نبی کے نور عین کی محبت اور ہمارے رویے۔مرزاشہبازحسنین

نبی محترم آقائے دو جہاںﷺ کے نور عین زہرہ سلام اللہ علیہ کے دل کے چین ،مظلوم کربلا جنت کے مالک و مختار امام حسین علیہ السلام آج دیکھیے ہم اسلام کا نام جپنے والوں کو ۔ہم کیا تھے اور آج کیا سے کیا ہوگئے۔ہم پہلے محب اہل بیت تھے اور آج ہم اور ہمارے رویے تبدیل ہو چکے ہیں ۔ہمارا ماضی محبتوں سے عبارت تھا،اور کیوں نہ محبت سے عبارت ہوتا کہ تب ہم کامل یکسوئی کے ساتھ اک نکتے پر متفق تھے۔ ہمیں معلوم تھا کہ۔۔

توحید جس کے دم پر ہے کھڑی وہ آسرا حسین ہے۔

چند صدیاں تو دور کی بات نصف صدی قبل تک ہم محض وہ مسلمان تھے جن کے فہم ِ دین کی عمارت محبت رسول و آل رسول ﷺ کی بنیاد پر قائم تھی۔اک عامی مسلمان جانتا تھا کہ جنت کے سردار جگر گوشہ رسول و بتول کی رضا ہی کی بدولت ہم جنت کے حقدار بنیں گے،اس وقت ہم مناقب اہل بیت ایمان کا بنیادی حصہ تھے۔تب ہم وہابی دیوبندی بریلوی اور شیعہ کی تقسیم سے بے نیاز حسنین کریمین کا ذکر مبارک سنتے ہی آنسو بہانے لگتے تھے۔آنسو جو دل کی میل کچیل کو دھو ڈالتے ہیں، آنسو روح کی بالیدگی کا سامان ہیں۔حسین کے غم میں بہنے والے یہ آنسو جو قلب کی شقاوت کو ختم کر کے دل میں نرمی اور حلاوت پیدا کر دیتے ہیں۔نرم دلی جس کے کارن انسان کو شرف انسانیت سے آگاہی ملتی ہے،ہم جانتے تھے پیاس کی شدت کیا ہوتی ہے۔علی اصغر گلشن زہرا کے ننھے پھول کا تذکرہ چھڑتے ہی آنسوؤں کی برسات شروع ہو جاتی،آنسو کی یہ لڑی ہماری روح کی تسکین کا باعث ہوتی تھی۔ہم نے جس عہد میں شعور کی آنکھ کھولی وہ زمانہ بھی آج کے زمانے سے بہتر تھا۔۔

کربلا کے میدان ،نواسہ رسول اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ظلم ِ عظیم روا رکھنے والوں کے نام ہمارے ذہن کے نہاں خانے میں نقش تھے،کسی کو شمر کہنے کا مطلب تھا کہ روئے زمین پر اس شخص جتنا رزیل   کوئی نہیں ،شمر اور یزید لفظ بدترین گالی تھا۔ماہ محرم کا آغاز ہوتے ہی ماحول پر غم اور یاسیت کی گھٹا چھا جاتی ۔ہمارے گھروں سے ہنسی اور قہقہے رخصت ہو جاتے ۔ہماری مائیں دادی اور نانیاں بچوں کو پاس بٹھا کر مظلومین کربلا کی جرات صبر اور استقامت کی داستان سناتی تھیں۔میٹھے پانی شربت اور دودھ کی تقسیم یکم محرم سے شروع ہو جاتی  اور یوم عاشور کے دن ایسے محسوس ہوتا تھا  کہ کائنات کا ذرہ ذرہ غم حسین کی یاد میں آنسو بہانےمیں مگن ہے۔زمیں آسمان چرندپرند سب کی گریہ زاری محسوس ہوتی تھی۔مگر پھر آگہی کے دعویدار تفہیم دین کے نام پر حسینیت کو ہمارے سینے سے نکالنے والے نمودار ہوئے۔ اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کے جنون میں مبتلا ان علمی بونوں نے آل رسول کی محبت کو تاویل منطق اور شریعت کا نام لے کر کم کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ نفرت کے ان بیوپاریوں نے ہمارے اسلام کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔محبت کی جگہ نفرت کا پرچار کیا۔حسینیت کے آفاقی پیغام اور حسینیت کے نظریات جو کہ تمام نسل انسانی کی قیامت تک رہنمائی کا باعث تھے۔اس کو محدود کرنے کی کوشش شروع کر دی۔آج کل کے ہمارے رویے اس تفریق کی غمازی کرتے نظر آرہے ہیں۔آج اسلام کو مختلف النوع فرقوں میں تقسیم کر لیا۔

آج کے فکری بونے غم حسین میں رونے کو برائی بتانے پر مصر ہیں ۔وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ اپنے محبوب نواسے کی شہادت کی خبر  فرشتے سے سن کر رونا شروع کردیں ۔حضرت ام سلمہ کو آگاہ کر کے زاروقطار گریہ کریں ۔ان کی مظلومانہ شہادت کی اطلاع سن کر غمگین ہوں۔آج ظلم و جبر کے خلاف خانوادہ رسول کی قربانی کو یزیدیت کے پیروکار اقتدار کی جنگ قرار دیں۔حیرت ہے ان نام نہاد دانشوروں پر ۔آج کل کی نسل میں جنت کے سردار کے کردار پر تشکیک پیدا کرنے والے یزیدیت کے پیروکار ۔دنیا و آخرت میں ناکام ٹھہریں گے،کس منہ سے نبیﷺ کا سامنا کریں گے۔

آج ہمیں  اپنے رویے تبدیل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔حیدر کے نور زہرہ کے دل کے چین کے لیے ہم کو بے چین ہو کر فلسفہ شہادت کو سمجھنا ہوگا۔حسین سب کے ہیں۔ حسین علیہ السلام کی محبت اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں میں منتقل کرنی ہوگی۔اپنے رویوں پر نظر ثانی کر کے محبت اہل بیت کی جانب واپس لوٹنا ہوگا۔ہماری آنکھوں سے محبت حسین میں آنسو پہلے کی طرح بہنے ہوں گے ۔گو مگو ں اور چونکہ چنانچہ والی کیفیت سے خود بھی نکلنا ہو گا اور اپنے بچوں کو بھی آل رسول ﷺ کی  محبت سے  روشناس کرانے کی اشد ضرورت ہے۔حسین کی قربانی کو کسی کے ایک گروہ کے ساتھ مخصوص کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔اپنے بچوں کی تربیت میں ال رسول کی محبت کو مرکزی حیثیت دینے میں ہم سب کی نجات ہے۔ قیامت سے بڑھ کر قیامت ہو چکی۔۔ آج اسلام کے نام لیوا ہماری نسل کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں ۔یزید ملعون لعین کو جنتی بتانے والے شرم سے ڈوب مرنے چاہیے ۔یزید ملعون کس جنت میں جائے گا ۔؟

شرم آنی چاہیے ایسے نام نہاد دانشوروں کو جن کو اس فرمان  ِ نبویﷺ سے بھی آگاہی نہیں کہ” حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے  سردار ہیں” ۔جنت کا حصول نبیﷺ   کی شفاعت کے بناء ممکن ہی نہیں ۔اللہ تعالی کی محبوب ترین ہستی  نے کائنات میں سب سے زیادہ محبت اپنے نواسوں سے کی ۔ان کے ساتھ ظلم عظیم کرنے والا ملعون لعین یزید اور اس کے حواری کسی  رعایت کے مستحق نہیں  ہیں ۔تف ہے  ایسی علمیت پر جو اہل بیت کی محبت میں  شک و شبے کا اطہار کرے اور یزید کے حق میں تا ویلیں گھڑے!

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *