کوٹ سبزل کی پوسٹنگ کے دوران ایک ایسا کیس بھی آیا۔جس میں غلط تحقیقات کی وجہ سے ایک جان چلی گئی۔جس کاملال آج تک میں اپنی روح پر محسوس کرتا ہوں۔میں تھانہ پر موجود تھاجام اکبر چوہان جوکہ کوٹ سبز ل کا رہنے والا زمیندار ہے نے مجھے دفتر آکر بتایا کہ قصبہ کوٹ سبزل میں ایک نوجوان لڑکی جسکی ایک سال قبل شادی ہوئی تھی نے گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے گلے میں رسی ڈال کر خود کشی کرلی ہے اورلاش ابھی تک چھت سے لٹکی ہوئی ہے۔میں نے فضل بخاری SIکو موقع پر اکبر چوہان کے ساتھ روانہ کردیا اورخود دیگر کاموں میں مصروف ہوگیا۔ خود کشی کی اطلاع بذریعہ ٹیلی فون ASPڈاکٹر مجیب الرحمٰن کو بھی دی جنھوں نے مجھے کہا کہ آپ خود موقع پر جائیں تصدیق کریں کہ یہ خودکشی ہے یا نہیں؟ میں بھی قصبہ کوٹ سبزل میں موقع پر پہ پہنچ گیا جہاں لڑکی نے خودکشی کی تھی۔ رہائشی مکان کے اردگرد کافی تعداد میں لوگ جمع تھے میں نے ہمراہ ملازمین کو انہیں ہٹانے کو کہا۔دروازہ سے چاردیواری کے اندر داخل ہوااندر ایک ہی رہائشی کمرہ تھا۔جو زیادہ بڑا نہ تھا کمرہ کے اندرچھت سے آہنی گارڈر کے ساتھ ایک لڑکی کی لاش لٹکی ہوئی تھی۔جس کے گلے میں دوپٹے کا پھندا لگا ہوا تھا۔کمرے کی چھت بھی زیادہ بلند نہ تھی لڑکی کے پاؤں کے انگوٹھے زمین کو چھورہے تھے۔لاش سے تھوڑی دور ایک پرانی کرسی زمین پرگری ہوئی تھی۔معلوم ہورہا تھا کہ شایدلڑکی نے اسی کرسی پہ چڑھ کر اپنے گلے میں پھنداڈالا اور خودکشی کرلی۔

لڑکی کے پاؤں کے ا نگوٹھے جس طرح زمین کو چھو رہے تھے محسوس ہوتا تھا یہ خود کشی نہیں۔لڑکی کا خاوند بھی موقع پر موجود تھا جس نے بتایا کہ ایک سال قبل اس نے لو میرج (love marriage )کی تھی لڑکی کے گھر والے اور میرے گھر والے اس شادی سے نالاں تھے۔مگر ہم دونوں نے اُن کی مرضی کے خلاف عدالت میں نکاح کیا۔ہمارے ہاں کسی کا آنا جانا بھی نہیں تھا کیونکہ وہ مزدوری کرتاہے۔مالی پریشانیوں کی وجہ سے اکثر ہماری لڑائی ہوجایا کرتی تھی۔ بظاہرلڑکی کے خود کشی کرنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی، تھوڑی دیر بعد لڑکی کا والد بھی آگیا۔لڑکی کی والدہ وفات پاچکی تھیں۔ورثاء کے بیانات لینے کے بعد مجھے بھی یہ خود کشی محسوس ہورہی تھی میں نے لڑکی کے قد کی پیمائش کی پھر گارڈر کازمین سے فاصلہ ماپا۔دوپٹے کی بھی پیمائش کی اور جائے وقوعہ کی تصاویر بھی بنوالیں۔لاش کو اپنی زیر نگرانی اتروا لیا اور پوسٹ مارٹم کے لیے سنجر پور ہسپتال بھجوانے لگا تو جام اکبر و دیگر معزیزین علاقہ کہنے لگے کیونکہ یہ خودکشی کا واقعہ ہے آپ لاش کاپوسٹ مارٹم نہ کروائیں اس طرح لاش کی بے حرمتی ہوگی اس کو دفن کرنے دیں۔ مگر میں نے اُن کی بات نہ مانی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سنجر پور بھجوادیا۔
دوران ملازمت بھی میں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ اس طرح کہ واقعات میں پولیس ملازمین بغیر پوسٹ مارٹم کے لاش کو دفن کروادیتے ہیں مگربعد میں کچھ ورثاء خود کشی کو قتل قرار دیتے ہوئے قبر کشائی کی درخواست دے دیتے ہیں جس سے خام خواہ کی بدمزگی پیدا ہوتی ہے اس سے بہتر ہے کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کروالیا جائے۔مرگ اتفاقیہ میں 174ضابطہ فوجداری کی کاروائی ہوتی ہے جس میں فارم نقشہ صورت حال پُر کرنا پڑتا ہے۔یہ فارم بھی قتل کے فار م کی طرح ہوتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ خودکشی کے فارم پر مرگ اتفاقیہ درج ہوتاہے۔جبکہ قتل میں فارم پر مرگ بذریعہ تشدد لکھا ہوتا ہے۔ جب تک یہ فارم مکمل کرکے ڈاکٹر کو نہیں دیا جاتا اس وقت تک ڈاکٹر پوسٹ مارٹم نہیں کرتے۔تقریباََایک گھنٹہ بعد ASPڈاکٹر مجیب الرحمان بھی موقع پر آگئے۔میں نے انھیں تمام صورت حال سے آگاہ کیالڑکی کے قد چھت کی او نچائی کے بارے میں بتایا تووہ بھی میری طرح اس بات سے مشکوک ہوگئے کہ لڑکی کے انگوٹھے زمین سے کیوں لگ رہے تھے؟جبکہ لڑکی کے گلے پہ دوپٹے کا نشان بھی واضح نہ تھاجو اس خودکشی کو مشکوک قرار دے رہا تھا۔شبہ یہ تھا کہ ہو سکتا ہے لڑکی کو قتل کرکے لٹکا دیا گیاہو اور اسکو خود کشی کا رنگ دیا جا رہا ہو۔
لیکن قتل کی بھی کوئی وجہ سامنے نہیں آرہی تھی لڑکی کے خاوند کا بیان تھا کہ وہ صبح مزدوری کے لیے گھر سے نکل گیا تھا۔رابعہ گھر میں اکیلی تھی ساتھ والی ہمسائی کسی کام کے سلسلہ میں آئی تو دروازہ نہ کھولنے پر اس نے دیوار سے چڑھ کر دیکھا کمرہ میں رابعہ کی لاش لٹک رہی تھی۔شور واویلہ پر دیگر ہمسائے بھی آگئے۔دیوار پھلانگ کر دروازہ کھولااور مجھے بھی اطلاع دی۔ASPصاحب نے واپس جاتے ہوئے مجھے کہا کہ لڑکی کے خاوند کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کردیں۔باقی تفتیش بعد میں ہوتی رہے گی مگر میں قتل کا مقدمہ درج کرنے کے خلاف تھا۔میں نے ASPصاحب کو قائل کرنے کی کوشش بھی کی مگر وہ نہ مانے۔لڑکی کے خاوند کامل جیونا کے خلاف 302ت پ کا مقدمہ درج کرلیا گیااور اسے گرفتار بھی کرلیا۔رابعہ کے والد کو اس مقدمہ میں مدعی بنایا گیا۔قتل کے مقدمہ کی وجہ سے رابعہ کے جنازہ پر بھی کامل جیونا کو نہیں جانے دیا گیا۔کیونکہ اب لڑکی کے ورثاء بھی مشکوک ہوچکے تھے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے۔
14دن ریمانڈجسمانی کے بعد کامل کو ریمانڈ جوڈیشل پر بھجوادیا گیا لیکن میرے دل میں یہ ملال بدستور رہا کہ ایک بے گناہ انسان قتل کے مقدمہ میں غلط چالان ہورہا ہے۔لیکن حالات و واقعات خاص طور پر لڑکی کے پاؤں کا زمین سے لگنا اس خود کشی کو مشکوک قرار دے رہا تھا۔تین ماہ گزر گئے میں بھی اس واقعہ کو بھول گیا۔ایک دن اکبر چوہان میرے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے اس قتل میں لڑکی کے ورثاء سے کامل جیوناکی صلح کروادی تھی لڑکی کے والد نے خون بہالے کر عدالت میں صلح کا بیان دے دیاتھا۔کامل جیونا آج جیل سے رہا ہوکر گھر آگیا ہے۔یہ اطلاع سننے کے بعد میرے دل سے بوجھ ہٹ گیا کہ ایک بے گناہ انسان جیل میں قید ہے۔ایک ہفتہ بعد مجھے پھر اطلاع ملی کہ کامل جیونانے اپنے رہائشی کمرہ میں اسی جگہ اپنے گلے میں رسی کا پھندہ ڈال کر خودکشی کرلی ہے۔میں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچابالکل اسی جگہ اسی طریقہ سے کامل کی لاش بھی چھت سے لٹکی ہوئی تھی اور اس کے پاؤں کے انگوٹھے بھی زمین کو چھو رہے تھے۔کامل کے والد نے بتایا کہ جب سے یہ جیل سے رہا ہوکر آیا روتا رہتا تھااور یہی کہتا تھا کہ میں نے اپنی بیوی کو قتل نہیں کیا بیوی کے قتل کا جھوٹا الزام وہ برداشت نہ کرسکا اور خودکشی کرلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے آج تک اس بات کی پشیمانی اور ملال ہے کہ میری وجہ سے ایک بے گناہ انسان کی جان چلی گئی مگریہ سوچ کر دل کو تسلی ہوتی ہے کہ میں نے ASPصاحب کو سمجھانے کی پوری کوشش کی تھی جس سے اذیت کچھ کم ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات نا تجربہ کارافسران کے کیے ہوئے فیصلے تجربہ کار ماتحت بدل نہیں سکتے اور ان کو یہ غلط فیصلے ما ننے پڑتے ہیں۔ اگر ASPصاحب میری بات مان لیتے تو کامل جیونا بچ جاتا۔بہت سے خودکشی کے واقعات ایسے ہوتے ہیں جن پہ قتل کا گمان ہوتا ہے۔مگر باریک بینی سے ملاحظہ موقع اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے حقائق معلوم کیے جاسکتے ہیں۔جلد بازی یا کسی پریشر میں کی گئی کاروائی ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں