اقبال پر چند سوال۔ابوبکر

علامہ اقبال پر ایک عالمی مباحثہ ہونے جا رہا ہے جس کے باقاعدہ اشتہار بھی چھاپے جائیں گے۔ فریقین میں عمران شاہد بھنڈر اور ادریس آزاد شامل ہیں۔ موضوع ہے کہ کیا اقبال نے کانٹ کو صحیح طرح سمجھا تھا یا نہیں۔ اللہ اکبر۔ راقم کو چند ماہ قبل کی ایک خبر یاد آ گئی جب روس کے کسی بار میں دو میخوار آپس میں کانٹ کے فلسفہ اخلاقیات پر بحث کے دوران الجھ پڑے اور ایک نے دوسرے کو ائیر گن سے چَھرا مار کر زخمی کردیا۔ اخبار کی رائے میں کانٹ کی اخلاقیات میں بہرحال چَھر ا مارنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خیر

بھلی ہے ہم نفسو ! اس چمن میں خاموشی
کہ خوشنواؤں کو پابندِ دام کرتے ہیں
ہرے رہو وطن مازنی کے میدانو
جہاز پر سے تمھیں ہم سلام کرتے ہیں!

ہم اس مباحثے میں براہ راست فریق نہیں ہیں تاہم کانٹ اور اقبال سے نیاز مندی کا رشتہ ہے اور اسی مناسبت سے بزبان اقبال جہاز پر سے سلام کی مد میں چند نکات پیش خدمت ہیں۔ ہم فریق بننے سے انکاری بھی نہیں ہیں تاہم خوشنواؤں کو اب بھی پابند دام کیا جاتا ہے۔ کیا کیجیے۔

1۔ کانٹ جدید دور میں مغربی فلسفے کی کلاسیکی شکل کا بہترین نمائندہ ہے۔ کانٹ نے اپنی فکر کو سنجیدہ ترین انداز میں ایک نظام کی صورت پیش کیا ہے ۔ علمیات ، وجودیات ، اخلاقیات اور جمالیات پر اس کے خیالات ایک بڑے سسٹم کے اندر منطقی طور پر مربوط انداز میں موجود ہیں۔ انسان ، سیاست نیز معاشرت پر کانٹ کا موقف اس کے مجموعی فلسفے سے براہ راست متاثر ہوا ہے۔
اقبال کے خطبات اس انداز سے نہیں لکھے گئے۔ یہ خظبات مختلف اوقات میں مختلف سامعین کے لیے تحریر کیے گئے جنھیں بعد میں کتابی صورت میں پیش کیا گیا۔ خطبات اقبال میں کئی نظریات جیسا کہ مذہبی تجربے کی علمیات ، عقل کی حرکی تصور ، تصور خودی کی وجودیات اور تخلیق کا ارتقائی تصور موجود ہے تاہم یہ ایک منظم صورت میں نہیں ہے۔ اس سے کئی مقامات پر یہ الجھن پیدا ہو جاتی ہے کہ اقبال کسی ایک مسئلے پر ایک فلسفی کی رائے اپنی حمایت میں پیش کرتے ہیں اور اگلے مسئلے پر کسی اور فلسفی کا موقف اپنے جواز میں لاتے ہیں اور اس حقیقت سے قطع نظر کرتے ہیں کہ وہ دونوں فلسفی آپس میں کیا رشتہ رکھتے ہیں۔

چنانچہ اقبال ایک ہی خطبے میں ایک مسئلے پر کانٹ ، دوسرے پر ہیگل ، تیسرے پر برگساں اور چوتھے پر نطشے ورنہ آئن سٹائن کا حوالہ لاتے ہیں۔ اقبال کے شارحین اور محققین کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اقبال کی فکر ( خطبات کی سنجیدہ نثر ) کو ایک منظم صورت میں پیش کریں۔ صرف اسی صورت میں یہ پتہ چل سکتا ہے کہ فکر اقبال میں کانٹ سمیت کسی بھی دوسرے فلسفی کا مقام کیا ہے اور کیا وہ مقام درست تفہیم پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر علامہ ایک ہی وقت میں کانٹ سے اس بات پر متاثر ہیں کہ اس نے عقلیت کی تحریک کو عقل کی حدود یاد دلا کر ایک پیغمبرانہ کام کیا ہے۔ ایک اور جگہ اقبال خدا کے وجود کے حق میں موجود عقلی دلائل کو بھی کانٹ کی مدد سے ردکرتے ہیں۔ لیکن اقبال کے خطبات میں جابجا مذہبی مسائل کے حل کے لیے عقل کا وہی حرکی تصور اپنایا گیا ہے جو ہیگل نے کانٹ کے بعد پیش کیا تھا۔ اس صورتحال میں جب تک اقبال کی نثر سے ان کا مجموعی نظام برآمد نہیں کیا جا سکتا بحث سمیٹنا ممکن نہیں۔

2۔ اقبال کا نظام فکر ایک شے ہے اور اس نظام فکر کے محرکات الگ موضوع ہیں۔ محقق کا کام یہ ہے کہ وہ فکر اقبال کے مختلف اجزا کی تشخیص کرکے انہوں باہم منظم طور پر پیش کرے اور ان کی صحت پر رائے دے۔ ( موجودہ بحث یہیں تک محدود ہے)۔ مورخ کا کام ہے کہ اقبال کی فکر کے محرکات تلاش کرے اور درستی یا صحت کا معیار یہ بنائے کہ کیا فکر نے اپنے محرکات سے انصاف کیا یا نہیں۔ مورخ کا کام زیادہ عظیم ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ فی الوقت وہ کام نہیں کیا جا رہا۔
ذیل میں اقبال اور کانٹ کے باہمی تعلق پراس نوعیت کی محققانہ اکیڈمک بحث کے بارے میں رائے دی جاتی ہے۔

ا۔ اقبال وجدان کے مقابلے میں عقل کی نارسائی اور کمتری ثابت کرنے کے لیے کانٹ کے   استدلال سے مدد لیتے ہیں۔ لیکن کانٹ کے اس استدلال کے منطقی نتیجے یعنی شی فی الذات کے نامعلوم ہونے سے اتفاق نہیں رکھتے اور وجدان کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ چونکہ عقل کا تعلق انسانی جوہر عقلی یعنی ذہن سے ہے لہذا اقبال کو اس کے مقابل خودی کا تصور استعمال کرنا پڑا جس کی بنیاد پر وجدان کو علمیاتی بنیاد فراہم کی گئی۔ خودی کے اس تصور پر کانٹ کے بعد کے جرمن فلسفی فختے کا اثر صاف نظر آتا ہے۔ دیکھنا چائیے کہ فکر اقبال کی مندرہ بالا تشکیل کی مجموعی صورت پر کانٹ اور فختے کے باہمی اختلاف رائے کا منطقی اثر کیا ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں تشکیل اقبال کی درستی کیا ہو گی ؟

ب۔ اقبال نے اپنے تصور خودی اور نظریہ تخلیق میں اشعری ایٹم ازم کی حمایت کی ہے ۔ ایٹم ازم کا یہ تصور اپنے زمانے میں تعلیل کے تصور کے رد میں سامنے آیا تھا۔ کانٹ تعلیل کے خلاف ڈیوڈ ہیوم کے اعتراضات کے جواب میں اس ایٹم ازم کے بنیادی دلائل کو رد کر چکا تھا۔ کانٹ کے تصور تعلیل میں انسانی شعور اور فوق تجربی کیٹیگریز کی اہمیت بنیادی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ علامہ انسانی شعور اور اس کی وحدت ، علم حاصل کرنے کے عمل میں حسی تجربے اور علیحدہ عقلی حصے کی باہمی یکجائی پر کانٹ سے متفق ہیں لیکن اسی استدلال کی رو سے ایٹم ازم اور مطلق خودی کی شان ظہور پر پڑنے والی زد کا کوئی جواب نہیں دیتے۔

ج۔ اقبال کا تصور ختم نبوت ایک پریگمیٹک دلیل پر قائم ہے اور اس میں موجود تصور انسان دراصل کانٹ کا تصور انسان ہے۔ یعنی جدید انسان جو استقرائی عقل کے ذریعے علم حاصل کرتا ہے اور اپنی انفرادی حیثیت میں ایک عقلی جوہر کا مالک ہے۔ اقبال کے نزدیک وحی اسلام کا مقصد اسی انسان کا حصول تھا لہذا کسی نئی وحی کی ضرورت نہیں۔ یہ دیکھنا چائیے کہ کانٹ کا تصور انسان جو جدید یورپ کے تناظر میں پیش ہوا ہے کیا اسے وحی کا لازمی نتیجہ کہنا کانٹ سے انصاف ہے ؟ اس نکتے پر پہلے خطبے میں موجود وہ رائے سامنے رکھنا ہو گی جو اسلامی تہذیب اور کلاسیکل یونانی تہذیب میں فرق پر ہے۔ خود اس دلیل کی صحت ایک الگ باب ہے۔

د۔ اپنے آخری خطبے میں اقبال نے کانٹ کے تصور نامینا اور فی نامینا کو محی الدین ابن عربی کے استدلال کی رو سے آپس میں بدل دیا ہے اور اس طرح مذہب کے امکان کا اثبات ہے۔ کانٹ کے نزدیک مظاہر کی دنیا کو پرسیپٹ اور خدا کو کانسیپٹ کہا تھا جبکہ ابن عربی نے اس سے الٹ فرمایا تھا۔ اقبال ابن عربی کی موافقت کرتے ہیں۔ باقی مقامات پر البتہ اقبال کانٹ کے تصور نامینا اور فی نامینا کو کانٹ کے اعتبار سے لیتے ہوئے ہی استدلال لاتے ہیں۔ اس صورتحال میں باہمی درستی کا معیار کیا ہے ؟

الغرض اس طرح کے کئی اور نکات ہیں جن پر بحث ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے۔ لیکن بحث کا ایک اور انداز بھی ہے جو محقق کی بجائے مورخ کی نظر سے دیکھنا ہے۔ یعنی کہ
4۔ یہ بحث کہ اقبال جیسا تھا وہ درست ہے یا نہیں بجائے خود درست انداز نہیں ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چائیے کہ اقبال جیسا تھا ویسا ہی کیوں تھا ۔ اقبال کا ظہور برصغیر میں اس وقت ہوا جب مسلم اقوام اپنے شناخت کے سوال پر فکر مند تھیں۔ مسلمان جدید دور میں اپنی شناخت اس حوالے سے کرنا چاہتے تھے کہ روایت سے رشتہ بھی نہ ٹوٹے اور مسلم قوم کو جدید احوال میں ایک ایسی کیٹیگری کے طور پر پیش کیا جائے کہ ناصرف برصغیر کے مقامی مسئلے میں کسی آئینی بندوبست کی صورت پیدا ہوجائے بلکہ عالمی منظر نامے میں سرمایہ دار جدیدیت اور سوشلسٹ فکر کے متوازی ایک مسلم فیکٹر بھی واضح ہو جائے۔

خطبات اقبال میں تہذیب و معاشرت پر کئی آرا موجود ہیں اور ایک خطبہ مسلم کلچر کے موضوع پر بھی ہے۔ اگر بحث اقبال پر ہو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان معاملات پر اقبال کی رائے کیوں ایک مخصوص شکل میں ظاہر ہوئی اور ایک بڑی سطح پر کس حد تک درست ہے۔ اس حوالے سے اقبال کا مطالعہ سرمایہ دارنہ جدیدیت ، نوآبادیت اور مابعد نو جدیدیت کے تناظر میں کرنا ہوگا۔ مسلم اقوام پر یورپی غلبے کے اور جدیدیت کی یلغار کے نیتجے میں ایک معاصر مسلم دینیاتی فکر بھی سامنے آئی ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اس فکر کی روایات کیا ہیں اور اس میں اقبال کا مقام کیا ہے۔

3۔ کانٹ ،ہیگل سمیت دیگر مغربی فلسفیوں کی فکر ایک مخصوص ماحول اور سیاسی ، معاشی و سماجی تناظر میں پیدا ہوئی ہے اور ان کے محرکات نشاۃ ثانیہ کے یورپ کے تاریخی حالات سے مشروط ہیں۔ تاہم جدیدیت سے جو طریق فکر سامنے آیا وہ کلی اور عالمی سطح کا تھا جس نے تمام اقوام کو متاثر کیا۔ دیکھنا چاہیے کہ مسلم اقوام پر کالونیل غلبے کی وجہ سے جو مخصوص فکر سامنے آئی ( اقبال اس کا ایک نمائندہ ہے ) اس کے محرکات کیا تھے اور اس فکر نے اپنے محرکات سے کس قدر انصاف کیا۔ اس مقام پر یہ دیکھ سکنا ممکن ہوگا کہ اقبال یا مسلم فکر کے دیگر نمائندے کانٹ سمیت مغربی فکر کے بارے میں ایک مخصوص تفہیم کیوں رکھتے ہیں ۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *