پیارے ہمسائے! نہایت عزت و احترام کے قابل اور میرے پیارے پڑوسی میں آپ کو بہت پہلے یہ خط لکھنا چاہتا تھا، لیکن وقت کی کاری ضرب نے کبھی اس کا موقع ہی نہیں دیا۔ ابھی بھی آپ کے لیے← مزید پڑھیے
وہ میری ہم عمر ہے۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ 1997 میری گریجوایشن کا سال تھا کامیابی کی خوشی اور مادر علمی سے جدائی کی اداسی کے ملے جلے احساسات تھے۔ پڑھائی مکمل ہو چکی تھی اکا دکا← مزید پڑھیے
سرخ سویرے کے خوں آشام سائے میں دست صبا کی دستک سے کھلنے والے دریچہ الفت کی کہانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاؤں کی سہمی سہمی فضا میں ایک اور نمناک اداس صبح کا آغاز ہو چکا تھا خنک بھیگی اور کہر آلود← مزید پڑھیے
طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں! ٹھک ٹھک ۔۔۔۔۔ ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔۔۔شاید کوئی دروازے پر دستک دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ہوا ہوگی میں۔ ۔ نے نیند کی مدھوشی میں سوچا باہر چھاجوں پانی← مزید پڑھیے