گھمن کیس اور مسلک۔۔۔ محمد حسنین اشرف

میں اسی مسلک پرستی سے نکل کر آیا ہوں۔ میرا تعلق انہی جماعتوں سے رہا ہے۔ جیش محمد، لشکر جھنگوی سے لے کر دیوبند علماء کی ہر جماعت کے متعلقین اور بہترین علماء سے تعلق رہا ہے۔ اسی سلسلے میں گھمن صاحب سے بہت عقیدت تھی۔

استاد کی دینی تعبیر سے وابستگی کے بعد ہر قسم کی شدت پسندی سے ہر قسم کا ناطہ توڑدیا اور مکالمے سے نکاح پڑھ لیا۔ میں سمجھ سکتا ہوں اسوقت جس کرب سے گھمن صاحب سے وابستگی رکھنے والے دوست گذر رہے ہیں اسکا بخوبی اندازہ انکے دہن اقدس سے برامد ہونے والی مغلظات سے ہوجاتا ہے۔ اتنی گالیاں تو کوئی بد تہذیب شخص بھی نہی دیتا جتنی صاحب علم حضرات دے رہے ہیں۔

کالج سے واپسی پر جیسے ہی مجھے مفتی ریحان صاحب کی تحریر پڑھنے کو ملی تو میں تو سکتے میں آگیا۔ لیکن استاد نے سے جس حسن ظن کی تربیت لی تھی اسی پر قائم رہا۔ قران کی آیت بار بار گونج رہی تھی۔

“بیشک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے انکو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا”

(القران)

بار بار، ضمیر یہی کہہ رہا تھا کہ خاموشی زیادہ بہتر ہے کچھ لوگ اس پر بحث کر رہے تھے تو انہیں بھی عرض کی کہ ایسا نہ کریں۔ ایسے معاملات جلدی میں طے نہی کئے جاتے۔ لیکن ایک دوسرا پہلو بھی سامنے تھا کہ یہ عصمتوں کا سوال ہے عزتوں کا سوال ہے۔ ہماری بہنوں کا سوال ہے۔

بہرحال اسی کشمکش میں وقت گذرنے لگا، ایک محسن سے اس خط کو لیا، اسے پڑھا، زرولی خان صاحب کا فتویٰ پڑھا، سلیم اللہ خان صاحب کا اعلان برات پڑھا، اسکے بعد اتنا اندازہ ضرور ہوگیا تھا کہ بات میں کچھ نہ کچھ صداقت توضرور ہے۔ اسی دوران عزیز الرحمنٰ ہزاروی صاحب کے بیٹے کا کالم پڑھا۔ کلیم اللہ خان صاحب کا کالم پڑھا، تو معلوم ہوا کہ وہی روایتی طریقہ کا اپنایا جا رہا ہے مسلک کے دفاع کے لئے اتنی دیر میں ہی ایک اور دوست نے فاروقی صاحب کے آرٹیکل کا لنک دیا۔ دل سے غبار دھلتا ہوا محسوس ہوا اور سوچا کہ کیوں نہ کچھ دیر اور رک جائیں۔

اسکے بعد مکری و محترمی، وقاص خان صاحب اور سید عبدالوہاب شیرازی صاحب کا کالم نظر سے گذرا جس میں وقاص صاحب خان نے ذاتی طور پر تائید کی کہ گھمن صاحب کے متعلق یہ باتیں سچ ہیں۔ پھر سید عبدالوہاب شیرازی صاحب نے اپنی اہلیہ محترمہ کے ذریعے مولانا زین العابدین کی بیٹی سے ہونے والا مکالمے کی روشنی میں اس سارے معاملے تائید کی اور بتایا کہ مفتی ریحان کی اتنی لمبی تحریر درست ہے۔ ابھی تھوڑی دیر قبل قاری حنیف ڈار صاحب کے توسط سے دو کلپس سننے کا موقع ملا، سننے کے بعد سینہ چر گیا۔ میں ابھی بھی حسن ظن رکھتا ہوں کہ شائد یہ سب پراپیگنڈہ ہو۔ لیکن ذہن رکھتا ہوں۔ میں نے دونوں کو سنا اور دل پھٹ گیا۔ بتایا جارہا ہے کہ ان کے ریکارڈ کرنے والے کو پتہ لگنے پر داڑھی منڈوا کر مدرسے نکال دیا گیا۔ مقصود حسان استاد تھے مدرسہ میں۔

سوچتا ہوں ،گھمن صاحب اتنے دودھ کے دھلے ہوتے تو کیوں نہ عدالت کا رخ کرلیتے ؟ یا کم ازکم احناف سروس پہ آ کر ایک ویڈیو ہی ریکارڈ کروا دیتے؟

سوال ہے متکلم اسلام اب کیوں گنگ ہوگیا؟ اس نے نوافل پڑھنے پر کیوں اکتفا کرلیا؟ دو سال سے نوافل ہی پڑھے جا رہے ہیں؟

سوچتا ہوں ،اگر گھمن فاروقی صاحب کے دوست ہیں تو فتویٰ حاصل کرنے والی محترمہ مولانا زین العابدین کی بیٹی ہیں۔

سوچتا ہوں ،مولانا سلیم اللہ خان صاحب اتنے بچے تو نہی کہ وہ بس ایک خط کی بنا پر اظہار برات کردیں؟ آخر دفاع علماء دیوبند کے نام سے جس تحریک کو گھمن صاحب نے شروع کر رکھا تھا۔ اسکی دیوار ایسے ہی ڈھا دی جاتی؟ یا پھر سلیم اللہ خان صاحب کو ذاتی مفاد ہوگا؟

سوچتا ہوں، کہ زر ولی خان صاحب نے اس خط پر فتویٰ دینے کے بعد ظاہر ہے تحقیق تو کی ہوگی۔ اب الیاس گھمن کوئی فاٹا کی چھوٹی سی مسجد کا امام تھوڑی ہے۔ متکلم اسلام ہے، تو فتویٰ تو چلیں خط کےمتن پر دے دیا۔ اسکے بعد گھمن صاحب سے تو وہ واقف ہی ہونگے؟ کوئی وضاحتی بات زرولی خان صاحب نے بھی نہی فرمائی۔

سوچتا ہوں، مقصود حسان صاحب کو آخر مدرسے سے کیوں نکالا گیا؟

سوچتا ہوں ، وفاق المدارس کو کیا ہوگیا؟ انہوں نے تردید کرکے گھمن صاحب کو گود میں کیوں نہی لے لیا؟ آخر انکے بہت بڑے عالم ہیں۔

سوچتا ہوں ،ان علماء کے بارے میں جنکا ذکر سید عبدالوہاب شیرازی صاحب نے کیا ہے انہوں نے گھمن صاحب کو کیوں چھوڑ دیا؟ شیرازی صاحب نے عرصہ بھی بتایا ہے کہ دو سے تین سال کے اندر اندر چھوڑ دیا ہے۔ مطلب یہی عرصہ جس دور میں گھمن صاحب کے متعلق انکشافات ہوئے ہیں۔ یہ دس سے بارہ کے قریب جید علماء ہیں۔ طوالت کۓ ڈر سے انکے نام نہی لکھ رہا۔

خیر جو بھی ہو، ہر حال میں سچ سامنے آنا جائیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک شخص پر لگی تہمت کے جواب میں نوٹس لینا چاہیے۔ اب یا تو سنگساری ہو یا قذف لگے تا کہ ہمیں بھی اس اسلامی شریعت کو دیکھنے کا موقع ملے جسکا تذکرہ ہم سنتے آئے ہیں۔ مولانا عبدالعزیز کو چاہیے کہ اپنے درجن بھر مجاہدین کو پکڑیں شرعی عدالت لگائیں اور پھر سر عام سنگساری یا قذف کو نافذ کریں۔ یا وفاق اس ملک کو ایک جھلک دکھائے اسلامی ملک کی اور جممہوریت کے منہ پر کالک مل دے کہ لو بھائی، تمہارے نظام میں بڑا آدمی بچ نکلتا ہے شرعیت میں تو ایسا ممکن ہی نہی۔ تاکہ ہم بھی اسکی بہاریں دیکھیں۔

اب تو سزا نافذ کرنا ہوگی، اب یہ مت کہنا کہ تم ریاست کے پابند ہو، ریاست کے آئین کو تو چلیج کرتے ہو آپ، اسلئے اب خود عدالت لگاؤ، فیصلہ کرو، اور سزا نافذ کرو۔ اسکا انجام سن لو۔

اول: گھمن صاحب کی سنگساری

دوم: ۔۔۔۔ کی بیٹی پر قذف

فیصلہ کیجیے، اسلام کا نفاذ اب آپ علما کے ہتھ ہے۔

مکالمہ کا مضمون نگار سے اتفاق ضروری نہیں۔ ایڈیٹر

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *