جانچ پڑتال سے خوفزدہ نہیں ہوں، آنگ سان سوچی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)  میانمار سے ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کے انخلاء کے بعد دنیا بھر کی جانب سے لگائے جانے والے نسل کشی کے الزامات پر جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک بین الاقوامی جانچ پڑتال سے خوف زدہ نہیں۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق رکھائن میں جاری کشیدہ صورتحال پر اپنے پہلے قومی خطاب میں میانمار کی نوبیل انعام یافتہ رہنما کا کہنا تھا کہ ایک ماہ کی قلیل مدت میں 4 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش ہجرت کے باوجود کشیدہ علاقے میں مسلمانوں کی ’بڑی تعداد‘ موجود ہے۔آنگ سان سوچی نے دعویٰ کیا کہ ‘رکھائن میں روہنگیا مسلمانوں کی نصف سے زائد بستیاں اب بھی آباد ہیں۔خیال رہے کہ 25 اگست کو روہنگیا عسکریت پسندوں کی جانب سے میانمار کی سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے اور اس کے بعد رکھائن میں شروع ہونے والے ظلم و ستم پر آنگ سان سوچی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔فوجی کریک ڈاؤن سے جان بچا کر بھاگنے والے روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش کا رخ کیا جبکہ پیچھے رہ جانے والی ان کی بستیاں شعلوں کی نذر کردی گئیں۔میانمار حکومت کی جانب سے اس تمام صورتحال کا ذمہ دار روہنگیا مسلمانوں کو ہی قرار دیا جارہا ہے تاہم متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکار اور بدھ مت کے ماننے والے مشتعل افراد ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔میانمار کے دارالحکومت نیپیاتو میں غیر ملکی سفارت کاروں سے بات کرتے ہوئے آنگ سان سوچی نے کہا کہ ان کی حکومت علاقے کی صورتحال معمول پر لانے کے لیے کام کررہی ہے۔میانمار کی رہنما نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’5 ستمبر سے کشیدگی کا شکار علاقے رکھائن میں نہ کوئی جھڑپ ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی کلیئرنس آپریشن۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *