ادھورے لوگ، نامُکمل تحریریں۔۔۔احمد رضا بٹ

وقت کا کوئی لمحہ ایسا  بھی ہوتا ہے کہ اُس کی زد میں آئے ہوئے لوگ خود بخود اُس وقت کے فیصلے کے پابند ہو جاتے ہیں۔جیسے وقت کی عدالت نے ہمیں عُمر قید سُنانے کا فیصلہ کِیا اور ہم کُچھ نا کر سکے۔۔۔اللہ پاک غریقِ رحمت کرے بانو آپا کو، کیا ہی خوب لِکھتی ہیں کہ
“مُحبت سُفید لِباس میں ملبوس عُمروعیّار ہے، جو ہمیشہ دو راہوں پہ لا کر کھڑا کر دیتی ہے، اِس کی راہ پر ہر جگہ راستہ دِکھانے کو صلیب کا نِشان گڑا ہوتا ہے، مُحبتی جھمیلوں میں کبھی فیصلہ کُن سزا نہیں ہوتی، ہمیشہ عُمر قید ہوتی ہے”۔۔۔

یہ وقت کے فیصلے بھی کِتنے عجیب ہوتے ہیں نا۔۔۔چنگے بھلے اِنسان میں خلاء پیدا کر دیتے ہیں، اور پھر عُمریں گُزر جاتی ہیں یہ خلاء پر نہیں ہوتے۔۔
ایسا ہی ایک خلاء تم جاتے جاتے مُجھے دے گئے ہو،
معلوم نہیں کہ اِس کو صرف خلاء کہنا مُناسب ہے، یا یوں کہوں کہ تُم جاتے جاتے مُجھے نامُکمل کر گئے ہو۔۔۔
ویسے تو مُکمل اور نامُکمل میں دو ہی حروف کا فرق ہے مگر یہ فرق اصل میں ایک دقیق فاصلہ ہے جِس کو طے کرتے کرتے اِنسان کے چہرے پر وقت کی ایسی جھُرِیاں پڑتی ہیں کہ اِنسان کی اصل شکل ہی بدل جاتی ہے مگر یہ نامُکمل سے مُکمل کا فاصلہ طے نہیں ہوتا۔۔۔مُجھے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ اگر تُمھاری اور میری منزلیں ہی جُدا تھیں تو پھر یہ زندگی نے جو چند مہینوں کا کھیل رچایا تھاوہ کیا تھا؟
چند مہینے۔۔۔۔۔۔۔ کتناعجیب لگتا ہے نا یہ کہنا، چند مہینے۔۔۔
کیونکہ یہ چند مہینے بیک وقت کئی صدیوں اور چند لمحوں پہ محیط تھے۔۔۔
چند لمحوں میں بننے والا تعلق ہمیشہ صدیوں پُرانا محسوس ہوا۔۔۔ لوگ کہتے ہیں کہ تعلق بنانے اور اچھا تعلق بنانے کے لئے ضروری ہے آپ ایک دُوسرے کے خیالات کو جانیں پوائنٹ آف ویو سمجھیں اچھی طرح پرکھیں پِھر کہیں جا کر اچھا تعلق بنتا ہے۔۔۔ مگر ہمیں تو ایسی کوئی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔۔۔ ہے نا؟
ہم مِلے اور بِنا منزل اور سفر کے انجام کے بارے سوچے یوں ساتھ چل دئیے جیسے پہلے سے سب کُچھ جان پرکھ کر آئے ہوں، جیسے ہمارے درمیان کبھی کوئی فاصلہ تھا ہی نہیں۔۔۔
ہے نا؟
مگر اب وقت کے فیصلے کی زد میں آنے کے بعد دیکھو، ایک دُوسرے کے سامنے ہوتے ہوئے بھی کِس قدر اجنبی ہیں ہم۔۔۔۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے اُس آشنائی کو میری اپنی ہی نظر لگ گئی،
بڑا رشک کِیا کرتی تھی ہمارے تعلق پہ۔۔۔
کبھی ایسے کِسی گُمان کو میں نے اجازت ہی نہیں دِی تھی کہ ہمارے درمیان کُچھ آ بھی سکتا ہے۔۔۔ ہمیشہ یہی لگا کہ قُدرت خُود راضی ہے ہمارے ساتھ ہونے پر۔۔۔
مگر یہ حقیقت کی دُنیا بڑی ہی ڈاڈی ہے بھئی۔۔۔ وہاں لا کر مارتی ہے جہاں پانی نہ مِل سکے۔۔۔
میں تُمھیں اکثر کہتی تھی کہ
“تُمھارا ساتھ ہو تو مُشکِلیں کافُور ہو جائیں
یہ اندھے اور کالے راستے پُرنُور ہو جائیں”
مگر میرے گُمان نے کبھی مُجھے یہ سوچنے کا موقع نہیں دِیا کہ تُمھارا ساتھ اگر نا ہو تو؟
تب اِس اندھے دار کے رستے پہ کدھر بھٹکتی پِھروں گی؟

مُجھے فروری کی وہ تاریح آج بھی یاد ہے اُس اُداس صبح ہماری آخری کنورزیشن میں، میں بِلک بِلک کر ایک ہی بات کئیے جاتی تھی
“یہ خلاء کبھی پُورا نہیں ہوگا” ، “یہ خلاء کبھی پُورا نہیں ہوگا”۔۔۔۔

خلاء ایک انتہائی معمولی سا لفظ اپنے اندر کِتنی غیرمعمولی وُسعت رکھتا ہے اِسکا اندازہ تو ہو گیا ہو گا۔۔۔
اور اگر نہیں ہوا۔۔۔۔
تو میری دُعا ہے کہ کبھی نا جان سکو کہ یہ خلاء کہتے کِسے ہیں، تُمھاری زندگی میں نویدِ مُسرت مہکتی رہے۔۔۔ آمین

مُجھے گاہے بگاہے اندازہ ہوتا رہتا ہے کہ یہ خلاء آخر ہے کیا، زندگی میں یہ کہاں کہاں اپنے ہونے کا احساس دِلاتا ہے، اور ہمیں مُکمل نہیں ہونے دیتا۔۔۔
کِسی رائٹر نے بہت خوبصورت جُملہ لِکھا تھا۔۔۔
“تم سوچو کہ اگر واقعی کوئی ایسا ہم سے بچھڑ جائے جِس کے ساتھ زندگی گُزارنے کو جِی چاہتا تھا، تو اُس کے فِراق کی دیوانگی ہمیں کیا کُچھ کرنے پے مجبور نہیں کر سکتی”

تُم اگر یہ سب باتیں پڑھ لو تو بولو
“LOL،  تُم تو ناکام شاعروں اور عاشقوں والی باتیں کرنے لگ گئیں”

ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ نہیں ایسا کُچھ نہیں۔۔۔ تُم سے بات کرنے کا بہت من کرے تو جو قلم تُم نے مُجھے گِفٹ کیا تھا اُسے ہاتھ میں تھامے یونہی کُچھ لِکھتی رہتی ہوں۔۔۔ مگر کبھی کوئی بات مُکمل نہیں کر سکی، اچانک سے بلینک ہو جاتی ہوں یہ عجیب سا بدلاو آیا ہے مُجھ میں۔۔۔
جیسے ابھی بلینک ہو گئی ہوں، جیسے اُس وقت ہو جاتی ہوں جب کبھی تُم اپنے بائیں ہاتھ میں پہنی انگوٹھی کو کِسی اُلجھن میں، بےدھیانی میں گھماتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔
میری بہت ساری ادھوری باتوں کی طرح یہ باتیں بھی نامُکمل رہ گئیں، میں اکثر سوچتی ہوں کہ تُمھاری یادوں کو تحریر کروں مگر لاشعور میں کہیں بیٹھے تُم ایک ہی کِلک سے سب کُچھ بلینک کر دیتے ہو۔۔۔ اور میں یہ سوچ کر تسلی کر لیتی ہوں کہ تُمھیں شاید یہ بات پسند نہ آئے۔۔۔
یہ سب تحریریں سب باتیں حقیقت میں تو تُم سے ہم کلام ہونے کے بہانے ہیں۔۔۔۔
یہ تحریر بھی ادھوری چھوڑ رہی ہوں اور بہت ساری تحریروں کی طرح۔۔۔
میں نے ایک بار تُمہیں بولا تھا تو تُم ہنس دئیے تھے، مگر دیکھو وقت کے فیصلے کئی بار ہمارے مُنہ سے نِکلی  بات کوکیسے سچ کر دِکھاتے ہیں
“جو تُم نہیں ہو تو یہ مُکمل نا ہو سکیں گی، تُمھاری یہی اہمیت ہے میری کہانیوں میں”۔۔۔

احمد رضا
آئٹی پروفیشنل

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *