ہیں حاجی؟ توں ہن ایویں کریسیں؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

بخدمت جناب خواجہ آصف صاحب جماعت مانیٹر نمبر تین برائے جماعت ووٹ کو عزت دو

جناب عالی!

بعد سلام عرض ہے کہ حال ہی میں آپ کا سیاسی رجوع المعروف یو ٹرن پر مبنی بیان سننے کو ملا۔ اصولاً بحیثیت کیلا ریپبلک کا قصوروار شہری سیاست کے وسیع تر مفاد میں عسکری صفحے پر سیاسی جماعتوں کا یہ اظہارِ یگانگت بندے کے لیے باعث مسرت ہوناچاہئے تھا۔ تاہم انتہائی افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ نظریہ ضرورت کے اس گھٹیا مظاہرے پر ابلیس اور تحریک انصاف کےشدھ مقلدین کے علاوہ شاید ہر ذی شعور پشیمان ہے۔

جناب والا، آپ کی یہ بات درست ہے کہ آپ کی سیاسی جماعت کے حق میں آواز اٹھانے والے افراد ٹویٹ کرنے کے بعد کریلےگوشت، کریلے یا صرف گوشت نوش فرما کر سو جایا کرتے ہیں۔ آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ اس قدر بادی اشیاء خورد و نوشنوش فرمانے کے بعد گہری نیند کا سامنا کرنا بھی ایک قدرتی امر ہوا کرتا ہے۔ بندہ البتہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہاں خطاوارٹویٹ کرنے والا ہے، کریلے کھانے والا یا کریلے گوشت کھانے والا؟ جناب عالی، محسوس ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی قسمت میںآپ جیسے کریلا النفس سیاسی کردار لکھ دیے گئے ہیں جو سول سپریمیسی والے رحمت شیرینی کے کچے گلے دکھا کر پاپوش پرستی کیہڑیں کھلاتے ہوئے بھی الٹا عوام کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔

سول سپریمیسی کے سابق ایڈووکیٹ ہونے کا اعزاز رکھنے کے باوجود اس نظریے کے ساتھ بالجبر کی توجیہہ دے کر آپ نے فوادچوہدریوں جیسے ف چ قسم کے انسانوں کی صف میں اپنا نام کامیابی سے لکھوا لیا ہے۔ ہماری جانب سے اس عظیم کارنامے پراخراجِ تحسین قبول فرمائیے۔ ہو سکے تو اس کے بعد یہ مشورہ بھی دیجیے کہ ووٹ کو عزت دو کے نعروں کا کیا کرنا ہے؟ ہم بھیڑبکریاں گوبھیاں اور کدو عوام تو اس نظریے کو کاغذ پر لکھ کر تعویز گنڈے کی طرح تعظیم بھی دے سکتے ہیں اور طبی بنیادوں پر اینیماالمعروف بتی بنا کر اس کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نعرے میں آپ کا ہم آواز ہونے کی کوئی صورت ہو سکتیہو تو آگاہ ضرور کیجئے گا۔

جناب خواجہ آصف صاحب، عرض ہے کہ میاں صاحب نہ کسی طرح ہینڈسمنیس میں فضیلت کے حامل ہیں نہ کوکین یا چرس کےزیر اثر چاق و چوبند ہونے کا مظاہرہ دوسروں سے بہتر کرتے ہیں۔ پھر آپ نے کیونکر سوچ لیا کہ وہ افراد جو چڑھتے خان کے دور میںبھی صرف ابناء العساکر کے آگے لیٹنے کی وجہ سے خان کے خلاف رہے، وہ آپ کو اسی کریہہ فعل پر معاف کر دیں گے؟ اگر یہمیاں صاحب کا فیصلہ نہیں تو اس بات کو سرعام قبول کرنے میں کیا مضائقہ ہے؟ اور اگر میاں صاحب اس فیصلے میں شامل ہیں تواگلی بار شیر کی بجائے چوہدری نثار کی وگ کو سیاسی نشان بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے میں کیا امر مانع ہے؟ اگر یہ فیصلہمنشی چھوٹے میاں کی مرضی ہے تو کیا تین دہائیوں میں ان کا عسکری جی حضوری پر استوار شدہ طرز عمل دیکھ کر بھی انہیں پارٹیصدارت دینا لازمی تھا؟ کیا ہم پارٹی قیادت ایک عدد جی حضوری کرنے والے اچھے منتظم مگر برے سیاستدان کو تفویض کرنے پربڑے میاں صاحب کو مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں؟

جناب عالی، پولی پولی ڈھولکی بجاتے نیوٹران انصافی دوست کہتے ہیں سول سپریمیسی کا دنیا میں کوئی وجود نہیں۔ انہیں تو جوابِ گپدینا آسان ہے کہقال انت تے ٹھیک ای قال ہوسیمگر حضور والا، آپ کو تو معلوم تھا کہ ابلیس کو قیامت تک کی چھوٹ ہے؟پھر کیا شیاطین خاکی لباس پہن لیں تو ان کے آگے ہار مان لی جائے؟ حضور دانا دانے فرماتے ہیں معلوم تھا کہ میاں صاحب موقعملنے پر پھر سے کالا کوٹ زیب تن کر لیں گے۔ جناب والا، آپ کو تو پیارے دوستوں کی طرح یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے تھی کہہم نظریے کے ساتھ نہیں بلکہ شخصیت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جناب عالی، میری دانست میں یہ ایک جائز سوال ہے کہ اگر اس طرح ابناء العساکر کے آگے لیٹنا ہی تھا تو پھر عمران خان براانتخاب کیوں ہے؟ جب لیٹنا ہی ہے تو رضامندی کے ساتھ لیٹ جائیں۔ کم از کم استحکام تک تو پہنچنے دیں، عوام میں تفرقہ ڈالنےکی کیا ضرورت؟

سوال یہ بھی ہے کہ آخر کیوں آپ عوام کو سو جوتے سو پیاز تواتر کے ساتھ کھلانے پر تلے ہوئے ہیں؟ جناب والا مجھ جاہل لیےتسلسل اہم ترین ہے۔ اگر ہر بار مدافعت دکھا کر دوبارہ آمریت کے ساتھ جمہوریت کی ہمبستری کروانی ہوتی ہے تو کیوں نہ ایک ہی بارجمہوریت کو پکی رکھیل بنا دیا جائے؟ کم از کم ایک آس اور امید ٹوٹنے کی اذیت تو نہیں سہنا پڑے گی؟

جناب والا سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایسے موقع پر بھی جوتا اٹھائی اور لب سلائی کرنی ہے تو سول سپریمیسی کے حامیوں کو لالی پاپدینے کی کیا ضرورت؟

محترم خواجہ آصف صاحب سوال یہ بھی ہے کہ اگر لیٹنا ہی تھا تو وسیع تر ملکی مفاد کا آپ کا ورژن ہی کیوں قبول کیا جائے؟ ایسےہی مفادات کا ایک ورژن تحریک انصاف کے پاس بھی ہے، پھر کیوں نہ اکثر انصافی احباب کی طرح ڈھیٹ المعروف صاحباستقامت بن کر خاموشی اختیار کر لی جائے؟

جناب والا، سوال کئی ہیں، جواب آپ کے پاس یقیناً نہیں۔

حضور والا، کم از کم ناچیز ذاتی حیثیت میں اس دور سے نکل آیا ہے کہ ایسے معاملات کو موقع جان کر سیاسی مخالفین پر طعنے بازی سےاپنی انا کو تسکین دے۔ جب سیاسی اختلاف کی بنیاد ہی ملیا میٹ کرنی ہے تو پھر آپ کی ذات اتنی اونچی تو نہیں کہ میں اپنے ہموطنوں سے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر انہیں خود سے ناراض ہونے دوں؟ ہاں ٹھیک ہے ان کے کان پر جوں نہیں رینگتی، ان کےیہاں سول سپریمیسی کا تصور عنقا ہے لیکن اس کا مورد الزام انہیں کیوں ٹھہرایا جائے؟ کیوں نہ اس کا الزام بھی آپ سب کےسر تھوپا جائے جو ہر بار مدافعانہ رویہ اپنا کر ان کی قوت مدافعت بڑھاتے ہیں اور بادی النظر میں ان کی مضبوطی کا باعث بنتے ہیں؟کیوں نہ الزام آپ کو دیا جائے کہ جب آخر میں جھکنا ہی تھا تو اس قدر غیر استحکام کو فروغ کیوں دیا گیا؟ کیا آج چوہدری نثار کیباتیں درست ثابت نہیں ہوگئیں؟

محترم خواجہ آصف صاحب، آپ سول سپریمیسی کے زخمی مریض کو بار بار تندرستی کی جانب گامزن کر کے بار بار اسے زخمی کرتےہیں۔ یاد رکھیے، عوام کی بالادستی کے خواب سے بیدار تو ہوا جا سکتا ہے تاہم اسے دیکھنے پر پابندی آپ کے بزرگان اور عساکروالدین بھی نہیں لگا سکتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ آپ کی یہی حرکتیں آپ کو ہر بار سول سپریمیسی کی لکیر کے اُس پار کھڑی کر دیتیہیں۔

جناب والا، ہم آپ کے اس یو ٹرن پر متاثرینِ سول سپریمیسی کی جانب سے یہ پوچھنے پر حق بجانب ہیں کہ۔۔۔

julia rana solicitors london

ہیں حاجی؟ توں ہن ایویں کریسیں؟

Facebook Comments

معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply