آنسو،ندامت سے شکرانے تک

رات کے دو بج رہے تھے ، بھوک لگی ، کچھ آرڈر کرنے کا سوچا مگر اتنے دن سے فاسٹ فوڈ کھا کھا کر تھگ گیا تھا ، سوچا کچھ دیسی کھایا جائے ، باہر نکلا ، گلیوں سے ہوتا ہوا اندرون کے ڈھابوں اور ہوٹلوں کے سامنے سے گزرا ۔ لاہور — ہلکی ہلکی دھند اور توے سے اٹھتا دھواں ، میرا دل پراٹھوں پے آ گیا ، ایک ہوٹل کے بینچ پر بیٹھ گیا ، آرڈر دیا اور سوچ میں مگن ہو گیا ۔
مجھے نہیں معلوم سوچتے سوچتے میں کس کی طرف دیکھ رہا ہوں ، سوچ کی وادی سے باہر نکلا تو دیکھا سامنے بیٹھا حال حلیئے سے اچھا نظر آنے والا ،پر شکل سے بھوکا نظر آنے والا بوڑھا شخص مجھے دیکھے جا رہا ہے ، ایک بار دو بار سات بار ۔۔۔ وہ دیکھتا پھر نظر موڑ لیتا ، پھر دیکھتا پھر آنکھیں دوسری جانب کر دیتا ۔
میں اٹھا اور اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا ، حال احوال پوچھا اور پراٹھے کی آفر کی ، وہ بولا نہیں پیٹ بھرا ہوا ہے ۔ چائے ، کہنے لگا نہیں بیٹا شکریہ ۔ گپ شپ شروع ہو گئی ۔ میں نے کہا آپ کچھ سوچ رہے ہیں یا میری شکل آپ کے کسی بیٹے ، بھتیجے سے ملتی ہے ؟ انھوں نے لمبی آہ بھری اور ان کی دائیں آنکھ سے ایک موٹا آنسو نکلا ، گال سے ہوتا ہوا سفید داڑھی میں گم ہو گیا ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ ندامت کا آنسو ہو —–
اگلے دو چار منٹ ہم میں سے کوئی نہ بولا ، میں نے پراٹھا بھی وہیں منگوا لیا ان کو دوبارہ کھانے کی پیشکش کی مگر انھوں نے نفی میں سر ہلا دیا ۔ میں نے کھانا شروع کیا ، کچھ دیر میں انھوں نے اپنی خاموشی توڑی اور بولے بیٹا ! آپ کو دیکھ کر مجھے اپنا وقت یاد آگیا ۔ میں بھی خوبرو تھا ، جوان بھی اور امیر باپ کی اولاد بھی ، میں بھی پینٹ شرٹ پہنتا تھا ۔راتوں کو کھانا کھانے نکلتا تھا ۔ مجھے گھر کا ہضم نہیں ہوتا تھا ، جیب میں پیسے جو ہوتے تھے۔تعلیم میں دلچسپی نہ تھی بس باپ کما رہا تھا میں اڑا رہا تھا ۔ ایک دفعہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ کراچی کا ساحل سمندر دیکھنے نکل پڑا ۔ ہم ریل ، بسوں ویگنوں پر سفر کرتے کراچی پہنچے ، کئی دن خوب گھومے پھرے۔ جب پیسے ختم ہونے لگے تو ہم واپس گھر کے لیے روانہ ہو گئے ، تھکے ٹوٹے گھر پہنچے تو گھر میں صف ماتم بچھا تھا ، جیسے کوئی مر گیا ہو ۔سب میرے گلے لگ کر رونے لگے ! میرا باپ مر گیا تھا اور میں اس کا مرا منہ بھی نہ دیکھ سکا بیٹا جی ! پر کاش کے میں تب ہی سنبھل جاتا ! مگر میں نےاپنی عادتیں اور بگاڑ لیں ۔باپ کے ہوتے طبیعت لا ابالی تھی پر باپ کے جاتے ہی گھر ، کاروبار میں عدم دلچسپی کی وجہ سے کاروبار میں مندی آنے لگی اور طبعیت میں بے ہودگی ۔ ماں چیختی چلاتی سمجھاتی مگر میں اپنی ہی کرتا ۔
ایک دن ماں بھی مر گئی ۔ اور میں اکیلا ہو گیا ۔ اس دن میں نے بہت شراب پی ۔ میں بھی مرنا چاہتا تھا مگر قدرت نے مجھے کچھ دکھانا تھا ۔ میری بہنیں اچھے وقت میں بیاہی گئی تھیں انھوں نے میرے لیے رشتہ ڈھونڈنا شروع کر دیا مگر کوئی لڑکی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ اگر کوئی چاہتی تو بھی اس کے ماں باپ نہ کر دیتے کہ یہ شرابی ہے !
دن بیتے —- میں زنا میں پڑ گیا ، مجھے عورت کی ایسی لت لگی کہ میں نے سب کچھ بیچ دیا ،نت نئی جسم فروش عورتیں۔ مجھے شکار کرنے سے بہتر خرید کر کھانے میں دلچسپی تھی کہ پیسے کی کمی نا ہی طبیعت میں سستی تھی —- مجھے ہوش تب آیا جب میرے پاس بیچنے کے لیے کچھ باقی نہ بچا — سوائے میرے خود کے جسم کے — میں وہ —- جو جسم کا خریدار تھا — اپنی عیاشی اور مفلسی کے سبب خود بکاؤ ہوگیا — لیکن آخر کب تک —- شراب اور شباب کی کثرت سے جسم اور توانائی نے ساتھ چھوڑ دیا ۔ خریدار ملنا بند ہوگئے —–میں نے بہنوں اور بہنوئیوں سے مانگ کر کھانا اور شراب پینا شروع کر دیا ۔ آخر ایک ایک کر کے انھوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا ۔ میں گلیوں میں دربدر پھرنے لگا ، مجھے اپنوں نے پہچاننے سے انکار کر دیا ۔ میں سڑک پر اور کبھی کسی دربار میں سوتا ۔ کچھ مل گیا تو کھا لیا ورنہ بے جان ہو کر پڑا رہتا ۔
پھر ایک دن اچانک قدرت کو مجھ پر ترس آیا ۔ میں کسی گلی سے گزر رہا تھا وہاں میلاد تھا اور چاول بھی پکے تھے میں چاول کے لالچ میں میلاد میں جا بیٹھا وہاں عمرہ کے ٹکٹ کے لیے قرعہ اندازی ہوئی میرا نام نکل آیا ۔ کچھ لوگوں نے کہا شرابی کو کیوں بھیجتے ہو کسی اور کو بھیجو مگر ایک بزرگ نے کہا کہ یہ بلاوہ خدا کی طرف سے ہے تم لوگ کون ہو اسے روکنے والے !بس اگلے دن انھوں نے مجھے نہلا دھلا کر تصویریں بنوائیں ، اور مجھے وہیں مسجد میں رہنے کی جگہ دے دی ، جب تک میرا ویزا پاسپورٹ بنا ،میں مسجد میں رہنے کی وجہ سے پانچ وقت کا نمازی بن چکا تھا ۔ شراب کی عادت پتہ نہیں کیسے چھوٹ گئی ، محلے کا ایک گھر امام صاحب کا کھانا دیتا اور ساتھ میرا بھی ۔ میں عمرہ پر روانہ ہو گیا۔ میں نے وہاں خوب عبادت کی ، خوب رویا ، خوب معافیاں اور ہدایت مانگی ۔
یہاں آکر انھی بزرگ سے کسی نوکری یا کام کا کہا انھوں نے مجھے ایک بڑی دوکان پر چوکیدار رکھوا دیا ۔ میں نے چوکیداری شروع کر دی ۔ کرائے کا مکان لیا ۔ بھلے وقت میں جو عورت ہمارے گھر کام کرتی تھی اسی کی بیٹی سے شادی کر لی ۔ میرے بچے ہو گئے ، میری بیوی سمجھدار تھی اس نے پیسے جوڑے اور میں نے کاروبار شروع کر دیا ۔خدا نے برکت دی کاروبار بڑھا ۔ اب میرے لوہے کے گودام ہیں ، دوکانیں ہیں ، مکان ہیں ، میرے بچے آپ جتنے ہیں وہ پڑھ رہے ہیں ، ایک بیٹی شادی شدہ ہے اور گھر میں خوشی ہے ۔ میری ایک بہن مر چکی باقی کے گھر آنا جانا ہے ، بس یہ افسوس ہے کہ میں پڑھا لکھا نہیں اور دوسرا یہ کہ میں نے جوانی برباد کر دی ۔
یہاں قریب ہی ایک ہسپتال ہے۔ وہاں میرا ایک رشتہ دار ایڈمٹ ہے اس کا پتہ کرنے آیا تھا ، رات مریض کی خدمت کے لیے رک گیا ۔ سستی ہوئی تو چائے پینے نکل آیا آپ پر نظر پڑی تو مجھے میری جوانی کی کوتاہیاں یاد آگئیں۔ آپ قریب آبیٹھے تو آپ بیتی کہہ ڈالی ۔ مجھ میں اور آپ میں بس تعلیم کا فرق ہے —- آپ میری والی غلطی نا دہرائیں بلکہ میرے تجربے سے فائدہ اٹھائیں —- اور مجھے یقین ہے کہ ﷲ پاک نے مجھے یقیناً معاف فرمادیا جب مجھے نیک رستے کی ہدایت دی ۔ اور پھر ایک آنسو ان کی آنکھ سے نکل کر داڑھی میں گم ہو گیا ۔ شاید یہ آنسو شُکر کا آنسو تھا —
میں نے پراٹھا کب کھایا کچھ یاد نہیں ، کھایا بھی کہ نہیں یہ بھی نہیں پتہ ، میں ان کی باتوں میں اتنا گم ہوا کہ ان کا نام پتہ ، علاقہ پوچھنا بھول گیا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *