• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خلیفہ عادل نجیب بنو امیہ عمر بن عبدالعزیز رح اور اہل بیت اطہار (ع) ۔۔سید حسنی الحلبی

خلیفہ عادل نجیب بنو امیہ عمر بن عبدالعزیز رح اور اہل بیت اطہار (ع) ۔۔سید حسنی الحلبی

اللہ عزوجل کی رحمت ہو ، عمر بن عبدالعزیز پر ، بے شک وہ بنوامیہ میں مومن آل فرعون کی مانند تھے ، ایک نجیب تھے ، قیامت کے دن ایک امت کے طور پر اٹھائے جائیں گے ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اموی خلفاء میں سے صرف حضرت عمر بن عبدالعزیز رح تھے جنہوں نے اہلِ  بیت رسول ع بنو فاطمہ ع کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ اپنایا،اسی وجہ سے امام محمد باقر ع سے روایت کی ہے کہ امام ع نے فرمایا : عمر بن عبدالعزیز بنی امیہ کا نیک آدمی ہے(تذکرہ الحفاظ)۔

اسی طرح شیعہ کتابوں میں آیا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز بیت المال سے اہلِ  بیت ع کا حصہ ادا کیا کرتے تھے۔سیدہ فاطمہ بنت علی بن ابی طالب ع ، جناب عمر بن عبدالعزیز کے لئے کثرت کے ساتھ رحمت کی دعا فرماتی تھیں۔(طبقات ابن سعد)

علامہ جلال الدین السیوطی رح اپنی کتاب تاریخ الخلفاء میں لکھتے ہیں کہ۔۔” مروی ہے کہ بنو امیہ خطبہ میں امام علی علیہ السلام پر سب و شتم کرتے مگر جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہوئے تو آپ نے اس بات کو بند کر دیا اور اپنے تمام نائبین کے نام حکم لکھ بھیجا کہ ان  کے خلاف ادب الفاظ کی بجائے یہ آیت پڑھی جایا کرے

إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ﴿سورة النحل:٩٠﴾

بیشک اللہ (ہر ایک کے ساتھ) عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے اور قرابت داروں کو دیتے رہنے کا اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی و نافرمانی سے منع فرماتا ہے، وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم خوب یاد رکھو۔

پس اس آیت کا پڑھنا اب تک خطبوں میں جاری ہے ۔

تاریخ الخلفاء / سیوطی / ص 394 /طبع بیروت

حضرت عمر بن عبدالعزیز رح کے دل میں محبت مولا علی (ع) کیسے پیدا ہوئی ۔

علامہ ابن اثیر اپنی مشہور کتاب الکامل میں لکھتے ہیں :

عمر بن عبدالعزیز کی خلافت سے پہلے تمام سلاطین بنو امیہ امیرالمومنین مولا علی ع پر سب و شتم کرتے تھے لیکن عمر بن عبدالعزیز نے اس کو سختی سے روکا اور تمام اعمال کو اس گناہ عظیم سے روکنے کی تاکید کی ۔ عمر بن عبدالعزیز کو مولا علی ع سے محبت پیدا ہونے کی صورت یہ ہوئی جیسا کہ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں علم کی تحصیل کر رہا تھا اور اس زمانہ میں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے درس حاصل کر رہا تھا ، ان کو میرے متعلق یہ معلوم ہوا کہ میں مولا علی ع کو برے الفاظ کے ساتھ یاد کرتا ہوں ، ایک دن میں ان کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوا جب وہ نماز میں مشغول تھے ، میں انتظار کرنے لگا جب وہ فارغ ہوئے تو مجھ سے کہنے لگے کہ تم کو یہ کس طرح معلوم ہوا کہ اللہ اصحاب بدر اور اصحاب بیعت رضوان سے خوش ہونے کے بعد ان پر غضب ناک ہوا ، میں نے کہا کہ میں نے یہ کسی سے نہیں سننا تو فرمانے لگے کہ پھر مجھے کس طرح معلوم ہوا کہ تم مولا علی ع کو برا سمجھتے ہو ۔ میں نے کہا کہ اب میں اللہ سے اس فعل کی معذرت چاہتا ہوں اور پھر آپ سے عفو کا خواست گار ہوں ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ سے ایسا کبھی نہ ہوگا ۔

بات یہ تھی کہ میرے والد جب خطبہ دیتے تھے تو مولا علی ع پر جب سب و شتم کے الفاظ کا ذکر کرنا چاہتے تو ان کی زبان لڑکھڑاجاتی ، میں نے پوچھا کہ بابا آپ خطبہ میں بے تکلف کہتے چلے جاتے ہیں لیکن جب مولا علی ع کا ذکر آتا تو مجھے آپ کی تقریر میں نقص معلوم ہوتا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ کیا تم اس کو سمجھ گئے ۔ میں نے کہا : ہاں ! کہنے لگے ، بیٹا ، جو لوگ ہمارے گرد بیٹھے ہیں اگر ان کو اتنا معلوم ہوجائے جتنا ہم علی بن ابی طالب ع کے متعلق جانتے ہیں تو یہ لوگ ہم کو چھوڑ کر علی بن ابی طالب ع کی اولاد کے پاس جمع ہوجائیں گے۔

جب عمر بن عبدالعزیز حکمران ہوئے تو ان کے دل میں دنیا کی کسی چیز سے الفت باقی نہ رہی تھی کہ جس کے لئے وہ اتنا عظیم الشان گناہ کرتے ، اس لئے انھوں نے سب علی بن ابی طالب ع کو یکسر چھوڑ دیا اور لوگوں کو اس کے چھوڑنے کا حکم دیا ۔ مولا علی ع پر سب و شتم کے بجائے خطبہ میں اس آیت کی تلاوت کرتے تھے ۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى {النحل: 90}

اللہ عدل ، احسان اور اقرباء کی اعانت کرنے کا حکم دیتا ہے۔

عمر بن عبدالعزیز کا مولا علی ع پر سب و شتم ختم کروانے یہ کام بڑی وقعت کی نظر  سے دیکھا گیا اور سب نے ان کی بڑی تعریف کی ۔

کثیر غزہ نے یہ اشعار کہے :

اے عمر ! جب تم والی ہوئے تم نے مولا علی ع کو برا بھلا نہیں کہا

اور نہ تم نے کسی بے گناہ کو ڈرایا اور نہ کسی مجرم کے قول کی اتباع کی

تم ہمیشہ کہی ہوئی حق بات کہتے ہو اور در حقیقت

ہدایت کی نشانیاں حق گوئی ہی سے رو نما ہوتی ہیں

تم نے جس اچھے کام کے متعلق حکم دیا اس کو

پہلے کر کے دکھا دیا ، جس سے ہر مسلم کا دل تم سے خوش ہے ۔

بے شک انسان کھلی کج روی اور گمراہی کے بعد ۔۔۔

یہ کافی ہے کہ اس کو ایک اصلاح کرنے والا درست کر سکتا ہے ۔

جب عمر بن عبدالعزیز نے یہ اشعار سنے تو بولے کہ اب ہم فلاح پا چکے ۔

عادل خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رح کے اس عظیم کارنامے سے ، بنوامیہ کی جاری کردہ ایک بدعت اپنے انجام کو پہنچی ۔
خلفاء بنو امیہ میں سے عمر بن عبدالعزیز اور خلفاء بنو عباس سے منتصر عباسی کے لئے ہمیشہ رحمت اور مغفرت کی دعا نکلتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *