مکالمہ کانفرنس کراچی

ایک شوہر کو بیوی کیساتھ کہیں جانا تھا مگر بیوی کو نواں مہینہ تھا سو بیگم کو مجبور کرنے لگا کہ جلدی سے بچہ پیدا کرکے دو ،مجھے دیر ہورہی ہے. پتہ نہیں بیوی نے بچہ پیدا کرکے دیا یا نہیں، مگر انعام رانا نے ہفتے کی رات نو بجے سڑک پر کانفرنس کرنے کی دھمکی دے کر ہمیں زچگی کے اس پیچیدہ عمل سے گزار دیا۔ عین وقت پر جب وینیو “ناگزیر وجوہات کی بنا پہ کینسل” ہو گیا تو انعام رانا نے کانفرنس سڑک پہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب کراچی اور مکالمہ کی عزت کیلیے ہم یقین کیجیے زچگی سے گزرے۔ لہذا دوسرے دن پھیلی ٹانگوں اور زبردستی کی اٹھائی مونچھوں سے سب شرکاء کا استقبال کیا تو وہ ہمارے چہرے پر چُھپی اذیت کا احساس کرکے اپنی اپنی نشستوں پر زبردستی بیٹھتے چلے گئے.
پاکستان فیڈریشن کالمسٹ PFCC کے بانی منصور احمد مانی نے ناممکن کو ممکن کرڈالا اور 60% مولویوں کو کراچی آرٹس کونسل کے گُل رنگ میں خواتین کیساتھ سیلفیاں کھینچوانے پر مجبُور کرڈالا.
کانفرنس میں سب سے زیادہ خوش انعام رانا تھے یا وہ مولوی جو حوروں کے بغل میں کیمرہ سنبھالے بیٹھے تھے. اور تو اور ایک مولوی اسامہ کعب تو اُچھل اُچھل کر جو تصاویر لے رہے تھے، یہاں بھی ہمیں بنوں کا وہ خوبصورت لونڈا نظر آیا جو غلطی سے جمعہ کی نماز پڑھنے چلا گیا ہو. کعب مردوں کی تصاویر لینے سے حتی الامکان کتراتے رہے. ایک اور مولوی تھے گلابی ہونٹوں والے، غالباً عبدالرحمٰن تھے، جو خواتین کے پیروں میں لوٹ پوٹ رہے تھے. مُجھے انعام رانا نے بہتیرا اشاروں سے سمجھایا کہ اس مولوی کو سمجھاؤ کہ یہ کانفرنس ہے، کراچی صدر کا Pet Shop نہیں ہے.
رانڑے نے جب اپنی صوفیانہ تقریر کی تو مولوی اور لبرل سب غور سے سن کر مکالمہ پہ یقین کرتے ہوے سر ہلاتے رہے۔ بلکہ میرے ساتھ بیٹھی بچی نے کہا کہ انکل باتیں تو اچھی کرتے ہیں پر گنجے ہیں۔ میں نے بتایا کہ فرنگن بیوی ہو تو بندہ گنجا اور صوفی ہو ہی جاتا ہے۔
حافظ صفوان صاب حسب روایت خواتین کی بُو پاکر ملتان سے کراچی تشریف لائے تھے اور سعدیہ کامران پر منڈلا رہے تھے، اس خطرے سے بے خبر کہ سعدیہ اپنے سدھائے ہوئے شوہر کو بھی ساتھ لائی ہیں.
شاد مردانوی کو زندہ سلامت دیکھ کر ہر ایک نے حیرت کا اظہار کیا. بلکہ وردہ باجوہ نے مجھے اشارے سے بلا کر کہا کہ دیکھو شاد نے سگریٹ اٹھائی ہوئی ہے جاکر اسکو سنبھالو۔ وہ بیچارہ سگریٹ کے بوجھ سے ادھ مُوا ہوا جارہا ہے.
کانفرنس میں بڑے بوڑھے بھی آئے ہوئے تھے اور ملنے پر بضد تھے، جس سے بھی ملا جنسی باتیں کرنے لگا۔ بالاخر انکو بتانا پڑا کہ انکل آج کل اپنی حالت بھی انھی جیسی ہے، فقط فحش لطیفوں اور اپنی زبردستی کی کھڑی مونچھوں پر گزارہ چل رہا ہے.
کانفرنس کی شوٹنگ کی ذمہ داری زبردستی ہم نے NED یونیورسٹی کے فوٹوگرافک کلب کی صدر محترمہ خوش بخت کو سونپی . محترمہ ساڑھے چھ فٹ کی ہے لہذا فیض اللہ خان اور مبشر علی زیدی کی تصویر لینے میں انھیں کافی دقت ہوئی. مجبوراً اسے بتانا پڑا کہ بیٹا زمین پر بیٹھ کر تصاویر لو، کیوں کہ کھڑے کھڑے لی گئیں تصاویر پر خواہ مخواہ ڈرون کیمرے کا گمان گزرتا ہے.
چُھوئی مُوئی ماریہ اقبال لطیف سے میں کافی ایمپریسڈ رہا. جس طرح وہ دوڑ دوڑ کر انتظامات کررہی تھی، واللہ ہم ان کے خوابوں میں کھو گئے اور پانچ گھنٹوں کے بعد جب وہ لالہ لالہ کہتے ہوئی سر پر ہاتھ رکھوا چکی ہم سے، ہم ابھی تک بیگم حضور کو محترم نظروں سے دیکھ رہے ہیں.
اپناے سیکرٹری، بھائی اور ہمزاد، اعجاز یوسفزئی لڑکیوں کے چکر میں گئے تھے مگر بیچارے جیب اور دل آرٹس کونسل میں چھوڑ آئے اور جن نڈھال قدموں سے واپس گھر روانہ ہوے واللہ ہمارے آنسو نکل گئے.
لالہ صحرائی جب تشریف لائے تو اُن کی بغل میں انتہائی کم عمر لڑکی دیکھ کر، ہم اس کے سر ہاتھ رکھ کر بیٹا بولنے ہی کو تھے، کہ وہ چیخ اٹھے کہ خٹک سدھر جاؤ ،کیا کررہے ہو یہ بیگم ہے میری……. میں کُھلے منہ کیساتھ کھڑا ہی کھڑا رہ گیا. موصوف کو پہلے ہم نے روحانی استاد کا درجہ دیا ہوا تھا، کل سے ہم اسے باقاعدہ باپ کے منصب پر بٹھا چکے ہیں.
کہنے کو تو پانچ مقرر تھے، مگر وہاں شریک ہر بندہ ہمیں مقرر لگا. سعدیہ کامران نے اسٹیج نظامت کیساتھ وہی کچھ کیا جو بنوں والے خوبرو لڑکے کیساتھ کرنے کا بس سوچ ہی سکتے ہیں. صدر اور مہمان خصوصی کو عام شرکاء کیساتھ بٹھا کر مُنتظمین کو سٹیج پر مدعو کر ڈالا.
مزمل فیروزی نے خصوصی پوز بناکر خواتین کو متاثر کرنے کی کوشش کی، مگر لڑکیاں مبشر علی زیدی کے سحر میں کھوئی رہیں.
مبشر علی زیدی سو لفظوں کے کہانی کے خالق ہیں. میرا تجسس بس اتنا ہی تھا کہ گھر میں وہ بیگم کو کتنے لفظوں کی کہانی سناتے ہیں؟ جواب کیا ملنا تھا، بس اتنا معلوم ہوا کہ وہ بھی ہمارے طرح بیچارے و مظلوم شوہر ہیں.
فیض اللہ کے انٹرویو سیشن میں مجھے کافی سارے پٹھانوں نے نمائندہ بناکر یہ سوال پوچھنے بھیجا، کہ مُبلغ 550/- روپے خرچ کرا کے، فیض اللہ خان نے کتاب میں بس طالبان اور اپنی زندگی کی چھ ماہ کی سنگینیاں بتا کر، ہماری رقم ڈبو دی کہ کتاب میں کوئی رنگینی نہیں تھی. فیض اللہ خان نے جواب دیا کہ کتاب میں چار صحفات رنگین تصاویر پر بھی مشتمل ہیں….. پٹھانوں نے اس جواب پر شدید احتجاج کیا کہ” خوچہ ایسے صفحات تو امارے بچوں کے کتابوں میں بھی ہیں، مگر وہ کتابیں 550 کی نہیں ہیں”.
انعام رانا سے انٹرویو میں میں نے فقط اتنا گِلہ کیا کہ “رانڑے آپ کو کیا ملا مجھے پاکستان بھر میں لالہ کا خطاب دے کر ظالماں”؟
جواب دیا کہ بھابھی کی دعائیں ملیں ہیں۔ میں نے اس کے علم میں اضافہ کیا کہ “وہ” بھی آج کل لالہ لالہ کہہ رہی ہے.
رانڑے نے دوبار خواتین کو مخاطب کرکے بتایا کہ اس کی اپنی بیوی سے علیحدگی ہو چکی ہے……………….خواتین اور انکی مائیں نوٹ کر لیں۔
وردہ باجوہ اپنی گود میں دودھ پلاتے بچے کو چُھپاتی رہی۔ اس پہ سعدیہ کامران تاسف بھری نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی اور آمنہ احسن اپنا دوپٹہ انگلیوں پر لپیٹنے لگی، اور ہم ہر اُس خاتون کے گلے لگتے رہے جو ہمیں لالہ لالہ کہتی رہی.
کانفرنس بہت معلوماتی تھا یا تھی۔ ہمیں کل پتہ چلا کہ وردہ باجوہ کے پانچ بچے ہیں، اتنی فراڈ ہے کہ سیکسی تصاویر لگا کر مولویوں کو ٹرک کے بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے. علی بابا ابھی تک کنوارے ہیں. محمددانش اتنی باتیں نہیں کرتے جتنے سگریٹ سلگاتے ہیں اور پوسٹوں میں ہم سب کی سلگاتے ہیں. سعدیہ کامران انسپائریشن کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہے اور مولوی لوگ نرے لبرل ہیں، بس ماحول بنا کر دے دیں.

بس دوستوں کانفرنس کا کیا بتاؤں۔ ایک نقارخانہ تھا اور ہر طوطی اس آس پر بولتا رہا کہ اس کی سنی گئی ہے، اور ہر سننے والے کو یہ یقین تھا کہ مفت کاسموسہ اور چاے مزیدار ہو گا۔ کانفرنس سے اور کسی کو کچھ ملا ہو یا نا، مجھے لالہ کہنے والی کچھ مزید بہنیں مل گئیں، شاد کو مفت سگریٹ اور انعام رانا کو متوقع رشتہ۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 11 تبصرے برائے تحریر ”مکالمہ کانفرنس کراچی

  1. لالہ.. ہم بھی آپ سے کم سے کم دو مرتبہ گلے ملے تھے پر لگتا ہے.. داڑھی کی وجہ سے بھول گئے..

  2. زچگی کا دکھ تو سہ لیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ ہونے والی لڑکی کا نام مکالمہ کیوں رکھا؟۔

  3. لالا آپ کی اسی بے باکی نے مجھے متاثر کیا ہے
    اللہ آپکو بہت نوازے بہت محبت لالا
    لؤ یو لالا جان

  4. Arif khattk kia kuch ajeeb insan nahin hy sary kalam main khattak sb ny doosron. ki insult ki hi hy siway kuch ladies k, ab patta nahin khattak sb ko ladies sy kia matlib tha lgta hy khattak sb k zehn main sex hi bhara hua hy kiyon k yeh sb perh kr tou aisa hi mehsoos hota hy

  5. بہت اچھی منظر کشی ہوئ ہے کانفرنس کی بہت بہت مبارک ہو درد زچگی کی اچھی تصویر کشی ہے اور سب سے مزیدار بات آخر میں قرطاس پر اتری تعارف کے طور پر باحیا لکھاری

  6. لالہ جی ،کیا خوب لکھا ہے .گھر والے عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں کئی بار قہقہہ مار چکا ہوں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *