پیا رنگ کالا۔۔سید شاہد عباس کاظمی

فقیروں کے در کے کالے کتے کو بادشاہوں کے در کے سفید ہاتھیوں سے بھی بلندی پہ دیکھنا ہو تو بابا محمد یحییٰ خان صاحب کی پیا رنگ کالا پڑھنا آپ کے لیے لازمی ہے۔ تصوف ، فقر، ہجر،آگاہی، امارت، غربت، ادراک کی ایسی منازل سے روشناس ہوتا ہے انسان اس ضحیم تصنیف کا مطالعہ کر کے کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ کچھ اقتباسات پیش خدمت ہیں کہ کچھ ایسے موضوعات پہ جن پہ عام طور پر لکھا کم جاتا ہے بولنے میں ہچکچکاہٹ حاوی ہوتی ہے۔

شکر۔۔۔
کاگا! چھوٹے چھوٹے لقمے اور وقفہ لقمہ میں الحمد للہ کہنا رازق سے رزق وصول کرنے کی شکر گزاری ہے

فقیری۔۔۔
خواہش ، مرضی، تمنا، طلب اور حرص ان سب چیزوں سے ہٹ کر راہ پکڑنے کا نام فقیری اور درویشی ہے۔ اندیشہ سود و زیاں دُنیا کے بندوں کے دلوں میں ہوتا ہے۔ فقیروں کے ہاں محض تسلیم و رضا کی بات ہوتی ہے۔

بابا۔۔۔
بابا مرشد نہیں بلکہ مہربان اور معشوق ہوتا ہے۔ وہ پیر نہیں ہوتا۔ وہ تو پیار کرنے والا ا  ور پیاس بجھانے والا ہوتا ہے۔ لمبی داڑھی، تسبیح ، منکے، مصلے، مجاہدے، چلے، یہ سب اس کے لیے ضروری نہیں ہوتے۔ نبی صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کے فرمودات پہ عمل، رزقِ حلال کی جستجو، اپنا محاسبہ، خود کی ملامت۔ تکبر، نمائش و آرائش سے یکسر بے نیاز ہوتا ہے۔ عام انسانوں سا دکھائی دیتا ہے ، اور ہوتا ہے۔ پورا پورا دُنیا کے اندر ہو گا۔

ہمسائے!
ایک بُز بچہ کےلیے دیسی گھی کے چُورے ، بادام، پستہ، گِری، کھوپا، کشمش، ہوجاتے، چھوہارے، ہم بھی کس طرح کے مسلمان اور انسان ہیں۔ دھوکے باز، بے ایمان ، فراڈیوں کے لیے ست ست نعمتیں پکا کر سر پر اُٹھا کر ان کے ڈیرے پہ پہنچاتے ہیں اور پاس پڑوس میں کسی غریب فاقہ زدہ کو سوکھی روٹی اور مٹھی بھر اناج نہیں دیتے۔

اذان!
نغمہ الوہیت، جس میں اللہ سبحان و تعالیٰ کی شان وربوبیت، ختم المرسلین صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کے مقام محبوبیت کی گواہی ، راہِ فلاح کی نشاندہی، اور اس اکبر و برتر کے حضور سجدہ ریز ہونے کی دعوت۔۔

Avatar
سید شاہد عباس
مکتب صحافت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھنے کی کوشش ہے۔ "الف" کو پڑھ پایا نہیں" ی" پہ نظر ہے۔ www.facebook.com/100lafz www.twitter.com/ssakmashadi

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *