برستی بارش میں
ٹین کی چھت پہ گرتی بوندیں
کچھ فاصلے پر سلگتی آنکھیں ۔۔۔
اک آوارہ بوند
سر سے گزرتی ہے
کمر کو چیر تی ۔۔
بدن کے صحرا میں گم ۔۔۔
بدن کو چھپانے کی کشمکش
نظر کو ہٹانے کی کشاکش
کسی انہو نی کی دہشت
مطمئن نظر آنے کی وحشت
سانسیں مضمحل۔۔ آنکھیں بد حواس
کیسے کروں بیاں جواں کا لڑکی ہراس ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں