انتخابات کا بل اور مذہبی لوگ۔مفتی محمد زاہد/حصہ دوئم

مداہن کون؟
کنڈکٹ آف جنرل الیکشنز آرڈر 2002ء پرویزمشرف نے جاری کیا جس کے تحت الیکشن مخلوط طرز انتخاب کے مطابق کرانے کا فیصلہ کیا۔ جداگانہ طرز انتخاب یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے منتخب نمائندے الگ ہوتے ہیں اور غیر مسلموں کے الگ۔ مسلمان صرف مسلمان کو ووٹ دے سکتا اور لے سکتا ہے اسی طرح غیر مسلم بھی۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مسلم غیر مسلم ووٹرز لسٹیں الگ بنیں اور ادھر کے ووٹ ادھر یا برعکس درج ہونے کو روکنے کے لیے مضبوط بندو بست ہو۔ مخلوط طرز انتخاب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ووٹ لینے اور دینے میں مسلم غیر مسلم کا امتیاز نہ ہو مسلم غیر مسلم کو ووٹ دے سکے اور اس سے لے بھی سکے اسی طرح برعکس۔ اس کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ کہ مسلم اور غیر مسلم ووٹوں کی الگ الگ لسٹوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ ضیاءالحق کے زمانے سے انتخابات جدا گانہ بنیادوں پر ہورے تھے، پرویز مشرف نے مخلوط طرز انتخاب کو دوبارہ رائج کیا۔

اگر مذہبی جماعتوں بالخصوص ختم نبوت کی تنظیموں کے نظریے کی بات کی جاے تو مخلوط طرز انتخاب ہی ان کے نظریے کے خلاف ہے۔ اس طرز انتخاب کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن، ساجد میر، سراج الحق سمیت کوئی بھی مسلمان چاہے تو چناب نگر میں قادیانیوں سے ووٹ لے کر قومی اسمبلی میں جا سکتا ہے، اس صورت میں ظاہر ہے انہیں اپنے ووٹرز کو راضی بھی رکھنا ہوگا، اس کے برعکس کوئی قادیانی چاہے تو مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق کے مقابلے میں الیکشن لڑ کر اسمبلی میں جاسکتا ہے۔ یہ صورت حال موجودہ بل سے پہلے بھی تھی اب بھی ہے۔ ہمیں سب سے پہلے تو مذہبی راہ نماؤں سے بالخصوص ختم نبوت کی تنظیموں سے یہ پوچھنا چاہیے کہ آپ کے نظریے کے مطابق یہ صورت حال قابل قبول ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو کب سے؟ اگر غلط ہے تو 2002ء سے اب تک آپ کی ایمانی غیرت کہاں آرام فرما رہی تھی۔ قادیانیوں سمیت غیر مسلم ووٹرز اور امید واروں کے مسلمانوں کے ساتھ خلط ہونے کا راستہ تو یہاں سے کھلتا ہے۔

اب آئیے اس آرڈر کی 7B اور 7C کی عدم موجودگی کی طرف۔ حذف کی بجاے عدم موجودگی اس لیے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ آرڈر موجود ہے اور یہ سیکشنز حذف کر دی گئی ہیں بلکہ پورا آرڈر ختم کرکے کئی قوانین کی جگہ ایک قانون بنایا گیا ہے۔ اس پر کئی حضرات تفصیلی بات کرچکے ہیں بالخصوص جناب Zahid Mughal صاحب کی پوسٹیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مختصر یہ کہ 7B کی تو اس وقت اس لحاظ ضرورت ہوسکتی تھی کہ آئین غیر حاضری میں تھا سادہ لفظوں میں کہہ لیجئے معطل تھا اس لیے اس سیکشن کے ذریعے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا اظہار ہورہا تھا آئین کی بحالی کے بعد اس کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ بات بل کے ناقدین بھی تسلیم کررہے ہیں۔ 7C تو محض مشرف کا دیا ہوا لالی پاپ تھا اس کی موجودگی میں بھی وہی صورت حال تھی جو اوپر ذکر کی گئی کہ مولانا سمیع الحق قادیانی کو ووٹ دے بھی سکتے ہیں لے بھی سکتے ہیں۔ کس کا ووٹ کس لسٹ میں درج ہے اس سے اس معاملے میں کوئی فرق پڑتا ہی نہیں ہے۔ اگر واقعی دینی تنظیموں کے نزدیک یہ صورت حال نا قابل قبول ہے تو اس سیکشن کے ذریعے انہیں یا تو دھوکا دیا گیا تھا یا یہ مداہنت کی مرتکب ہوئی تھی۔ مداہنت اگر ہوئی تو تب ہوئی تھی اب نہیں۔ اگر ہماری راے میں مخلوط طرز انتخاب درست ہے تو کوئی مسئلہ نہیں وگرنہ اُس وقت مداہنت کرنے والوں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔

اگر مان بھی لیا جائے کہ مخلوط طرز انتخاب کے باوجود غیر مسلم ووٹرز لسٹیں الگ ہونا ضروری ہیں تو بھی 2002ء میں نادرا اتنا موثر نہیں تھا اب تو سابقہ لسٹیں تو ظاہر ہے حسب سابق چلیں گی اور رد وبدل یا نئے اندراج کے لیے نادرا کا ریکارڈ استعمال کیا جائے گا، نادرا میں جب کوئی شخص خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہے تو اسے ختم نبوت حلف نامے پر دستخط کرنا ہوتے ہیں، اگر وہ دستخط نہیں کرتا تو نادرا کے ریکارڈ میں غیر مسلم ہوگا۔ اب اگر وہ ووٹر لسٹوں میں خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہے تو لسٹوں پر اعتراض کے عام روٹین کے طریقے سے اسے ڈیل کیا جاسکتا ہے۔

Avatar
مفتی محمد زاہد
محترم مفتی محمد زاہد معروف عالم دین اور جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے مہتم ہیں۔ آپ جدید و قدیم کا حسین امتزاج اور استاد الاساتذہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *