عائشہ اذان

سنا کرتے تھے کہ فوجی آمریت سے جان چھوٹے گی تو ملک میں جمہوریت آئے گی ۔ ۲۰۰۷ کے الیکشن اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھے لیکن جب الیکشن گزرے چند ماہ ہی ہوئے تو پتہ چلا کہ فوجی آمریت تو نہ رہی لیکن آمرانہ سوچ اب بھی ملک میں باقی ہے۔
۲۰۰۷ سے لے کر ۲۰۱۶ تک کا دور ہم سب کے سامنے ہے، جو ہماری نظر میں جمہوری دور تھا، درحقیقت وہ مارشل لاء سے کئی گنا بھیانک تھا۔ اسے ہم سویلین ڈکٹیٹر شپ بھی کہہ سکتے ہیں۔ جنرل مشرف کے استعفی دینے کے بعد سے اب تک کی جمہوریت ہمارے سامنے ہے۔
ڈکیٹٹر ہونے کے باوجود جنرل مشرف نے جہاں میڈیا کو آزادی اظہار کا اختیار دیا، اس کے ساتھ ساتھ ملک میں قوانین کو متوازن بنایا گیا اور لوگوں کو نظم و ضبط سے بھی روشناس کروایا گیا مگر ایسے حالات میں بھی ہماری قوم کو "جمہوریت کے حسن" سے امیدیں وابستہ رہیں ۔ ہماری قوم نے جمہوری حسن کو چنا لیکن ہمیشہ کی طرح غریب عوام غریب ہی رہے۔ جہاں سوچنے کی بات ہے کہ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں سات سات سال کے بچے یا تو بھیک مانگتے نظر آئیں یا اغواء ہو جائیں، جہاں ملا حضرات خودکش جیکٹ پہننے سے پہلے لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگائیں ، جہاں چھ سال کے بچے کی عزت مسجد میں محفوظ نہ ہو اور عورت اپنوں کے ہاتھوں غیرت کے نام پر مار دی جائے، جہاں مائیں اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے پہلے سو بار سوچیں، جہاں بجلی کے بل سے گھبرا کے لوگ خودکشی کر لیں، انسان کے لئے صاف پانی نہ ہو اور جانور تک محفوظ نہیں، جہاں پیری فقیری کے نام پہ اب بھی چونا لگے اور اولاد کا قتل ماں باپ کریں۔ اس سب کے بعد آج بھی سستی روٹی ہو یا روٹی، کپڑا، مکان، لوگ ہی نہیں ووٹ بھی بکتے ہوں۔ کیا یہی ہے وہ جمہوریت کا حسن جس کا ذکر ہم اپنے بزرگوں سے سنا کرتے تھے۔ اگر یہی جمہوریت ہے تو ہمیں نہیں چاہیئے ایسی جمہوریت جس کے حسن میں ہمارا آج اور کل غیر محفوظ ہے ۔
جمہوری حسن کو دیکھنے کے لئیے ہمیں ایک قائد کی نظر چاہئے جو اس بکھری ہوئی قوم کو اکٹھا کر سکے ،ان سانحوں کی حقیقت کو سمجھ کے ہمیں مثبت راہنمائ میں لے کر چلے۔ گو یہ سب اک خواب کی مانند لگتا ہے مگر اصلی جمہوری حسن سے ہم آشنا ہی کب ہیں !!

عائشہ اذان
عائشہ اذان
سچ سے سوچ کے خوابوں کو قلمبند کرنے کی خواہش میں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *