گستاخانہ فلم کی ریلیز اور ہم۔۔۔۔رانا لیاقت

ہالینڈ نے 74 منٹ پر مبنی innocent Prophet کے نام سے ایک کارٹون ڈاکومنٹری فلم یو ٹیوب پر ریلیز کی ہے جو نبی اکرم صلہ علیہ وسلم کی شان میں انتہائی گستاخی ہے
پوری مسلم اُمہ سراپا احتجاج ہے۔میں بھی ایک مسلمان ہونے کے ناطے اس پر بہت رنجیدہ ہوں،پر کبھی ہم نے سوچا کہ آخر ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
اللہ کہتا ہے کہ میرے عذاب کی بہت شکلیں ہیں،اور ذہنی ٹارچرتو انسان کے لیے ناقابل برداشت چیز ہوتی ہے۔اس سے ہر مسلمان کو ذہنی کوفت ہو رہی ہےجوناقابل برداشت ہے،ہمیں   احتجاج کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر اللہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں کروا رہا ہے؟کہیں ہم پر یہ اللہ کا کوئی عذاب تو نہیں؟

سورہ بنی اسرائیل کی 4 نمبر آیت سے لے کر 8 تک اللہ  بنی اسرائیل کا ایک واقعہ بیان کرتا ہے۔۔۔
کہ ہم نے تورات میں لکھ دیا تھا کہ تم دو بار سرکشی کروگے،پھر جب ہمارا وعدہ سچ ہوا اور تم نے میرے حکموں سے سرکشی کی تو پھر ہم نے اپنے بندے بھیجے جو کہ بڑے ہی لڑاکے تھے اور وہ تمھارے گھروں میں گھس گئے۔
پھر تم نے مجھ سے معافی مانگی اور ہم نے تم کو استحکام دیا،اور پھر جب تم نے سرکشی کی تو ہم نے پھر اپنے بندے بھیجے اور اُن سے کہا کہ ان کی مسجدوں میں داخل ہوجاؤ  اور راستے میں آنے والی ہر چیز (تورات صحائف )کو اپنے پاؤں کے نیچے مسل دو۔

tripako tours pakistan

مطلب کہ اللہ نے اُن کو ذہنی ٹارچر دیا تھا،اور پھر قرآن میں آگے جاکر معلوم ہوتا ہے کہ جس کو اللہ نے اُن پر مسلط کیا تھا وہ بدترین کافر جالوت تھا، پھر وہ لوگ اللہ کے سامنے گڑگڑائے تو اللہ نے حضرت داود کے ذریعے  جالوت کا قتل کروایا۔اور پھر جب دوسری دفعہ ہوا تو پھر اللہ نے ایک بہت ہی ظالم انسان بخت نصر کو اُن پر مسلط کر دیا جس کی تفصیل عہدنامہ جدید ابن کسیر اور حد ید  کی کتب میں بھی ملتی ہے،آج ہم کو بھی احتجاج کے ساتھ ساتھ اللہ سے گڑگڑا کر معافی بھی مانگنی چاہیے،

Advertisements
merkit.pk

اللہ کہتا ہے کہ بے عمل قوم کی دعائیں رد کر دی جاتی ہیں،ہم کو اللہ سے توبہ کرنی چاہیےاور اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے،اللہ  ہمیں  ایسے فتنوں سے محفوظ رکھے اور فسادیوں کو برباد کرے(آمین)ا

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply