حسین اور اسلامی فلسفہ سیاست۔محمود چوہدری

شہادت امام حسین ؓ محض ایک اندوہناک واقعہ نہیں ہے بلکہ اسلام کی تاریخ میں ایک نشان منزل ہے اس میں یہ سبق پوشیدہ ہے کہ جب اسلام میں سیاست اور عبادت کو الگ کرنے کی ساز ش تیار کی جائے اور اس کو بھی دیگر مذاہب کی طرح روایات کی حد تک محدود کرنے کی کوشش کی جائے تو اس وقت اس نظام کا قبول کرنے سے انکار کردو، اس میں یہ سبق پوشیدہ ہے کہ جب نظام حکومت میں صاحبزادگان اور شہزادگان کو ولی عہد مقرر کیا جائے اور نظام حکومت کسی جانشین کو منتقل کرنے کی کوشش کی جائے جس کا وہ اہل بھی نہ ہو تو اس نظام حکومت کو للکار دو، اس میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ جب آپ کا ووٹ طاقت کے ذریعے یا لالچ کے ذریعے لینے کی کوشش کی جائے تو ووٹ کو ایک امانت سمجھ کر دینے سے انکار کر دو ،۔

اس میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ کسی حکمران کی مذہب پرستی کو اس کی نمازوں ،اذانوں اور صدقہ و خیرات سے ماپنے کی کوشش نہیں کرنے چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ نظام حکومت کے لیے اس کا کردار کیسا ہے ، اس میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ جب کوئی لیڈر پر امن جدو جہد کا آغاز کرتا ہے توسب سے پہلے اپنی عورتوں اپنی بہنوں ، اپنی بیٹیوں اور اپنے شیر خوار بچوں کو ساتھ لے کر میدان میں اترتا ہے اس میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کا کام گھر میں صرف کھانا پکانا اورجھاڑو دیناہے ان کا یہ خیال فلسفہ شہادت حسین کے خلا ف ہے اس میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ اگراسلام کی اقدار پر حملہ ہوجائے تواپنے رفقاءاپنے بیٹوں بھانجوں اور بھتیجوں کی قربانی تک سے بھی گریز نہ کیا جائے،اس میں یہ سبق بھی پوشیدہ ہے کہ کسی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا کر خروج نہ کرو بلکہ پرا من طریقے سے ڈائیلاگ کا راستہ تلاش کروجیسا کہ حضرت امام حسین ؓ  نے میدان کربلا میں ظالموں سے کہا تھا کہ مجھے یزید سے براہ  راست بات کرنے کا موقع دیا جائے جو انہیں نہیں دیا گیا ، اس میں یہ سبق بھی موجود ہے کہ کسی جابر حکومت کی بظاہر وقتی فتح اسے رہتی دنیا تک ملعون ٹھہر ا سکتی ہے اور کسی کی اصول پسندی اس کا سارا کنبہ ذبح کروا دینے کے بعد بھی رہتی دنیا تک امر کرسکتی ہے۔

محرم الحرام کے ان دنوں میں آج اس فلسفہ کو جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا امام حسین ؓنے یہ ساری جدو جہد اور جان کی قربانی دنیاوی اقتدار اور سلطنت پر اپنے ذاتی حق جتانے کے لیے دی ؟ مقام حیرت ہے کہ جنہیں جنت کے نوجوانوں کی سرداری ملی ہو انہیں اس دنیا کے تخت وتاج کی کیا چاہت ؟وہ اقتدار جس کی طلب وحرص حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے لے کر حضرت امام حسنؓ تک نہ تو کسی مسلمان خلیفہ نے کی اور نہ ہی اس کے لیے جنگ وجدل کا بازار گرم کیا حضرت امام حسین ؓ کے بارے میں سوچنا بھی گناہ کبیرہ ہے کہ انہوں نے ذاتی استحقاق کے دعوی ٰ کے لیے تلوار اٹھائی ہو گی آپ حضرت حسن ؓ کے بھائی تھے جنہوں نے امن کی خاطر حضرت امیر معاویہ ؓ سے معاہدہ کر لیا تھا اور مسلمانوں کے گروہوں کو جنگ وجدل سے بچا لیا تھا آ پ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے وقت ان کے محل کے پہرہ دار تھے جنہوں نے اختیار ہوتے ہوئے اختیار استعمال نہ کیا اوراپنی جان کا نذرانہ محض اس لیے پیش کردیا تھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مدینة النبی ﷺ میں خون بہے پھر امام حسین ؑپر یہ بدگمانی ممکن ہی نہیں کہ آپ ؑ اپنے ذاتی اقتدار کے لیے مسلمانوں میں خون ریزی کرسکتے تھے۔

تو پھر وہ کون سے اصول تھے جن کی خاطر آپ نے یزید کو سر دینا تو گوارا کر لیا لیکن اس کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دینا گوارا نہ کیا ۔ کیا یزید کے حکمران بن جانے سے کفر کی حکومت آجانی تھی؟ نام نہادکلمہ گو تو وہ بھی تھا نماز کا اہتمام تو اس کی فوج کے کیمپوں میں بھی ہوتاتھا مسجدوں سے اذانوں کی صدائیں تو اس کی سلطنت میں بھی بلند ہونی تھیں۔نہ تو دعوت وتبلیغ کے سلسلہ پر  کسی قسم کی پابندی لگنے والی تھی اور نہ ہی مساجد سے وعظ ونصیحت رک جانے کا کوئی خطرہ امڈ آیا تھا۔نہ فلسفہ توحید وشرک کو کوئی نقصان پہنچنے والاتھا اور نہ ہی الہامی کتاب قرآن مجید کی بجائے کوئی اور صحیفہ سلطنت میں عام ہونے والاتھا مانا کہ یزیدشعائر اسلامی کا مذاق اڑانے والاعیاش اور برے کردار کا مالک تھا لیکن امام حسینؓ جیسے صبر وتحمل رکھنے والے اور شریعت کا گہرا ادراک رکھنے والے شخص سے یہ امید کیسے رکھی جا سکتی ہے کہ نظام حکومت میں تو کوئی فرق نہ آئے لیکن وہ محض اس لیے اپنی جانوں کو نذرانہ پیش کرنے نکل کھڑے ہوئے کہ ایک بدکردار شخص کے ہاتھوں اختیار واقتدار آگیا تھاتو پھر کیا وجہ ہے کہ امام حسین ؓ نے اتنی عظیم قربانی دی ؟سچ تو یہ ہے کہ اگر امام حسین ؓ نے راہ رخصت کو چھوڑ کر راہ عزیمت کو اپنایا توحضرت امام حسین کی نظر میں وہ مقصد بہت عظیم ہوگا وہ اصول و ضوابط بڑی اہمیت کے حامل ہوں گے جن کی خاطر آپ نے ہر قسم کی قربانی کو جائز سمجھا۔

دراصل حضرت امام حسین جیسی معاملہ فہم اور دور اندیش ہستی کو یزید کی ولی عہدی اور جانشینی میں وہ خرابی نظر آگئی تھی جو دین اسلام میں بطور نظام پیش آنے والی تھی انہیں محسوس ہوگیا تھا کہ وہ اسلامی ریاست جس کا تصور نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالی اجمعین نے تیس برس تک دیا تھا اس میں بگاڑ آنے والا ہے اسلام میں موروثی بادشاہت کا کوئی تصور نہیں تھااسلامی ریاست میں بادشاہت اور اقتداراعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہوتا ہے اور حکمران صرف نظام سلطنت چلانے والے نمائندہ وامین ہوتے ہیں ان نمائندوں کونظام شورائیت کے تحت آزادانہ انتخابات سے منتخب کیا جاتا ہے اور یہ انتخاب باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اس انتخاب میں خلیفہ کی جانب سے اقتدار کا ذاتی حرص وطمع شامل نہیں ہوتا بیعت یعنی ووٹ حاصل کرنے کے لیے سازشیں نہیں ہوتیں ووٹ یا بیعت افراد کا ذاتی اختیار ہوتا ہے کوئی کسی پر زور ڈال کر یا جبراًووٹ لینے پرمجبور نہیں کرتاعوام کی جانب سے اقتدار دیا جاتا ہے اور عوام کی حمایت چھن جانے پر اختیار و اقتدار ہٹ جاتے ہیں دین اسلام کے ریاستی امور میں اظہاررائے کی آزادی پہلے نمبر پر ہوتی ہے لوگ بلاخوف اپنے حکمرانوں پر تنقید کر سکتے ہیں ان کی غلطیوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں ۔

ان کے خطاب کے دوران کھڑے ہو کر ان کی چادر کے بارے میں سوال کر سکتے ہیں کرپشن کے ممکنہ خطرہ پر باز پرس کر سکتے ہیں خلیفہ وقت سے پوچھ سکتے ہیں کہ یہ قیمتی لباس آپ کو کہاں سے ملا اور خلیفہ وقت جب تک اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دے دیتا اس کی تعظیم کو اپنے اوپر لازم قرار نہیں دیتے معاشرہ کا کمزور طبقہ اپنے حقوق پر لگنے والی پابندیوں کو رکوا سکتا ہے ایک عورت بھرے دربار میں کھڑے ہوکر اپنے حقوق پرلگنے والی ضرب پر خلیفہ وقت کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے قانون کی حکمرانی ہوتی ہے اورقانون کے سامنے سب جواب دہ ہوتے ہیں بڑے سے بڑے عہدہ پر فائز حکمران بھی جج کے بلانے پر عدالت میں آتا ہے کسی حاکم وقت کو قانون میں رعایت   نہیں ہے جبکہ کسی بھی قسم کی بادشاہت میں ایسا نہیں ہوتااتنے خوبصورت و راہنما اصول دنیا کی کسی جمہوریت میں بھی نہیں ہیں جو اسلام کے نظام شورائیت میں تھے کہ جمہوریت میں تولوگوں کو تولا نہیں گنا جاتا ہے جبکہ شورائیت میں افراد کو ان کی اہلیت کو علم وحلم کی بنیا دپر پرکھا جاتا ہے امام عالی مقام علیہ السلام کو اندازہ ہوگیا تھا کہ سلطنت اسلامیہ میں اگر جانشینی اور بادشاہت کا تصور رائج ہوگیا تو یہ اخلاقیات پر حملہ نہیں بلکہ دین اسلام کے نظام پر حملہ ہوگا اور دین اسلام اور دیگرمذاہب میں فرق یہی ہے کہ دیگر مذاہب محض اخلاقیات کا تصور تو دیتے ہیں لیکن ان میں نظام زندگی کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔

امام حسین ؓ نے کربلا کی ریت پر اپنے خون سے حق و باطل کا معرکہ بپا کر کے بیعت یعنی منتخب کرنے اوراظہار رائے کی آزادی کی اہمیت واضع کی ہے ملوکیت و موروثیت کے بت کو پاش پاش کرتے ہوئے اسلامی ریاست میں انسانوں کو انسانوں کی غلامی میں جانے والی بدعت و گمراہی سے نجات دلائی ہے انہوں نے حق وباطل کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی ہے حسینیت آمریت یا آمریت کی کسی بھی قسم کی شکل کو نہیں مانتی آج پوری دنیا میں حسینیت کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ حسینیت جبر واستحصال کے سامنے صبر واستقامت کا نام ہے مصلحت کشی اور آمریت کے ہاتھوں بے دست وپالوگوں کے لیے پیغام ہے کہ حسینیت ہوس اقتدار اورہوس زر کے سامنے ایثار ،قربانی اور وفا کا نام ہے اسی لیے یزید قتل کر چکنے کے بعد میں مردہ باد ٹھہرا اور امام حسین اپنی جان کا نذرانہ دے کر آج بھی اسلام کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *