محرم الحرام میں کرفیو کا سماں۔۔۔مزمل فیروزی

 

اخباری مصروفیات اور پڑھنے کے جنون کے باعث محرم الحرام کے ان خاص ایام میں باہر نکلنا بہت ہی کم ہوتا ہے، بچپن سے ہی ان ایام کی اہمیت و فضیلت اور شہر کی صورتحال سے واقف ہونا فطر ی امر ہے مگر 8 محرم الحرام کو ایک ضروری کام سے صدر جانا پڑ گیا. صدر پہنچ کر اندازہ ہوا کہ ہمارے ملک میں کنٹینر درآمد اور برآمد کے بجائے راستے بند کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور ٹریفک کی عدم دستیابی کی وجہ باقی جگہوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کو شاہراہوں اور گلیوں کو بند کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ صدر کی مین شاہراہ جہاں بوہری جماعت خانہ ہے، وہ پہلی محرم سے عام لوگوں کے پیدل چلنے کےلیے بھی بند کردیا گیا ہے، پورا صدر بری طرح ٹریفک جام میں پھنسا ہوا ہے اور چند لوگ آرام سے روڈ کو بند کر کے محوگفتگو ہیں اور حفاظت پر مامور پولیس نوجوان پہرہ دے رہے ہیں۔ جہاں جہاں سے جلوس گزرنے ہوتے ہیں اور جہاں مجالس قائم کی جاتی ہیں وہاں پر خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں. ایم اے جناح روڈ سے متصل علاقوں میں کرفیو کا سماں۔
سیکیورٹی کے نام پر ان علاقوں کو اس مرتبہ آٹھویں محرم سے مکمل سیل کردیا جاتاہے ۔ علاقہ مکین شدید مشکلات کا شکار رہتے ہیں ۔اس مرتبہ نو محرم کے بجائے آٹھ محرم سے محصور کردیا  گیا۔سیکیورٹی کے نام پر تین دن تک محصور کرکے عوام کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔ کم از کم مریض اور خواتین و بچوں کو آمد و رفت کی اجازت ہونی چاہیے۔ لوگوں کی اکثریت کو جس پریشانی اور کوفت سے گزرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ ہمارے حکمران نہیں لگا سکتے جبکہ دوسری طرف جلوس کے راستوں پر قائم گھروں میں مہمانوں کی آمد بند اور دکانیں سات محرم الحرام سے ہی بند کرا دی جاتی ہیں اور رات میں لوگ تالے توڑ کر ان کی دوکانوں کا صفایا کر رہے ہوتے ہیں اور ایسا ہر سال ہی ہوتا ہے۔

دنیا کے 57 مسلم ممالک میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جو کئی دن بند رہتا ہے جبکہ ایران و عراق شیعہ ملک ہونے کے باوجود بھی اس طرح بند نہیں ہوتے جس طرح پاکستان ہوتا ہے۔ ایران اور عراق میں بھی یہ تمام رسومات ایک مخصوص جگہ پر کی جاتی ہیں جبکہ پاکستان میں ہندو برادری نے محرم کے احترام میں یا پھر راستے بند ہونے کی وجہ سے اپنا رام لیلا شو موخر کردیا اور ایران میں ایرنی فٹبال ٹیم اور کوریاکے مابین عاشور کے روز میچ ہے جس پر ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے کورین تماشائیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایران میں ہونے والے فٹ بال میچ کےدوران سیاہ قمیص پہنیں تاکہ شہادت امام حسینؑ کو بھی زندہ رکھا جا سکے۔انسانیت کے ناطے ہم سب ایک دوسرے کی مذہبی رسومات کے احترام کے پابند ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم رسومات کی ادائیگی میں دوسرے مسلمان بھائیوں کو تکلیف میں مبتلا کریں. جن علاقوں میں امام بارگاہیں قائم ہیں یا وہاں سے جلوس وغیرہ گزرنے ہوتے ہیں وہاں بالکل کرفیو کا سماںہوتاہے وہ علاقے دس روز تک مسلسل بند رہتے ہیں اور اس علاقے کی عوام کو آنے جانے میں جتنی مشکلات پیش آتی ہیں۔

اس کا اندازہ وہاں رہنے والے لوگ ہی لگا سکتے ہیں مگر کچھ کر نہیں سکتے. بہرحال مرکزی سڑک کی بندش تو سمجھ آتی ہے لیکن کئی علاقوں کی ذیلی سڑکیں بند کرنے کی کیا تُک ہے؟ جبکہ دوسری طرف دوسری تبلیغی جماعتیں موجود ہیں جو لاکھوں لوگوں کا اجتماع کرتی ہیں مگر کوئی بازار بند نہیں ہوتا، کوئی راستے بند نہیں ہوتے، اس کی سب سے بڑی مثال کراچی میں ہونے والے دعوت اسلامی اور تبلیغی جماعت کے بڑے بڑے اجتماع ہیں جو ہر سال منعقد کیے جاتے ہیں اور شہر میں کوئی نقص امن کا اندیشہ پیدا نہیں ہوتا۔صرف محرم الحرام میں ہی ایسا کیوں؟ اس پر تمام مکاتب فکر کو سوچنا ہوگا. ایسی کیا وجہ ہے جس سے پورے ملک میں لوگوں کو گھروں میں بند ہوتا پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح بھی سوگ منانا چاہتے ہیں منایا جائے مگر دعوت اسلامی و تبلیغی جماعت کی طرح اپنے لیے بڑی اراضی خرید لیں اور پھر وہاں جو دل چاہے کریں، اس طرح دوسرے مسلمان بھی پریشان نہیں ہوں گے اور آپ بھی اپنی عبادات آرام و سکون سے کر سکیں گے۔

یہ بات بہت شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ آپ جب بھی ایسے مذہبی جلوسوں اور رسومات کی بابت بات کریں گے تو آپ کو فورا ًوہابی و گستاخ یا منکر اسلام بنا دیتے ہیں۔برائے مہربانی اس مسئلے کا سنجیدہ حل نکالیے، عام آدمی کو اس ذہنی کوفت سے بچائیں۔ ویسے بھی ایک رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں ہر چارمیں سے ایک شخص ذہنی مرض کا شکار ہے۔ بات صرف سمجھنے اور دل بڑا کرنے کی ہے۔۔

مزمل فیروزی
مزمل فیروزی
صحافی،بلاگر و کالم نگار پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے رکن مجلس عاملہ ہیں انگریزی میں ماسٹر کرنے کے بعد بطور صحافی وطن عزیز کے نامور انگریزی جریدے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی سے روزنامہ آزاد ریاست میں بطور نیوز ایڈیٹر بھی فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ صبح میں شعبہ تدریس سے بھی وابستہ ہیں اردو میں کالم نگاری کرتے ہیں گھومنے پھرنے کے شوق کے علاوہ کتابیں پڑھنا اور انٹرنیٹ کا استعمال مشاغل میں شامل ہیں آپ مصنف سے ان کے ٹوءٹر اکائونٹ @maferozi پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *