ووٹ کو عزت دو۔۔امداد اللہ جان

SHOPPING

نواز شریف کے اس بیانیہ سے پاکستان کا ہر شہری متفق ہے، میرے خیال میں کوئی بھی یہ نہیں چاہتا ہے کہ پاکستان میں ووٹ کی عزت نہ ہو اور ( civili  supremacy) نہ ہو۔لیکن تاریخ نواز شریف کے اس بیانیہ کا ساتھ نہیں دیتی اور اس کی  کئی  وجوہات ہیں، ان وجوہات کو جاننے کے لئے تاریخ کو پلٹنا ہوگا۔

کیا نواز شریف ووٹ کی طاقت سے پنجاب  کے وزیراعلیٰ  اور تین بار وزیر اعظم بنے۔۔؟ یہ   وہ سوال ہے  جس کی حقیقت جاننے کے بعد نواز شریف کے  اس بیانیہ میں صداقت کا پتہ چل جاتا ہے
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کا تعلق ایک اچھے صنعت کار حاندان سے ہے اور میں یہ بھی مانتا ہوں کہ نواز شریف کے  دورِ  حکومت  میں جتنے بڑے بڑے تعمیراتی کام ہوئے شاید کسی اور دور حکومت میں ہوا ہو۔۔لیکن میں نواز شریف کے ,ووٹ کو عزت دو، کے بیانیہ کو کیسے مانوں؟، جس کا سیاسی کیرئیر کا آغاز 1976 میں مسلم لیگ میں شمولیت سے ہوا۔ لیکن پورے پانچ سال بعد 1981 کو یہ ایک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء میں ایک جنرل غلام جیلانی کی سفارش پر پنجاب کے وزیر خزانہ بنے۔ جس شخص کی سیاست کا آغاز ایک ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہوا ۔۔اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے ن لیگ کے بیانیے اور اس نعرے(ووٹ کو عزت دو) کی سچائی پر کیسے  یقین کرلیا جائے؟
پھر 1985 میں ضیاء الحق کے مارشل لاء  کے وقت وزارت قبول کی۔
جو شخص فوج کے تشکیل کردہ اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی)کے سربراہ کی  حیثیت سے 1991 کےعام انتخابات میں مہم چلا کر وزیر اعظم بنا ۔

SHOPPING

یہ وہ چند تاریخی حقائق ہیں جو نواز شریف کے اس بیانیہ پر پورا نہیں اترتے ہیں، ویسے پاکستان میں جتنے بھی نعرے لگتے ہیں وہ موسمی نعرے ہوتے ہیں۔ ہم نے ایم ایم ے کے دور میں(Go America Go) کے نعرے بہت سنے تھے، لیکن وہ بھی وقتی نعرے تھے  ،اگر پاکستان میں ووٹ کی عزت ہوتی تو پاکستان  کی اس 72 سالہ تاریخ میں نصف عرصہ سے زیادہ  میں فوجی آمر حکومت نہ کرتے۔
اس لئے اگر صحیح معنوں میں ووٹ کو عزت دینی ہے   تو ماضی کی سرگرمیوں پر غور کرنا ہوگا اور اور اسٹبلشمنٹ کو (Constitution frame) میں لانا ہوگا۔
ورنہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ محض زبانی نعرہ ہوگا۔

SHOPPING

Imdadullah Jan
Imdadullah Jan
میرا نام امداد اللّٰہ جان ہے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں پی ایس کرہا ہوں اس کے علاوہ حیپر پحتون حواہ یوتھ اسمبلی کا ممبر ہوں۔اور محتلف پلیٹ فارم سے محتلف سیمنار میں شرکت کی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *