آیا صوفیہ اور آج کا مسلمان۔۔محمد منیب خان

اپنے دین سے لگاؤ ہونا خدا کو ماننے والے ہر انسان کا فطری عمل ہے۔ جبکہ دین پہنچانے والے سے جذباتی لگاؤ اور جذباتی تعلق کاہونا بھی عین قابل فہم اور قدرتی بات ہے۔ دین بنیاد طور پہ خلق کا خالق سے تعلق قائم کرتا ہے اور اس تعلق کی لڑی میں بنیادی ربطرسول یا نبی کی  ہستی ہوتی ہے۔ اس ربط اور تعلق کی وجہ سے نبیوں اور رسولوں پہ ایمان لانے والوں کا ان سے بھی  ایک لگاؤ اور جذباتیو قلبی تعلق قائم ہوگیا۔ یہی تعلق مٹھی بھر ماننے والوں کو نوح علیہ کی کشتی میں سوار کروا دیتا ہے۔ یہی تعلق موسی علیہ کےحواریوں کو دریا نیل کے کنارے مایوس نہیں کرتا اور یہی تعلق اور لگاؤ تین سو تیرہ اصحاب رضہ کو بدر کے میدان میں لے جاتا ہے۔یہ تعلق، لگاؤ اور محبت بے حد قیمتی بھی ہے اور یہی ماننے والوں کا اصل اثاثہ بھی ہے۔ لہذا اسلام کو چودہ صدیاں گزرنے کےباجود مسلمانوں کا نبی آخرالزامان صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق آج بھی مضبوط ہے۔

یہ تعلق، محبت اور جذباتی لگاوٹ اپنی جگہ مسلم، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تعبیر دین کی ہر کوشش کے ساتھ بھی مسلمانوں کی جذباتی وابستگی ہوتی گئی۔ اس پہ مستزاد اسلامی تاریخ میں کئی ایسے واقعات بھی رونما ہوتے چلے گئے، جن کے ساتھ جذباتی تعلق بنتا چلا گیا۔ اس کو تاریخ کا ستم کہہ لیں یا طنز، تاریخ کم و بیش ہر واقعے کے دو رخ لیے بیٹھی ہوتی ہے۔ ہر موضوع پہ تاریخکی کتابوں سے دو طرفہ دلائل کے انبار لگائے جا سکتے ہیں۔ اس بات کو واضح کرنے کے لیے میں حالیہ سیاسی تاریخ سے ایک نکتہ بیان کروں گا۔ پاکستان بننے کا واقعہ محض تہتر سال پرانا ہے۔ سینتالیس میں قیام پاکستان کے وقت قائداعظم اس ملک کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے یا مذہب سے آزاد ریاست۔ تاریخ کا اگر بے کم و کاست جائزہ لیا جائے تو اس پہ دوطرفتہ دلائل کاانبار موجود ہے۔ آپ کی شخصیت کا جھکاؤ جس طرف ہوگا آپ کو وہ دلائل زیادہ مضبوط محسوس ہوں گے۔ حالانکہ کہ یہ واقعہ محض تہتر سال پرانا ہے۔

لہذا تاریخ ہر دو طرح کے دلائل اور زاویہ نظر کو  سموئے ہوئے ہوتی ہے۔ ہر فرد اپنی شخصیت کے فطری جھکاؤ سے اپنی سمت متعین کرتا ہے۔ ایسے ہی اسلامی تاریخ کے بہت سے واقعات نہ صرف تقدیسی حیثیت اختیار کر گئے بلکہ ان کے ساتھ مسلمانوں کا ایک جذباتی لگاؤ بھی پیدا ہوگیا۔ اس پہ مستزاد اسلامی تاریخ میں دین کی مختلف تعبیرات بیان کی گئیں (اور اب بھی کی جا رہی ہیں) ان سے بھی بہت سے گرہوں کا قلبی اور جذباتی تعلق پیدا ہوگیا۔ حالانکہ کسی ایک فقہی، مجتہد یا عالم کی تعبیر الہامی نہیں ہے۔وہ اپنے زمانے کے اثرات کے تابع تاریخ سے راہنمائی کشید کرتا ہے۔ ایسی کسی تعبیر دین سے کسی بڑے یا چھوٹے گروہ کا وابستہ ہونا یقیناً قابل فہم ہے البتہ اس گروہ کا اس تعبیر کو الہامی یا آخری تعبیر سمجھنا اسلام کو منجمد کر دینے کی مترادف ہے۔

دین جو کہ اللہ کی ہدایت کا نام ہے، اس دین کا واحد منبع رسول ا للّٰہ صلی علیہ وسلم کی ذات ہے۔ دین بنیادی طور پہ چار باتوں کوموضوع بناتا ہے۔ (۱) عبادات (۲) معاشرت  (۳) خور و نوش (۴) رسوم و آداب۔ یہ چاروں باتیں اخلاقیات کے تعلق سے ایک دوسرے سےجڑی ہوئی ہیں۔ اور خود اللہ نے اپنے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن میں فرما دیااور بیشک آپ اخلاق کے بڑےمرتبے پہ ہیں۔ (۶۸، ۴) اور خود رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مفہوم ہے۔میں حسن اخلاق کی تکمیل کےکیے بھیجا گیا ہوں۔ (موطا) یہ دین بلا شک و شبہ چودہ صدیاں قبل رسول اللہ کی حیات میں مکمل ہو چکا۔ لہذا گزری ہوئی چودہ صدیوں میں جو واقعات بھی  ہوئے ان واقعات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے حاصل ہونے والی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا اور پرکھا جاناچاہیے۔

آیا صوفیہکی تاریخی حیثیت بارے ساری معلومات واضح ہیں۔ یہ عمارت تقریباً نو سو برس تک چرچ رہی پھر پندرہویں صدی میں جب قسطنطنیہ فتح ہوا تو اس چرچ کو خرید کر مسجد میں بدل دیا گیا۔(گو کہ چرچ کی عمارت کی خرید و فروخت کا سارا واقعہ بذاتخود جرح و تعدیل کا متقاضی ہے) اس صدی اور اس کے آس پاس کی صدیوں میں دنیا میں جنگ و جدل جاری تھا۔ کہیں مسلمان فتح کے جھنڈے گاڑھ رہے تھے اور کہیں عیسائی اپنے قدم جما رہے تھے۔ لہذا چرچ کو خرید کر مسجد بنانے کے عمل کی توجیہہ پیش کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کو اسلامی تاریخ میں تقدیسی حیثیت کیونکر حاصل ہو گئی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینٹ کیتھرائن والے معاہدے کے بعد اخلاق کے اعلی ترین درجے پہ رہتے ہوئے  عیسائیوں سے ان کی کوئی عبادت گاہ خریدنی بھی نہیں چاہیے تھی کجا وہ خریدی گئی عمارت ایک عیسائی فرقے کے لیے کئی سو سال مقدس ترین چرچ رہی ہو۔

بیسویں صدی کے بعد جس طرح قومی ریاستوں کی تشکیل ہونے لگی اور اقوام عالم اب فاتح اور مفتوح کے تعلق سے یکسر آزاد ہونےلگے تو ایسے دور میں کمال اتاترک کے ساتھ سارے مذہبی، سیاسی اختلافات کے موجود ہوتے ہوئے بھی اس فیصلے کو قابل ستائش سمجھا جانا چاہیے تھا۔ یہ فیصلہ ایک صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینٹ کیتھرائن معاہدے کی دور حاضر میں تجدید تھی۔ ایک صدیوں پرانی تاریخ عمارت کو عجائب گھر بنانے سے مسلمانوں کے جذبات برانگیخت نہیں ہونا چاہیے تھے۔ لیکن مسلمانوں کا ایک گروہ اس پہ جُز بز رہا۔ جبکہ کئی سو برس تک مقدس کلیسا رہنے والی اسی عمارت کو عجائب گھر بنانے پہ عیسائیوں کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اور اب پوپ فرانسس نے اپنے ایک خط میں مقدس چرچ کو دوبارہ مسجد بنائے جانے کے حالیہ فیصلے پہ شدید دکھ اور تکلیف کا اظہار کیا ہے

ترکی وسیع و عریض ملک ہے۔ استنبول بھی بڑا شہر ہے۔ اگر وہاں کے مقیم مسلمانوں کو نئی عبادت گاہ چاہیے تھی تو اس کے لیےنئی کشادہ مسجد تعمیر کی جا سکتی تھی۔ تجزیاتی جائزہ اس نتیجے پہ لے جاتا ہے کہ اس فیصلے کے مذہبی مضمرات سےسیاسی فوائد کا کچھ سفر طے کرنا مقصود ہے۔ لیکن اس  سفر میں مسلمانوں کا استحصال ہوتا رہے گا۔

اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے ناملیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جائیں اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے اللہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے۔ (۴۰، ۲۲)

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *