ضیا : کیا شاعری ان عطایا میں سے ہے جس کو کاروباری فضیلت بنانا اس فن کی توہین ہے ۔۔۔؟
آنند “:جی ہاں، یقیناً ہے، لیکن مارکیٹ اکانومی میں آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں کہ آپ اسے کاروباری نہ بھی بنانا چاہیں تو بھی ’کاروبار‘ آپ کے پیچھے بھاگتا ہے ۔انڈیا میں جیسے کرکٹ کا کھیل کاروباری لوگوں کے ہاتھوں میں ایک کاروبار بن گیا ہے۔ مشاعروں کا انعقاد ، کتابوں کی رونمائی یا خود نمائی کے لیے یا انعامات، ایوارڈوں کے لیے جلسوں کا انعقاد اور پھر ان کی خبریں اور تصاویر الیکٹرانک میڈیا پر پھیلانا۔۔۔۔اب ایک روزمرہ کی چیز ہے، جس کا ’’ٹھیکہ‘‘ کچھ ایک فرد یا ان کی ماتحت انجمنیں لیتی ہیں اور اس کی قیمت وصول کرتی ہیں۔ کیا یہ ’فن‘ کی توہین ہے؟ قبلہ ضیا صاحب، آپ اور ہم کون ہوتے ہیں یہ فتویٰ صادر فرمانے والے؟ اُن سے پوچھیے، جو اِن جلسوں کی تصاویر اپنے گھروں میں سالہا سال تک سنبھال کر اپنے فوٹو البموں میں رکھتے ہیں یا دیواروں پر آویزاں کرتے ہیں۔
ضیا۔ کیا شاعری کو’’ منزل من اللہ ‘‘مان لیا جائے ؟ یا یہ توقیفی نصاب ہے یا فنی ورزش کا نتیجہ ؟
آنند: ’منزل مِن اللہ‘ ، ’توقیفی نصاب ‘ اور ’فنی ورزش‘ ان تین کلیدی اصطلاحات کے معانی سمجھنے کی کوشش کرنا میر ا فرض ہے۔(۱) منزل مِن اللہ تو شاعر کے الفاظ میں (شایدآتش)ؔ ؎ ہماری منزل اوّل جو تھی سو تھی، بتائیں کیا : مگر اب منزل مِن اللہ تک پہنچنے کو ترستے ہیں۔۔ان معانی میں اگر نہ بھی لیا جائے تو ‘‘شاعری جزویست از پیغمبری‘‘ کے مطالب میں ڈھال لیں۔پہلے میری یہ نظم دیکھ لیں، جو جزوی طور پر اس موضوع کے استفہامیہ کا جواب ہے۔اس کے بعد میرا باقی ماندہ جواب پڑھیں۔
بو علی اندر غبارِ ناقہ گُم
میں اگر شاعر تھا، مولا، تو مری عہدہ برائی کیا تھی آخر؟
شاعری میں متکفل تھا، تو یہ کیسی نا مناسب احتمالی؟
کیا کروں میں؟
بند کر دوں اپنا بابِ لفظ و معنی؟
اور کہف کے غار میں جھانکوں ، جہاں بیٹھے ہوئے
اصحاب معبود ِ حقیقی کی عبادت میں مگن ہیں
اور سگ ِ تازی سا چوکیدار، ان کے پاس بیٹھوں
وحدت و توحید کا پیغام سُن کرورد کی صورت اسے دہراتا جاؤں؟
پوچھتا ہوں
کیا مری مشق ِ سخن ، توحیدکی ازلی شناسا
قرض کے بھُگتان کی داعی نہیں ہے؟
میں تو راس المال سارا پیشگی ہی دے چُکا ہوں
قرض کی واپس ادائی میں
مرے الفاظ کا سارا ذخیرہ لُٹ چکا ہے
شعر کو حرف و ندا میں ڈھالنا
تسبیح و تہلیل و عبادت سے کہاں کمتر ہے مولا؟
’’شاعری جزویست از پیغمبری‘‘۔۔۔۔کس نے کہا تھا؟
میں تو اتنا جانتا ہوں
میری تمجید و پرستش لفظ کی قرآت میں ڈھلتی ہے
تو پھر تخلیق کا واضح عمل تسبیح یا مالا کے دانوں کی طرح ہے
پھر خیال آتاہے شاید میں غلط آموز ہوں
جو شعر گوئی کوعبادت جان کر اِترا رہا ہوں
’’بو علی‘‘ ہوں، جو ’’غبار ِ ناقہ‘‘ میں گُم ہو گیا ہے!
۰۰۰بو علی اندر غبار ِ ناقہ گم : دست ِ رومی پردہ ٔ محمل گرفت۔
مجھے یہ اختیار نہیں ہے کہ میں نفی یا اثبات میں اس سوال کا جواب دوں۔ بہر حال اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ سچی شاعری میں ’وحی‘ کا، ’فال‘ کا، کا، ’آکاش بانی‘ کاکچھ عنصر ضرور ہوتا ہے۔ یہ پیش آگاہ بھی ہو سکتی ہے، پیش بین بھی ہو سکتی ہے، نہفتہ دان ہونے کی منزل تک پہنچنے میں اس بسا اوقات کامیابی نصیب ہوتی ہے، لیکن ہر بار نہیں۔ اس لیے کہ یہ بہم گفتگو کی زبان نہیں ہے، اور دنیاوی کام کاج کی بھی نہیں ہے۔ جوف و جوع کی اس گہرائی سے اٹھتی ہے جس تک اپنے بیدار لمحوں میں ہماری رسائی نہیں ہو سکتی (۲) دوسرا سوال اسی پر انحصار رکھتا ہے، کہ اگر ہم اسے منزل مِن اللہ تسلیم کر لیں تو ۔۔۔؟ جی نہیں، اگر ہم اسے مد نمبر ایک کے خانے میں ڈال دیتے ہیں، (جزوی طور پر ہی سہی) تو ۔۔۔۔۔۔۔؟
توقیفی نصاب (توقیفی ؟یہ اصطلاح شرحی بھی ہے اور عمومی بھی ہے۔ شرحی اصطلاح کے طور پر ا س کا مطلب ہم سب ’اللہ میاں کی ٹھہرائی ہوئی ‘ بات، رسم ، قول ،اصول،ضابطہ وغیرہ ہے۔ عمومی سطح پر توقیفی کا مطلب وقت ؍ اوقات سے متعلق ہے۔)۔۔۔ جی نہیں، میں اس قول پر یقین نہیں رکھتا، کہ اللہ میاں کی ٹھہرائی ہوئی بات تو گیتا، تورائت، انجیل ۔۔اور پھر حرف ِ آخر کے طور پر قرآن ہے۔ شاعری تو انسان کا قول ہے۔ عمومی سطح پر جو مطلب اخذ کیا جاتا ہے، اس پیمانے سے بھی یہ ماپی نہیں جا سکتی۔ البتہ یہاں تک قول و قیاس دونوں کی سطح پر میں تسلیم کرتا ہوں ، جیسے کہ ملٹنؔ نے انسان کے بارے میں کہا ہے، شاعری پر بھی چسپاں کیا جا سکتا ہے۔۔۔فنی ورزش؟ ما شا اللہ! کیا ترکیب ہے!! ۔ تُک بندی کے ذیل میں آتی ہے، لیکن اب کیا کیا جائے کہ ہمارے ہاں، غزل کی ولایت میں ’کہنہ مشق‘ وغیرہ الفاظ زباں زد عام ہیں۔ مشق اور ورزش ایک ہی معانی میں استعمال کیے جاتے ہیں ، ایک شاعر کی ذہنی کسرت ہے، دوسری اکھاڑے کے پہلوان کی جسمانی ورزش ہے۔ اللہ اللہ خیر صلیٰ
اسلوب قلم کی کیفیت ہے یا رویہ ؟ یہ کن عناصر سے متشخص ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے ؟
آنند: یہ سوال ایک ایسے جواب کا متقاضی ہے ، جو شاید اس انٹرویو کے ایک سو سے بھی زیادہ صفحات پر قابض ہو جائے۔ البتہ سوال کے پہلے حصے کا جواب آسان ہے۔ اسلوب قلم کی کیفیت بھی ہے اور رویہ بھی۔ (ا) قلم کی کیفیت inborn faculty ہے یعنی قدرتی ہے اور ہر شاعر اسے اپنے ذاتی پس منظر کے حوالے سے عادت ِ ثانیہ conditioned reflex کے طور پر ہی اپنا لیتا ہے، پھر اپنی تعلیم، بصیرت، تجربہ ، مطالعہ، مشاہدہ وغیرہم سے اس میں اضافہ کرتا رہتا ہے، لیکن اپنی بنیاد میں یہ مکان وہی رہتا ہے جس کا تعلق اس شاعر کی ذات سے ہے ۔۔۔(۲) ۔قلم کا رویہ سیاسی یا معاشی رجحان ، جماعتی یا مذہیبی ترجیحات، تحصیلات، اور ان کے بارے میں بہرہ مندی،ہمہ دانی اور ہمہ گیری کی کیفیات سے بنتا اور بگڑتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شاعر شروع جوانی میں یا اپنے لڑکپن کی پہلی کچی بلوغت میں رومانی نکتہ ٔ نظر رکھتا ہو، لیکن وقت گذرنے کے ساتھ وہ ترقی پسند تحریک کی طرف اور پھر جدیدیت کی طرف اور شاید آخرش ما بعد جدیدیت کی طرف مائل و متوجہ ہو جائے اور (ایمانداری سے) ہر بار یہی سمجھے کہ وہ صحیح راستے پر گامزن ہے۔
سوال کے دوسرے حصے کا جواب کسی حد تک مندرجہ بالا پیرا گراف میں ہی آ گیا ہے۔ کن عناصر سے متشخص ہوتا ہے؟ جواب یہی ہے کہ علمیت، بودھ، سائنس، فلسفہ، ارتسام، ورایت، عملی علوم، طبیعی علم، علم لدنی، سائنسی پیشرفت، علم الہیٰ، فلسفہ ٔ علت و معلول، ۔۔۔۔ سمجھ نہیں پا رہا کہ اس فہرست میں کیا کیا درج کروں، مختصراً یہ کہ رویہ میں لگاتار تبدیلی ابجد خوانی کی سطح پر نہیں ہو سکتی، ’’چارپائے برو کتابے چند‘‘ کی دسترس سے یہ فیکلٹی باہر ہے۔ اس کے لیے اگر معلم ملکوت ہونا لازمی نہ بھی ہو تو آزادانہ سوچ ایک ضروری شرط ہے۔
ضیا :شعر نفس کی پسپائی کی جنگ ہے اسے نفسیاتی جارحیت میں بدلنے سے کوئی بڑی تبدیلی متوقع ہے ؟
آنند: اللہ خیر! نفس ِ امّارہ کو ما را بھی ، تو کیا مارا ؟ میں تو یہ تسلیم نہیں کرتا کہ شعر نفس کی پسپائی کی جنگ ہے اور اگر یہ جنگ نہیں ہے تو اسے نفسیاتی جارحیت میں بدلنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ میں نے تو اس موضوع پر آدھ درجن کے قریب نظمیں بھی لکھی ہیں۔ ایک نظم پیش کر رہا ہوں۔ اس کو علامت، استعارہ اورزیریں معانی کی سطحوں پر پڑھنا پڑے گا کہ میں نے نفس کے عند الطلب تقاضوں کو شیاطین کی صورت میں اپنے ہی ذہن کے اندر کمپیوٹر سے احکام نشر کرتے ہوئے personify کیا ہے۔ اس نظم نے میرے مسئلے کو تو حل نہیں کیا ہے، شاید آپ کے یا قارئین کے مسائل کو حل کر دے۔خود سے پوچھیں۔ انگریزی لفظ imp کا اردو متبادل لفظ کیا ہے؟
Imp : hobgoblin, elf, gnome, pixie, naughty urchin, bratوغیرہ چند الفاظ انگریزی کی تھیسارس میں ملتے ہیں۔ مجھے ’شیطانچے ‘ یعنی شیطان کے بچے ہی ایک لفظ سوجھا، جو میں نے یہاں اُڑس دیا۔
—————————
یہ نظم پہلے انگریزی میں
Imps imprisoned in my head
زیر ِ عنوان لکھی گئی
یہ شیطاں کے بچے
یہ شیطانچے، ایک صندوق میں بند بیٹھے ہوئے ہیں
یہ صندوق ایسا طلسمات کا میوزیم ہے
جو اک شخص کندھوں پہ اپنے
اٹھائے ہوئے چل رہا ہے
طلسمات کے اس پٹارے کے اندر
’سوچ بورڈ‘ پر بیٹھے شیطانچے یہ ۔۔۔۔۔
کسی بھی ’سوچ‘ کو اتاریں، لگائیں
کوئی سا بٹن بھی اٹھائیں، دبائیں
وہی جانتے ہیں کہ ان کا تسّلط ہے
اس میوزیم پر
پٹارے کے اندر سے
صادر ہوئے اور نیچے
لگاتار بے تار برقی سے پہنچے ہوئے
سارے حکموں کی تعمیل اس شخص پر لازمی ہے
جو کندھوں پہ اس کو اٹھائے ہوئے چل رہا ہے
شیاطیں کے احکام میں شر کی تلقین۔۔۔
اوّل ہدایت ہے
پہلا فریضہ
یہ شیطانچے کب گھسے تھے پٹارے کے اندر
۔۔۔خدا جانتا ہے
(اگر جانتا ہے۔۔۔۔ توکیا اس کی اپنی رضا اس میں شامل نہیں تھی؟)
مگر نسل در نسل، لاچار، درماندہ یہ شخص
کوئی واگزاری ،کوئی خوں بہا، ہے
اس کے پاس جو انہیں پیش کر کے وہ پیچھا چھڑائے؟
فقط ایک رستہ اسے سوجھتا ہے
کہ خود اپنی گردن بریدہ کرے،
اس طلسمی پٹارے کو نالی میں پھینکے
۔۔۔۔پھر اپنے کٹے دھڑ پہ خود اختیاری کی دستار رکھ دے!

l ضیا ۔ شاعری میں محبت کا لین دین اصولی نہیں ہوتا ؟ اور یہی اس کی خصوصیت ہے ، کیا نظم گوئی کی راہ ہموار کرنے میں اس غیر منطقی طرز ِ فکر کا بھی کوئی حصہ ہے ؟
آنند: ’’شاعری میں محبت کا لین دین اصولی نہیں ہوتا ؟ ‘‘ یہاں لفظ ’شاعری‘ سے شایدآپ کی مراد غزلیہ شاعری ہے، کیونکہ محبت بطور موضوع غزلیہ شاعری ہی کا اوڑھنا اور بچھونا ہے، اس کے فوراً بعد ہی آپ نظم گوئی کی طرف آ جاتے ہیں۔ جی، آپ کے قیاس درستہیں۔۔(انہیں قیاس الفارِق سمجھ لوں تو کوئی ہرج تو نہیں؟) ۔ یقینا ً نظم اگر بطور صنف نہیں تو نظم نویس (دیکھیے، میں نے ’نظم گو ‘ نہیں لکھا) شعرا اس روّیے کو بچگانہ سمجھ کر اس سے اجتناب برتتے ہیں۔
جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں