عورت۔امیر جان حقانی

صدیوں مردکی نفرت کی پن چکی میں پستی عورت پر قرآن نے فیصلہ سنادیا کہ ”تم (مرد)ان کے (عورت) کے لیے لباس ہو اور وہ تمہارے لیے لباس ہیں“۔میرے آقائے نامدار حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو بھی تمدنی طور پر وہی مقام دیا جو مرد کو حاصل ہے آپ ﷺ نے حجتہ الودع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا۔
”عورتوں کے معاملہ میں خدا سے ڈرو تمہارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے“۔
یہاں بھی عورت کو مرد کے برابر اہمیت دی گئی ہے اور عورتوں پر مردوں کی کسی قسم کی برتری کا ذکر نہیں ہے اس طرح تمدنی حیثیت سے عورت اور مرد دونوں اسلام کی نظر میں برابر ہیں۔ اور دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔بہر صورت عورت کی شخصیت کی لاکھوں پرتیں ہیں۔کروڑوں پہلو ہیں ۔سقراط کے دور سے لے کر آج تک عورت موضوع بحث ہے اور یہ بحث کبھی ختم نہیں ہوگی۔
1۔2018ء سے سعودی عرب کی عورت کار چلاسکے گی۔
2۔ مغرب کی عورت ایک طویل عرصے سے پبلسٹی/ اشتہار کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔لاکھوں کماتی ہے یا ان سے کمایا جاتا۔۔(آج کل مشرق میں بھی یہی صورت حال ہے)
3۔تھرپارکر کی عورت ایک سال سے ڈمپر ٹرک چلا کر معاشرے میں اپنا مقام بڑھا رہی ہیں۔
4۔ ہنزہ کی عورت خوبصورت فنڈائی پتھر(عمارت و دیوار بنانے والے)تراش کررزق حلال کررہی ہیں۔
5۔ دیامر کی عورت جنگل کی لکڑی اور چلغوزہ کاٹ کر پیٹ پوجا کررہی ہے۔
6۔استور کی عورت ٹنوں گھاس کاٹ کر شکم سیری کا سامان کررہی ہے۔
7۔ دینی مدارس و جامعات کی لاکھوں معلمات انتہائی کم معاوضے پر علم کی روشنی پھیلا رہی ہیں۔
8۔ کالج و یونیورسٹیوں کی فاضلات بشکل ٹیچرو ملازمت کررہی ہیں ۔
9۔دوسری جنگ عظیم کی عورت ایمبولینس کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال اور ٹرک کی ڈرائیور بن کرمحاذ جنگ پر فوجیوں کو سامان پہنچاتی رہی۔
10۔ لاکھوں نرسیں اپنے نرم ونازک ہاتھوں سے کروڑوں مریضوں کو انجکشن لگاتی ہیں اور بہتوں کی ہوس کا شکار بنتی ہیں۔
11۔عورت ستی،ونی، کاروکاری اور وٹہ سٹہ کا بھینٹ چڑھ رہی ہے۔
12۔ بلتستان کی عورت زمین چیر کر فصل پیدا کرتی ہے۔
13۔استقبالیہ کی عورت مسکراہٹ سے (گاہک) بڑھاتی ہے۔
14۔ ادب(شاعری ونثر) میں عورت کے ناز و نخرے بِکتے ہیں۔
15۔عورت ماں بن کر نسل بڑھاتی، بیوی بن کر محبت مہیا کرتی،بہو بن کر ظلم سہتی ہے۔
16۔عورت ہی ہے جو خونی رشتے چھوڑ کر غیروں کے گھر آباد کرتی ہے۔
17۔عورت ہزار ظلم و ستم بھی سہہ کر مسکرادیتی ہے۔
18۔عورت مشکل میں گولی کھانے کے لیے اپنا سینہ آگے کرتی ہے۔اور اپنے چاہنے والوں پر جان نچھاور کرتی ہے۔
19۔ عورت باپردہ ہو تو زینتِ درونِ خانہ ہے۔
20۔عورت بے پردہ ہو توتباہی ہے۔
21۔ عورت محبت کرے تو شہر بستے ہیں۔
22۔ عورت نفرت کرے تو بستیاں اُجڑ جاتیں ہیں۔
23۔ عورت جتنی سادہ ہے اس سے لاکھوں گنا پیچیدہ ہے۔
24۔ عورت کے ہزاروں جھوٹے رُوپ ہیں تو لاکھوں سچے رُوپ بھی ہیں۔
25۔ عورت سے بڑا دوست بھی کوئی نہیں ہوسکتا اور دشمن بھی۔
26۔ عورت غزوات النبی ﷺ میں غازیوں کے زخموں کو مرہم پٹی بھی کرتی رہی اور پیاسوں کو پانی بھی پلاتی رہی۔
27۔ عورت دلوں اور ذہنوں کو سکون بھی بخشتی ہے۔
28۔ عورت اطمینانِ قلبی اور سکونِ ذہنی کو غارت بھی کرتی ہے۔
29۔عورت کی تخلیق تکمیلِ آدم کے لیے کی گئی ہے۔
30۔ عورت کی فطر ت میں ہی حسن و جمال اور محبت و مودت ہے ۔
عورت کی ہزاروں شکلیں و صورتیں اور کیفتیں بیان کی جاسکتی ہیں سردست ان چند پہلوؤں پر غور کیجیے۔
لاریب! وجودزن سے ہے تصویرکائنات میں رنگ۔
عورت جس شکل میں بھی ہو اور جس رُوپ میں بھی ہو، بہر حال سلام کے قابل ہے۔

امیر جان حقانی
امیر جان حقانی
امیرجان حقانیؔ نے جامعہ فاروقیہ کراچی سےدرس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے تمام اخبارات و میگزین اور ملک بھر کی کئی آن لائن ویب سائٹس کے باقاعدہ مقالہ نگار ہیں۔سیمینارز اور ورکشاپس میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *