• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • امریکہ مردہ باد  یا امریکی سامراج مردہ باد۔۔۔ محمد حسنین اشرف

امریکہ مردہ باد  یا امریکی سامراج مردہ باد۔۔۔ محمد حسنین اشرف

میری قوم ایک عرصہ سوئی رہی،  خلافت راشدہ اور جہاد کی میٹھی نیند نے اس قوم کو بہت سے سبز باغ دکھائے۔ ادھ کھلی آنکھ سے میری قوم نے سوشلزم کا سپنا  دیکھ لیا اور بالکل مجاہدین کی طرح انہوں نے بھی سوشلزم کو دنیا کا نجات دہندہ نظام مان لیا اس سوشلزم کو جسکی ضوپاشی سے فرانس آج بھی محروم ہے اور جسکے شکنجے میں وینزویلا کی عوام آج بھی سسک رہی ہے۔ میں کسی نظام کا حمایتی نہیں ہوں، لیکن اگر آپ کسی نظام کو آخری درجے میں اس دنیا کا نجات دہندہ مانتے ہیں، اور اگر وہ نظام سوشلزم ہے تو پھر آپ کو جلدی جاگنا چاہیے کیونکہ آپکو سوئے کئی صدیاں گذر چکی ہیں۔ اسامہ بن لادن کو ،چی گویرا کے مد مقابل لا کھڑا کیا جائے، یا بھگت سنگھ کو ملاعمر کے مقابل، کوئی فرق نہیں پڑتا، خلافت والے امریکہ کو کوسیں یا سوشلزم والے انہیں سامراجی مانیں، جدید معاشی و معاشرتی نظام ہر قسم کے نظریاتی تشخص کے مخالف ہے۔سرمایہ دارانہ نظام نہ تو اسلام کے خلاف ہے اور نہ سوشلزم کے ۔ اب دنیا وہ منڈی بن چکی ہے جہاں نظریات بکتے نہیں ہیں، نہ انکی بولی لگائی جاتی ہے۔ وہ دور گیا جب انقلاب کے بھاشن قوموں کی زندگیاں تبدیل کردیتے اور انکے پیٹ روٹی سے بھر دیتے۔ اور اب تو آپ ویسے ہی مابعد جدید کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔

میں جب سوشلزم کے حامی حضرات کو سوشلزم کے فیوض برکات اور سوشلزم کی چھاؤں میں پھلتے پھولتے جنت نظیر ملکوں کی کہانیاں سناتے دیکھتا ہوں تو عجیب سی کیفیت ہوتی ہے۔ مجھے وہ دن یاد آتے ہیں جب مجاہدین ہمیں ایسی کہانیاں افغانستان کے بارے میں سنایا کرتے تھے اور پورے یقین  وایمان کے ساتھ بتایا کرتے تھے کہ اس دنیا کا نجات دہندہ صرف اور صرف خلافت کا نظام ہے جسکی نظیر افغانستان میں دیکھی جاسکتی ہے۔ چی گویرا ایک بڑے انقلابی تھے میں انکا قدر دان ہوں، بھگت سنگھ میری زمین کا بیٹا ہے۔ لیکن سوشلزم نہ کبھی کل اس دنیا میں نجات دہندہ نظام تھا اور نہ آگے کبھی ہوگا۔ سرمایہ درانہ نظام میں نظامی خرابیاں سوشلزم کی نسبت بہت کم ہیں۔ رہی بات واعظین کے وعظ کی تو جناب وہ، مولوی صاحب آپ سے اچھا کرلیتے ہیں۔

میں یہاں کسی کے دفاع میں لکھنے نہیں  آیا، نہ کسی کے مخالف اور  نہ کسی کو غلط ثابت کرنے آیا ہوں۔ نہ میرا مسئلہ جہاد ہے، میرا مسئلہ میری قوم ہے جسے ایک خواب سے جگایا جاتا ہے اور پھر تھپکی دے کر دوسری کروٹ سلا دیا جاتا ہے۔ دنیا اب سرمایہ دارانہ نظام سے بھی آگے جانے لگی ہے۔ اور ہم ابھی تک وہیں بیٹھے ہیں۔ کیوبا آخری سوشلسٹ ریاست ہے، جسمیں دوہزار تیرہ کے مطابق ایوریج منتھلی ویج صرف انیس ڈالر تھی۔ذرا جا کرکیوبا کی سوشلزم کی تاریخ اور اسمیں انہوں نے جو تبدیلیاں کی انکا مطالعہ کرلیجئے۔ فری مارکیٹ اور ئنٹیشن کی گئی تھی تاکہ کیوبا میں کھانے کی چیزوں کی کمی سے نپٹا جاسکے۔فوربز نے ایک آرٹیکل شائع کیا تھا فیدل کاسترو کی موت پر، ذرا اسمیں سے کچھ چیزیں دیکھ لیجئے:

And in 1959, when Castro took power, GDP per capita for Cuba was some $2,067 a year. About two thirds of Latin America in general and about the same as Ecuador (1,975), Jamaica (2,541), Panama (2,322) and two thirds of Puerto Rico (3,239). Despite that playground of rich Americans thing it was, by the standards of the time, doing reasonably well.

By 1999, 40 years later, Cuba had advanced hardly at all, to $2,307, while Ecuador had, relatively, jumped to 3,809, Jamaica to 3,670, Panama to 5,618 and Puerto Rico to 13,738. GDP isn’t everything of course but it’s still hugely important. For it’s the basic measure of what it is possible that people, on average, can consume. And we don’t tend to think that Ecuador, Jamaica, Panama and Puerto Rico were particularly well run in the latter decades of the 20 th century but at least they didn’t have a government actively conspiring to keep them impoverished like Cuba did.

It is possible, if you really want to stretch matters, to say that this was not known in 1959. But all knew it by 1989, and that’s where the Cuban system really deserves excoriation. And thus so does Fidel Castro, who imposed said system. In 1991 Albania was poorer than Cuba (1,836 as against 2,590) but that simple switch to a market economic system, however chaotic, near tripled the standard of living in only 20 years (5,375 in 2010).

جنت نظیر کیوبا کا یہ رخ بھی دکھایا جانا چاہیے۔اس آرٹیکل کے اختتام پر ٹم ورسٹال ایک بڑا خوبصورت پیراگراف لکھتا ہے:

We also need to heed this lesson. Non-market economic systems do not work. We do only have that spectrum available to us, laissez faire all the way to social democracy. Socialism, not even once people, not even once.

برابری، اچھی زندگی، علاج اور فلاں فلاں، یہ سب جیسے کل صرف نعرے تھے ویسے ہی آج بھی صرف نعرے ہیں۔ اور میں ایک حقیر طالب علم کی حیثیت سے عرض کر رہا ہوں یہ کل بھی نعرے ہی رہینگے۔ ہمیں خوابوں سے نکل کر زندہ تعلیمی میدانوں میں اپنا وقت صرف کرنا چاہیے۔ میرا لکھنے کا مقصد کسی کے نظریات پر طنز کرنا ہر گز نہیں ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام  ایک بہترین نظام ہے اسمیں کچھ خامیاں ہونگی، ان خامیوں کو دور کیجئے۔ ابھی تک دور دور سرمایہ دارانہ نظام کا کوئی متبادل دکھائی نہیں پڑتا۔ ہاں اس نظام میں بہت بڑی بڑی تبدیلیاں ہونے والی ہیں،  ہمیں اس سے قبل جاگنا ہوگا ورنہ پھر نظام کو کوستے رہینگے۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *