رابعہ احسن کی تحاریر
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

برف اتری ہے خالی آنکھوں پر۔۔۔۔رابعہ احسن

 کبھی کبھی لگتا ہے ہم بلاوجہ زندگی کو سنوارنے کیلئے اپنی خوشیاں تیاگ دیتے ہیں، اپنے جذبوں کو دبا دیتے ہیں اور اچھی بھلی دل کو لبھاتی ہوئی خواہشات کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں۔ حاصل وہی روایتی سے سمجھوتے ہوتے←  مزید پڑھیے

بھوک یا روشن خیال۔۔۔۔رابعہ احسن

پاکستان کی دن رات ڈولتی ہوئی سیاست اور کرپٹ، وعدہ خلاف سیاست دان ہمارے ملک کا ٹریڈمارک بن چکے ہیں ۔ پاکستان کا نام آئے تو دہشت گردی، کرپشن، سیاسی رہنماؤں کی منی لانڈرنگ، اربوں کھربوں کے گھپلے۔ دوسرے ملکوں←  مزید پڑھیے

پھانسی کون سے مجرم کو؟۔۔۔۔رابعہ احسن

جنوری میں جب ابو کی عیادت کیلئے میں پاکستان میں تھی ۔ عجیب سا وزٹ تھا پاکستان کا۔ سارا دن بس ابو کے پاس ایک کمرے میں رہنا! ان سے دھیان ہٹتا ہی نہیں تھا شروع میں تو ان کی←  مزید پڑھیے

ناموں سے آگے کا ادب۔۔۔رابعہ احسن

بہت پہلے سے لیکرآج تک ہم صرف نام پڑھتے ہیں اس کے علاوہ شاید ہماری ذہانت ہمارا ساتھ نہیں دیتی یا ہمارا ضمیر خود اپنے ہی استعمال سے ناراض ہوجاتا ہے! ہم برانڈ سے آگے سوچتے ہی نہیں بس برانڈ←  مزید پڑھیے

طلائی۔۔۔۔رابعہ احسن

کچے صحن میں اتنی شدید دھوپ پڑرہی تھی کہ مٹی کی سوندھی خوشبو میں حبس زدہ تھکن اور اکتائی ہوئی جلن شامل ہونے لگی۔ اندر کا موسم تو پہلے ہی بان کی سخت کھردی چارپائی کی طرح جسم پر گرم←  مزید پڑھیے

بھول بھلیوں کا حسن اور گلگت۔۔۔رابعہ احسن

بولنے سے بہت سے موسم ہم پہ وا ہوتے ہیں جو خاموش رہنے سے پس منظر میں چھپنے لگتے ہیں اس لئے بولنا ضروری ہے اور بولتےمنظر ہمیشہ سے توجہ کا مرکز بننے لگتے ہیں جب کوئی تصورات اور حقیقت←  مزید پڑھیے

دوسری شادی اورحقوق۔۔۔۔رابعہ احسن

معاشرہ اور مذہب ہمیں جینے کے اصول دیتے ہیں ۔ مذہب کو پہلے اس لئے نہیں لکھاکہ اکثر لوگ مذہب کو زبردستی کے معاملات ٹھہراتے ہیں ۔ لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ مذہب اور معاشرہ مل کے معاشرے←  مزید پڑھیے

دل سے دل تک!پاکستان ۔۔۔۔۔ رابعہ احسن

کچھ لمحے، کچھ باتیں صرف محسوس کی جاسکتی ہیں ان کا رنگ دل کی آنکھ سے جاملتا ہے اور ہر بات آیت کی طرح اترتی چلی جاتی ہے۔ آجکل پاکستان کے سب عوام کا یہی حال ہے کہ ایک روشنی←  مزید پڑھیے

میرالیڈر۔۔۔رابعہ احسن

روزمرہ کی مصروفیات کااثر ہماری تخلیقی صلاحیتوں پر بہت طرح اثرانداز ہوتا ہے اور معاشرے کے اہم ایشوز پہ جب لکھا نہ جاسکے تو سوچ کی دیوی بھی روٹھنے لگتی ہے کہ دیکھ تو سب رہے ہوتے ہیں مگر محسوس←  مزید پڑھیے

جذبے۔۔۔۔۔ رابعہ احسن

وہ کئی دن سے مجھے فون کررہی تھی اور میں نمبر دیکھ کے فون ہی نہیں اٹھاتی تھی”کوئی کام نہیں ان لوگوں کو سوائے اشتہار بازی کے” مجھے سمجھ نہیں آتی تھی ایسے ہائی پروفائلوں کو مجھ سے کیا کام۔←  مزید پڑھیے

بیٹا نہ دیجئو!!۔ رابعہ احسن

زمانہ نیا ہو یا پرانا رسمیں روایتیں اور ان کی بدصورتیاں ہمارے خون میں رچ بس گئی ہیں چاہ کربھی جان چھڑانا ناممکن لگتا ہے۔ اور جس گھر میں بیٹی جوان ہوجائے اورجہیز جوڑنے کےلئےپیسے تک نہ ہوں۔ جہاں کبھی←  مزید پڑھیے

سانحہ یہ ہے۔۔۔رابعہ احسن

عید ہو رمضان، شبرات، محرم مطلب کوئی بھی دکھ  یا خوشی کا تہوار ہو ہمارا اہم فریضہ سوشل میڈیا پر پوسٹس کا رش اور میسجز میں جمعہ بازار ل جاتا ہے سب کا دین، اسلام محض الفاظ کے کهوکهلے برتنوں←  مزید پڑھیے

خواتین کی خودمختاری۔۔۔رابعہ احسن

ابتدائی تعلیم سے ہی ہمیں خواتین کے حقوق اور ان کی پاسداری کے بارے میں نصابی اور اسلامی ہر طرح کی تعلیم سے روشناس کرایا جاتا رہا جس کی رو سے ہمیشہ عورت  کے بارے  ایک مختلف صورتحال سامنے آئی←  مزید پڑھیے

نمل! ایک خواب! ایک جذبہ…رابعہ احسن

جب سے دنیا کا ظہور ہوا اچهائی اور برائی ساتھ ساتھ چلتی آئی ہیں۔ برائی میں حقیقتا”بڑی کشش ہوتی ہے اسی لئےزیادہ تر لوگ کهنچے چلے جاتے ہیں کچھ جیالے تو علی لاعلان بتاتے ہیں اور کچھ کائیاں اچهائی کا←  مزید پڑھیے

شخصی آزادی سے جنم لیتے مسائل۔۔۔رابعہ احسن

اکثر ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوئے ایسی بھاری تلخیاں سامنے آجاتی ہیں کہ گفتگو چاہتے ہوئے بھی انتہائی ناخوشگوار ہوجاتی ہے ایسی حقیقتیں سامنے آتی ہیں جو شاید دوسروں کیلئے کوئی عام سی روزمرہ کہانی ہوں ،جو ادھر ادھر اکثر←  مزید پڑھیے

آئینہ خانہ۔۔رابعہ احسن

“عمران خان کے گھر میں پیرنی ہے اس سے پتہ کرا لیں کدھر غائب ہوا ہےاستخارہ کرائیں اس سے”۔۔۔ فیصل سبحان کے غائب ہونے پر طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے احتجاج کا یہ جواب میڈیا کو دیا تو←  مزید پڑھیے

آ زاد نظم کا ن م راشد اور آزادی فکر۔۔رابعہ احسن

 زندگی کی تیز رفتاریوں میں جہاں سیاسیات، ابلاغیات اور معاشیات کے ہنگاموں نے روز و شب کے چکروں میں الجھا کر ہماری ذہنی اور جسمانی ایکٹیویٹی کو جکڑ کے رکھ دیا ہے ہماری سوچیں محض مسائل اور ان کے ممکنہ←  مزید پڑھیے

قتل یا شہادت؟۔رابعہ احسن

16 دسمبر2014  کی صبح پاکستانیوں  کے لئے    دکھ کی تاریخ رقم کرگئی۔  اسی تاریخ کو  سقوط ڈھاکہ  سے  پاکستان  دو لخت ہوا تھا،تین سال پہلے اسی صبح   درجنوں ماؤں کی گود اجڑ گئی۔ماں کی گود اور  سردی کے خوف←  مزید پڑھیے

اپنی دنیا خود پیدا کر۔۔۔ رابعہ احسن

اس کی آ نکھوں کے سامنے اس وقت جو منظر تھا وہ کسی قیامت کا ہی حصہ ہوسکتا تھا وہ جو اپنے نازک احساسات اور جذبات لئے کتنی دیر سے انتظار کی گھڑیاں گن رہی تھی اپنےحنائی ہاتھوں پہ اک←  مزید پڑھیے

زندگی۔۔(نظم)۔۔ رابعہ احسن

زندگی ‎تو کبھی ایسی چپ تو نہ تھی تھی تو بیزار سی ، دل کے اندر پڑےصاف انکار سی ، خود گراں بار سی ہاں مگر جستجو کے دریچوں میں گم بہتے پانی کی لہروں پہ آنچل سے لہریں بناتی←  مزید پڑھیے