ہراسمنٹ ۔۔اجمل صدیقی

برستی بارش میں
ٹین کی چھت پہ گرتی بوندیں
کچھ فاصلے پر سلگتی آنکھیں ۔۔۔
اک آوارہ بوند
سر سے گزرتی ہے
کمر کو چیر تی ۔۔
بدن کے صحرا میں گم ۔۔۔
بدن کو چھپانے کی کشمکش
نظر کو ہٹانے کی کشاکش
کسی انہو نی کی دہشت
مطمئن نظر آنے کی وحشت
سانسیں مضمحل۔۔ آنکھیں بد حواس
کیسے کروں بیاں جواں کا لڑکی   ہراس ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *