOPPING

بہرحال ابھی علامہ صاحب کی یہ آزمائش ختم نہیں ہوئی تھی کہ ان کی ایک پرانی ویڈیو منظر عام پر اگئی جس میں وہ نیپال والے واقعے کا ذکر کررہے تھے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ پوری دنیا نے دیکھا علامہ صاحب جیسے علمی و ادبی شخصیت روز دن میں لاکھوں لوگوں کے طنز کا شکار ہونے لگے۔ عقیل عباس جعفری کے مطابق نیپال والا قصہ ایک کتاب میں درج تھا جو کہ علامہ صاحب پڑھ چکے تھے پر اس کتاب میں بے ہوش ہونے کے بارے میں درج تھا۔ مگر اس ویڈیو میں علامہ صاحب نے نیپال کے جنگلوں میں بے ہوش ہونے کے بجائے مرجاتے ہیں اور پھر زندہ ہوجاتے ہیں، کہہ دیا۔ جو علامہ صاحب دلیپ کمار کی وجہ سے اپنے ہی مسلک کے لوگوں کے نشانے پر تھے اب سنیوں کیلئے بھی سافٹ ٹارگٹ بن گئے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ اب میرا یہ پرانا بیان میرے گلے پڑنے والا ہے۔ جس سے مرنے کے بعد بھی خلاصی ممکن نہیں ہوگی۔

علامہ صاحب اپنے تضادات سے نکلنے کیلئے معذرت جاری کرنے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ بھلے انہیں یوٹرن کیلئے سُمن کمار جیسے فرضی نام کا سہارا لینا پڑے یا پھر نیپال اور لڈن جعفری واقعے میں بے ہوشی کو موت قرار دینا پڑے۔ علامہ صاحب اپنی غلطیوں کو فیس کرنا جانتے تھے وہ جواز یا حوالہ ضرور تراشے مگر اپنی بات پر ہر حال میں قائم رہتے۔ بہرحال نیپال اور لڈن جعفری ان دونوں واقعات نے علامہ صاحب کو دو مزید نام نیپالی بابا اور لڈن جعفری، دیئے۔ اور اس کے بعد جتنے جملے اور میمز تخلیق ہوئے وہ سبھی آپ روز ملاحظہ کرچکے ہیں۔

مجھے علامہ صاحب سے ملاقات کی خواہش اس لیے بھی تھی کہ میں ان سے مل کر انہیں کچھ اہم کاموں کو مکمل کرنے کیلئے منا سکوں۔ علامہ صاحب سے ملاقات کے دوران میں نے بڑی کوشش کی کہ سب سے پہلے تو علامہ صاحب سُمن کمار کا نام دفع کرکے واپس کتاب کو اپنا نام دے سکے۔ کیونکہ یہ وہ خود کے ساتھ زیادتی کررہے تھے جو اپنی محنت کو “سُمن کمار” فرضی نام کے حوالے کرگئے۔ میں نے انہیں کہا تھا تاریخ میں اس کتاب کے ساتھ آپ کا ہی نام واپس لگانا میرا مقصد ہے آپ کی وجہ سے میں چُپ ہوں مگر میں کسی دن یہ خاموشی ضرور توڑوں گا۔ علامہ صاحب مسکرائے ارے یار جانے دو پہلے ہی اس کتاب میں لاکھوں کا نقصان کرلیا ہے اب واپس اپنا نام لگانے کا ویسے بھی کوئی فائدہ نہیں۔ بہرحال میں نے انہیں کہہ دیا کہ پہلی والی کتاب کو منظر عام پر لاکر یہ کریڈیٹ آپ واپس لے سکتے ہیں مگر وہ اپنے مخالف شیعوں سے تب بھی تھوڑے محتاط تھے اس لیے وہ راضی نہ ہوسکے۔

خیر میرا دوسرا کام ان سے یہ تھا کہ علامہ صاحب نے پوری ہندی فلم انڈسٹری کی تاریخ لکھ کر سنبھال کر رکھی تھی۔ میں ان کی یہ محنت منظر عام پر لانا چاہتا تھا اور اس کے سوا ان کے درجنوں فلمی مضامین الگ ہیں جسے کتابی شکل دی جاسکتی تھی۔ پر علامہ صاحب نے اسوقت جو مان مجھے دیا اسے سوچ کر میں آج بھی ان سے تعلق پر فخر کرتا ہوں۔ علامہ صاحب تب بولنے لگے ایک کام کرتے ہیں میں ایک شرط پر اپنا فلمی کام منظر عام پر لاسکتا ہوں اگر اس پر میرے بجائے صفی سرحدی کا نام درج ہوجائے۔ میں یہ سن کر گھبرا سا گیا میں نے انہیں بتایا کہ علامہ صاحب آپ نے مجھے اس لائق سمجھا یہ میرے لیے بہت بڑے فخر کی بات ہے اور میں ہمیشہ اس بات کو یاد بھی رکھوں گا مگر میں آپ کی محنت پر جب میں ایک فرضی نام سُمن کمار کو برداشت نہیں کرسکتا تو ایسے میں آپ کی محنت پر میں خود اپنا نام خود کیسے دیکھ سکتا ہوں۔ علامہ صاحب مسکرائے کہ بس جب دل بن جائے تو بتا دینا میں اپنا کام آپ پر قربان کرسکتا ہوں ورنہ یہ الماریوں میں بند ہی رہے گا۔ اور پھر وہی ہوا میرے راضی نہ ہونے کی وجہ سے ان کا فلمی کام بدستور الماریوں میں بند پڑا رہ گیا۔

علامہ صاحب سے ملاقات کے دوران میمز والوں کے بارے میں بھی بات ہوئی میں نے انہیں بتایا کہ علامہ صاحب اب آپ کو ان کے سامنے اپنا ادبی چہرہ بھی پیش کرنا چاہیئے جبکہ فلم کے حوالے سے تو آپ صاف منع کرچکے ہیں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے فورم سے اپ کی ادبی شخصیت کو سامنے لانے کیلئے باقاعدہ ایک پروگرام شروع کروں۔ ہفتے میں ہم ایک لائیو ویڈیو میں کسی ادبی کتاب چاہے وہ آپ کی ہو یا کسی اور کی یا پھر کسی ادبی شخصیت کے بارے میں بات کریں گے یوں میمیز والوں کا کچھ زور کم ہوجائے گا۔ اور بہت سے لوگوں آپ کی ادبی شخصیت سے بھی روشناس ہوسکیں گے۔ علامہ صاحب اس ائیڈیے پر خوش ہوئے انہوں نے فوری حامی بھری مگر مجھ سے مصروفیات کی وجہ سے کچھ عرصے کیلئے مہلت مانگی۔ لیکن افسوس نہ تو مجھے فرصت مل سکی اور نا ہی انہیں۔

مگر اس دوران ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ علامہ صاحب میمیز والوں کی نفسیات کو سمجھ گئے۔ یوں تو تنقید کے سفر میں وہ گھبرائے ضرور مگر وقت کے ساتھ انہوں نے جس طرح ڈٹ کر میمز والوں کا مقابلہ کیا وہ ایک مضبوط اعصاب کا مالک ہی کرسکتا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا وہ میمیز بنانے والوں کی نفسیات کو سمجھ چکے تھے۔ اس لیے وہ ممیمز بنانے والوں کو مزید چھیڑنے لگے تھے۔ تبھی آئے دن وہ جان بوج کر ان کے سامنے کوئی تازہ بیان پھینک دیتے کہ بناؤ اور میم، یہ ہم تک پہنچنے کا ذریعہ ہی تو ہے۔ اور ایسا ہی تھا جو پیار انہوں نے سمیٹا اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہر میمیز بنانے والا اور میمیز کو انجوائے کرنے والا انہیں مرشد کہنے لگا تھا جب کہ باقیوں کو تو ننگی گالیاں پڑتیں تھیں۔ میرے خیال سے علامہ صاحب واحد ایسے شیعہ مذہبی سکالر تھے جس کے سب سے زیادہ مداح مخالف فرقے کے سنی لوگ تھے۔ آپ کو یہ سن کر بڑی حیرانی ہوگی علامہ صاحب کے اسٹاف میں زیادہ تر لڑکے بھی سنی ہی تھے اور تو اور ان کے سیکرٹری جو کہ میرے اچھے دوست بھی ہیں وہ بھی سنی ہی ہیں۔ یہ تھے وہ محبت سے بھرے علامہ صاحب جن کے سامنے باقی تو فقط گوبر ہی معلوم ہوتے ہیں۔

یہاں ایک دلچسپ واقعہ سناؤں گا جیسا کہ میری خواہش رہی کہ میں اپنے فورم سے علامہ صاحب کے ساتھ لائیو ادبی بات چیت کا سلسلہ شروع کرسکوں۔ یہ خواہش تو پوری نہ ہوسکی البتہ علامہ صاحب میرے فورم عالمی افسانوی ادب سے بڑے متاثر تھے اس لیے علامہ صاحب کچھ مہینے پہلے فرصت نکال کر میری خواہش پوری کرنے کیلئے ادبی شخصیات پر اپنے لکھے مضامین بھیجنے لگے۔ چونکہ فورم میں زیادہ تر سنجیدہ لوگ ہیں اس لیے اس ادبی مضمون پر علامہ صاحب کی کافی تعریف ہوئی پر کچھ طنز کرنے والے نیپالی بابا کہتے پہنچ گئے۔ میں نے ان کے کمنٹس ڈیلیٹ کردیئے۔ رات بھر کا جاگا میں صبح سوگیا اور جب دوپہر اٹھا تو طنز کرنے والے کچھ لوگ اکھٹے ہوچکے تھے اور علامہ صاحب اکیلے ان کی بینڈ بجا رہے تھے۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ علامہ صاحب تو کریز پر موجود ہیں اور وہ شاندار چھوکے چھکے لگا رہے ہیں کہ کچھ تو بھاگ نکلنے پر مجبور ہوئے علمی بحث میں وہ کہاں علامہ صاحب کا مقابلہ کرسکتے تھے۔ علامہ صاحب کہاں رکنے والے تھے وہ انکی وال چھان مار کر انہیں ان کی کارناموں کے سکرین شارٹ بھی لگا کر انہیں ان کی اوقات بتا رہے تھے۔ کچھ دیر بعد میں علامہ صاحب کو داد دینے انباکس پہنچا تو علامہ صاحب ہنسنے لگے کہ دیکھا کیسے بھگا دیا ان جاہلوں کو۔ میں اگے سے کہنے لگا مان گئے علامہ صاحب اپ نے ان کی کیا شاندار ٹھکائی کی ہے۔

علامہ صاحب ویسے تو میرے فورم کے خاموش رکن تھے مگر کبھی کبھار وہ کسی علمی سوال پر جواب دینے کیلئے کمنٹ بھی کردیا کرتے تھے۔ ایک دن میرے فورم پر کسی نے سوال کیا کہ دنیا میں ادب سب سے پہلے کس قوم نے شروع کیا؟ علامہ صاحب نے انہیں مختصر جواب دیا کہ دنیا کی ہر زبان میں غم کا اظہار پہلے ہوا اس لئے مرثیہ پہلا ادب ہے کیونکہ ادب کا آغاز حضرت آدم سے شروع ہوا جب قابیل نے ہابیل کو قتل کیا حضرت آدم نے ہابیل کی لاش پر مرثیہ پڑھا۔

علامہ صاحب سے ملاقات کے دوران جب میں نے انہیں ان کی سوانح حیات لکھنے پر اکسایا تو انہوں نے حامی تو بھری کہ میں ضرور لکھوں گا مگر مجھ پر میرے ایک شاگر ڈاکٹر اشوب کاظمی ضمیر حیات کے نام سے کتاب لکھ چکے ہیں آپ کو میں وہ پیش کرتا ہوں فی الحال آپ وہ پڑھیں۔ علامہ صاحب نے مجھے نہ صرف ضمیر حیات پیش کی بلکہ اپنی کچھ کتابوں سے بھی تھیلا بھر کر دیا۔ علامہ صاحب عظیم مرثیہ گو شاعر میر انیس سے بڑے متاثر تھے یوں تو علامہ صاحب نے میر انیس پر کئی کتابیں لکھی ہیں جس میں میر انیس پر بھی دو کتابیں “میر انیس کی شاعری میں رنگوں کا استعمال” اور “میر انیس بحثیت ماہر حیوانات” علامہ صاحب نے مجھے دی ہیں۔ محترم دوست زاہد کاظمی کے بقول علامہ صاحب پر میر انیس کا اس قدر اثر تھا کہ انہوں نے اپنا حلیہ بھی میر انیس جیسا ہی اپنائے رکھا۔ علامہ صاحب کی جوانی کی تصویریں اور ویڈیوز دیکھ کر زاہد کاظمی کی یہ بات درست لگنے لگتی ہے۔

علامہ صاحب سے میرا تعلق دلیپ کمار کی وجہ سے بنا جو کہ بعد میں بھی میرے زیادہ مذہبی نہ ہونے کی وجہ سے ادب اور فن تک ہی محدود رہا۔ مگر میں نے انکے وائرل بیانات بھی ضرور انجوائے کرتا تھا۔ کچھ دوست احباب تو مزاق میں چھیڑنے کیلئے کہتے کہ اپ کے دوست نے تو پھر لمبی چھوڑی ہے تب میں مسکرا کر کہتا کہ یار علامہ صاحب کیلئے سو خون بھی معاف ہیں اس لیے وہ لگا رہے۔ اور آپ بھی انہیں انجوائے کریں۔ علامہ صاحب کے جو بیانات قابل طنز تھے جو کہ سوشل میڈیا کے چلن کے مطابق ممیمز کی تخلیق کا باعث بن جاتے تھے ان میں سے چند ایک تو میرے بھی پسندیدہ ہیں جسے میں اکثر خود بھی دہراتا رہتا ہوں جیسے کہ “یہ تو ہوگا” یا “اب یہ تو کسی کتاب میں نہیں لکھا” یا پھر یہ کہ “میں نہیں بتاؤں گا”۔

میں نے اپنی زندگی میں بہت کم لوگوں کے ہاتھ چومے ہیں ان میں سے دلیپ کمار اور علامہ صاحب شامل ہیں۔ میں نے علامہ صاحب سے رخصتی لیتے وقت ان کے ہاتھ چومے تھے اور اس سال ان سے ملاقات کے دوران پھر ان کے ہاتھ چومنے تھے مگر وقت نے مجھے صرف ایک بار یہ موقع دیا جسے میں اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں۔ بہرحال علامہ صاحب سے تو کئی ملاقاتیں ہونی تھیں۔ گزشتہ سال عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کرنے سے قاصر رہا جس کی وجہ سے علامہ صاحب سے ملاقات نہ ہوسکی۔ اس سال عالمی اردو کانفرنسں میں شرکت کیلئے جاتے وقت علامہ صاحب سے ملنا طے تھا۔ مگر کیسے خبر تھی کہ زندگی نے انہیں مزید جینے کی مہلت نہیں دینی۔ علامہ صاحب نے دوران ملاقات اپنی لائبریری کے حوالے سے بتایا تھا کہ مرنے کے بعد میں اپنی لائبریری عوام کیلئے وقف کردوں گا۔ اور ان کے مرنے کے بعد ایسا ہی ہوا ان کے رفقاء نے ان کی یہ وصیت پوری کردی ہے۔ اب کوئی بھی علم کہ پیاس بجھانے کیلئے علامہ صاحب کی لائبریری کا رخ کرسکتا ہے۔
مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ علامہ صاحب نے مجھے ہمیشہ اچھے لفظوں میں یاد رکھا یہاں تک کہ میری غیر موجودگی میں بھی انہوں نے میری تعریف کی۔ کراچی سے محترم دوست عون عباس جعفری کا جب علامہ صاحب کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بنا تو انہوں نے میرا نام لیا۔ علامہ صاحب میرا نام سن کر بولے ارے سرحدی کیا کمال کا پڑھا لکھا نوجوان ہے، آرٹ اور کلچر پر مکمل گرفت رکھتا ہے۔ علامہ صاحب کے منہ سے میرے لیے ان الفاظ کے نکلنے پر میں جتنا بھی فخر محسوس کروں، کم ہے۔ عون عباس جعفری نے بتایا شاید آپ نے کراچی دوبارہ آنے کا ان سے وعدہ کیا تھا انہوں نے بتایا کہ جب صفی سرحدی کراچی آئیں گے تو ہماری ملاقات کروائیں گے۔ عون عباس جعفری سے علامہ صاحب ہماری ملاقات تو نہ کروا سکے مگر کراچی امد پر میں عون عباس جعفری سے ملاقات کرتے وقت کہوں گا کہ اب آپ علامہ صاحب سے ہماری ملاقات (قبر پر حاضری) کروائیں۔

SHOPPING

علامہ صاحب نے پوری عمر شادی نہیں کی۔ انہوں نے ایک شاندار اور بھرپور زندگی گزاری۔ ان کی خوش اخلاقی اور خوش لباسی کا جواب نہیں تھا۔ بھلے انہوں نے کافی تنقید اور طنز دیکھی مگر اس سے زیادہ انہوں نے محبت سمیٹی۔ اس بات کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ مجھ سے اکثر سنی دوست علامہ صاحب سے ملوانے کی سفارش کرتے جبکہ یہ دوست احباب ان کے بیانات و جملوں اور میمیز کی وجہ سے ان کے مداح بنے تھے ناکہ میری طرح دلیپ کمار کی وجہ سے یا پھر ادب اور فن کی وجہ سے۔ علامہ صاحب دیگر شیعہ و سنی علماء کی طرح انتہا پسند نہیں رہے۔ اوروں کے مقابلے میں وہ کچھ معتدل دکھائی دیتے تھے۔ مرنے سے کچھ دن پہلے علامہ صاحب ایک بیان میں کہنے لگے شیعہ تو حسین کی تعریف میں مصروف ہوگئے اور سنی صحابہ کی تعریف میں مصروف ہیں۔ بس اگر کسی کو کوئی یاد نہیں تو وہ خدا اور ان کے رسول ہیں۔ علامہ صاحب کی یہ بات ایک سوالیہ نشان ہے جس پر شیعہ سنی دونوں کو ضرور سوچنا چاہیئے۔
ریسٹ ان لو علامہ صاحب
آپ ہمیشہ میری یادوں میں زندہ رہیں گے۔

SHOPPING