اقتدار جاوید کی تحاریر
اقتدار جاوید
روزنامہ 92 نیوز میں ہفتہ وار کالم نگار

کیا خدا کا وجود ہے /اقتدار جاوید

منشا یاد خاصا غیر ادبی نام ہے اور اس کا اندازہ خود منشاد یاد کو بھی تھا مگر ان کا کہنا تھا کہ نام میں کیا دھرا ہے۔بالی وڈ کی خوبصورت ترین لڑکی کا نام بھی تو آخر منشیا کوئرالہ←  مزید پڑھیے

پاکستان کا مستقبل اور قرآن /اقتدار جاوید

پاکستان کا مستقبل اور قرآن؛ ہم اپنے بزرگوں سے سنتے بھی آئے ہیں اور خود ہماری بھی دعا ہے کہ ہمارا پیارا ملک ابدالاباد تک آباد رہے گا۔ ہم اپنے دماغ میں مستقبل کے پاکستان کا خاکہ تو نہیں رکھتے←  مزید پڑھیے

عبدالرزاق ساجد ایک مثال ایک کہانی/ اقتدار جاوید

مجھے کامیابی اور جدوجہد کی کہانیاں خود کامیاب آدمیوں کی زبان سے سننا بہت پسند ہے۔میں جب بھی کامیاب لوگوں سے ملتا ہوں تو ان سے ان کی کامیابی کا راز اور جدوجہد کے مراحل کے بارے میں جاننے کی←  مزید پڑھیے

سٹوڈنٹ ڈے /اقتدار جاوید

کہا جاتا ہے کہ بچپن یا زندگی کے پہلے پانچ سال والا عرصہ ایک تاریک براعظم ہے جس کے بارے میں کسی کو کچھ یاد نہیں۔ہم نے بھی اپنے دوستوں سے سکول کے پہلے دن کے بارے میں استفسار کیا←  مزید پڑھیے

کلکتے کی سوغات/ اقتدار جاوید

کلکتے سے ہمارا پیار غالب کے زمانے سے ہے کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشین اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے نوشاد مومن کا ” مژگاں“ ملتا ہے تو کالکاتا بھی یاد آتا ہے←  مزید پڑھیے

باغیچہ ِ اطفال/ اقتدار جاوید

خشیت ِالہٰی فی الاصل مشیت ِالہٰی ہے۔ زندگی عناصر کا ظہور ِترتیب ہے شاعری الفاظ کا شعور ِترتیب ہے۔منیر نیازی کا پنجابی کلام کل کلام کے نام شائع ہوا تھا اقبال ساجد کا کلیات مل کلام کے نام سے شائع←  مزید پڑھیے

نشان ِپاکستان/ اقتدار جاوید

قاسمی صاحب ایک خوش قسمت ادیب ہیں۔ ادیب کی خوش قسمتی کی کئی اقسام ہوں گی مگر ہمارے نزدیک ادیب خوش قسمت اس وقت ہوتا ہے جب اس کا لکھا ہوا قبول ہوتا ہے۔ عطاالحق قاسمی صاحب نے بچپن ہی←  مزید پڑھیے

نشانِ پاکستان/اقتدارجاوید

قاسمی صاحب ایک خوش قسمت ادیب ہیں۔ ادیب کی خوش قسمتی کی کئی اقسام ہوں گی مگر ہمارے نزدیک ادیب خوش قسمت اس وقت ہوتا ہے جب اس کا لکھا ہوا قبول ہوتا ہے۔ عطاالحق قاسمی صاحب نے بچپن ہی←  مزید پڑھیے

مادرِ علمی کی حالتِ زار/ اقتدار جاوید

ہم ایک دیہاتی اسکول سے دیہاتی کالج میں پہنچے تو جیسے ایک نئی دنیا سامنے تھی۔فرسٹ ائر میں پہلی کلاس اور پہلے دن ہمیں کہا گیا کہ ہر کالج کے طالب علم کے پاس ایک ڈائری ہونی چاہیے۔ایک کتابوں کی←  مزید پڑھیے

ہائبرڈ بولی /اقتدار جاوید

کہتے ہیں وزیر اعظم اور ان کے کبھی مخالف اور سیاسی جان کے دشمن سب ہائبرڈ نظام سے بہت خوش ہیں۔ہماری جانے بلا کہ وہ خوش ہیں یا نہیں ان کی دیکھا دیکھی خود ہمارے گھر میں بھی یہ موذی←  مزید پڑھیے

ملحد/ اقتدار جاوید

الحاد خدا کا انکار ہے اور دہریت اس کی فکری تشکیلات پر مبنی ایک تحریک ہے۔جب ملحد مذہبی عقائد کی من پسند تشریح کرتا ہے تو وہ اسی دہریت کی فکری تحریک کا ہی دست و بازو بنتا ہے۔الحاد کا←  مزید پڑھیے

باری کا بخار/ اقتدار جاوید

باری کا بخار چڑھتا ہے تو زور شور سے چڑھتا ہے۔اس باری کے بخار کو لوگ ملیریا کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ ایک متعدی بیماری ہے اور ہر سال اس سے تین سے چار کروڑ لوگ شکار ہوتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

پانچ جنگیں /اقتدار جاوید

پینسٹھ کی جنگ میں ہم دوسری جماعت میں تھے اور ایک دو واقعات یادوں کی جھلمل میں ابھرتے اور ڈوبتے ہیں۔قبلہ والد ایک جگہ پر مجاہدین کے لیے اکٹھی کی جانے والی امداد کو دیکھ رہے ہیں اور اسے سرکاری←  مزید پڑھیے

استقامت/ اقتدار جاوید

ہمارے تین پسندیدہ سفر نامے ہیں اب جن کا شمار کلاسک اور یادگار سفر ناموں میں ہوتا ہے ۔وہ تینوں الگ الگ مزاج کے سفرنامے ہیں اور ان کے تینوں مصنفین بھی الگ الگ طبائع کے مالک ہیں۔ شوق آوارگی،←  مزید پڑھیے

ہمزاد /تحریر-اقتدار جاوید

کھڈے لائن افسر کی نہ افسری افسری ہوتی ہے نہ شاعری شاعری تو کیا سارا طلسم عہدے کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا فیصلہ سید محمد افسر ساجد نے انتہائی یقین کے ساتھ کر دیا کہ ؏ دوستوں کے حلقے←  مزید پڑھیے

بیسویں صدی کا دوسرا عشرہ اور بڑی اماں/ اقتدار جاوید

ایک بے دردیوار صحن تھا اور چار گھر۔ان چاروں گھروں کے سامنے کوئی دیوار کوئی دروازہ نہیں تھا۔ایک گلی تھی جو گاؤں کے ٹبے سے بائیں ہاتھ مڑتی اور کھیتوں کھلیانوں کو نکل جاتی۔یہ چار گھر گاؤں کے ایک Slum←  مزید پڑھیے

صحرا نورد کے خطوط( جدید)-اقتدار جاوید

پیارے شاعر، نگاہ ِمہر آشنا، آشنائے رموز شعر و ادب عالیہ، نظارہ ِچمن ِناآفریدہ، گلہ گزارِ زمانہ کہاں رہ گئی وہ رنگین شام جو اب ایک پھانس کی طرح اب حلقوم ِذبیحہ میں اٹکی ہوئی ہے۔ وہ شام کا دھندلکا←  مزید پڑھیے

کوئے ملامت/ اقتدار جاوید

آفتاب احمد شاہ کا کلیات جو کوئے ملامت کے نام سے شائع ہوا ہے اپنی نہج میں ایک سوال نامہ ہے۔شعر سے معاملہ کرتے ہوئے انہوں نے ریاست، معاشرتی رویوں اور خانقاہی نظام کو اپنے سوالات کا موضوع بنایا ہے۔←  مزید پڑھیے

بحیرہ ِ روم کا خونی گھاٹ /اقتدار جاوید

بلاول اور فخر دونوں دوست بھی تھے اور ایک گاؤں کے رہنے والے بھی۔دونوں اسی بدقسمت کشتی میں سوار تھے جس میں بحیرہ ِروم کے خونی گھاٹ پر چوالیس نوجوان جاں بحق ہوئے ۔انہی چوالیس میں یہ دونوں دوست بھی←  مزید پڑھیے

سیاست کا حسن کوزہ گر/ اقتدار جاوید

میں چائے پینے کے لیے ایک ریستوراں میں داخل ہی ہوا تھا کہ میری نظر ایک دانشور ٹائپ بندے پر پڑی۔پا بہ گل، خاک بر سر برہنہ، سر چاک ژولیدہ مو، سر بہ زانو، تو میں سمجھ گیا اس کا←  مزید پڑھیے