چی گویرا کے غلط موازنے۔۔ فہد رضوان

“امریکہ مردہ باد  یا امریکی سامراج مردہ باد”

بظاہر یہ دو نعرے ایک جیسے نظر آتے ہیں مگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ہی وہ بنیادی فرق ہے جو ایک سامراج مخالف عوام دوست سوشلسٹ انقلابی کو ایک عوام دشمن رجعتی رد انقلابی جہادی فاشسٹ سے علیحدہ کرتی ہے۔ اسی فرض کو ملحوظ نا رکھنے کی بنا پر بہت سے لبرل اور مذھبی دانشور کبھی بھگت سنگھ اور چے گویرا کو اسامہ بن لادن اور ملا عمر سے ملا بیٹھتے ہیں۔ کبھی سوشلسٹوں کی جانب سے قومی اور معاشی، سماجی آزادیوں کے حصول کیلیے کی جانے والی عوامی جنگ کے موازنے جہادیوں کی جانب سے کیے جانے والے عوام پر خودکش حملوں سے کیے جاتے ھیں۔ ایسے میں بھول جاتے ہیں کہ اسلامو فاشسٹ جب امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں تو انکے ذہن میں امریکہ کے سامراجی کردار، اسکے اقتصادی استحصالی ڈھانچے کا کوئی نقشہ نہیں ھوتا۔ زیادہ سے زیادہ امریکہ کی ثقافتی یلغار کی بات کی جاتی ھے (مگر کیا یہ گلوبلائزیشن کا لازمی نتیجہ نہیں؟ گلوبلائزیشن کیا ھے؟ وہ اسکا ادراک نہیں رکھتے ) پھر اس حلقے کی جانب سے امریکہ کو ایک اکائی کے طور پر دیکھا جاتا ھے۔ وہاں موجود کارپوریٹ سیکٹر اور اس سے نبرد آزما وہاں کے لاکھوں نوجوان جن کی امیدوں کا محور اس وقت برنی سینڈرس جیسا سوشلسٹ سیاستدان بن چکا ھے، وہاں موجود لاطینی ، سیاہ فام اور سرخ ہندی نسلوں پر سفید فاموں کا جبر ، غرض امریکہ میں موجود اس روزبروز بڑھتے نسلی، طبقاتی خلیج کے حوالے سے بھی وہ یکسر ناواقف ہیں۔۔۔ایک سوشلسٹ ، جو اصل میں سامراج مخالف ہوتا ہے، نسلی ، لسانی، مذھبی عصبیتوں سے پاک ھوتا ھے، وہ بخوبی جانتا ھے کہ جسے ایک ثقافتی یلغار کہا جا رھا ہے اسکی ایک معاشی بنیاد ھے، سامراجیت ، دوسرے ممالک پر چڑھ دوڑنا، اسکی بنیاد معاشی مفادات ھیں، یہ سرمایہ دارانہ ترقی کا لازمی نتیجہ ھے، پھر یہ کسی خاص ملک کا نہیں ، اس عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا انسانیت دشمن رویہ ہے جس کا مقابلہ مذہبی ، نسلی، لسانی نفرتوں پر نہیں عالمی سطح پر محکوم قومیتوں اور مظلوم طبقات کے اتحاد سے کیا جا سکتا ھے جس میں سامراجی ممالک کی محنت کش عوام ، ھماری سب سے قابل قدر اتحادی ھوا کرتی ھے۔۔

tripako tours pakistan

اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد یہ ھے کہ قاری کے زہن میں ان دو مختلف ، متضاد نظریات اور انکے علمبرداروں کے حوالے سے کمیاتی فرق برقرار رھے۔

ایک بہت ہی بڑے مولانا ہیں جو پہلے ایک مرتبہ سٹالن اور ماؤ کو لبرل ثابت کر چکے ھیں، انکی اس علمی ناواقفیت پر توجہ دلائی تو قبلہ نے بلاک کر ڈالا کہ جواب شاید مشکل تھے۔ وی “محقق” اب ایک اور تحقیق میں محنت کشوں کے قائد چی گویرا کو عالمی دھشتگرد اور سابقہ سی ائی اے ایجنٹ اسامہ بن لادن سے ملا بیٹھے ھیں۔ فرماتے ھیں، “چی گویرا بس ایک جنگجو تھا۔ انقلاب کے بعد اسے تجارت کا شعبہ دیا گیا ، ناکام رھا۔۔۔۔خارجہ کی وزارت دی، ناکام رھا۔۔ ایک پاو چینی بھی نا فروخت کر سکا تو سوچا عزت اسی میں ھے کہ واپس بندوق تھامی جائے لہذا بندوق تھام کر پہلے افریقہ اور پھر بولیویا گیا۔۔۔ دونوں جگہ نامراد ہوا اور مارا گیا ۔۔۔۔”

کوئی انجناب کو بتائے کہ حضور اگر اگر آج کیوبا میں سرخ پرچم پوری آب و تاب کے ساتھ لہرا رھا ھے، اگر آج کیوبا تن تنہا امریکی سامراج کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر عزت اور خودمختاری کے ساتھ کھڑا ہے تو یہ چے گویرا کی دن رات کی محنت کا نتیجہ ھے۔۔۔ ان خدمات کا خود فیدیل بھی معترف تھا۔ چے ایک سوشلسٹ تھا۔ اس نے ایک خواب دیکھا۔ امریکی حلقہ اثر سے آزاد ایک استحصال سے پاک لاطینی امریکہ ، یورپی طاقتوں کے طوق غلامی سے آزاد ایشیا Image result for che guevaraاور افریقہ ، ایک اشتراکی کیوبا ۔۔۔۔۔۔۔ چے کے انقلاب کے پچاس سال بعد یہ سب ایک حقیقت ھے۔ ایشیا اور افریقہ سے سفید آقاوں کا بوریا بستر لپیٹ دیا گیا ھے، لاطینی امریکہ میں جو ایک کے بعد ایک سوشلسٹ حکومتیں ائیں ھیں ، ونیزویلا ، بولیویا، ایکوڈور اور برازیل سے بڑی حد تک امریکی سیاسی اور اقتصادئ جبر ختم ھو چکا ھے اور رھا کیوبا، تو وہاں اج بھی چے کا لایا انقلاب پوری آب و تاب سے اقوام عالم کو خیرہ کر رھا ھے۔ چے گویرا کو جیسے جناب نے اسامہ بن لادن کے ساتھ نسبت دی ھے لیجیے زرا اسکا بھی موازنہ کر لیجیے-

انقلاب کے بعد جب کیوبن انقلاب عالمی تنہائی کا شکار تھا، امریکی شکنجہ تھا کہ اس کا حلقہ روزبروز سخت تر ھوتا چلا جاتا تھا اور نظر یہ آ رھا تھا کہ انقلاب جلد شکست کھا جائے گا  ، ایسے میں انیس سو انسٹھ میں  چے گویرا  نے تین ماہ کا ایک طویل بیرونی دورہ کیا۔ اس دوران وہ مراکش، سوڈان، مصر، شام، پاکستان، بھارت، سری لنکا، برما، جاپان، یوگوسلاویہ اور یونان گیا۔ سوشلسٹ ممالک کے ساتھ باھمی دفاعی اور تجارتی معاھدے ھوئے۔ جاپان اور چین سے یکساں مراعات حاصل کیں۔ تمام تیسری دنیا میں “کیوبن سولیڈیریٹی مومنٹ” کھڑیکی  گئی۔ رہا چینی بیچنے پر ناکامی تو یہ کم علمی کی دلیل ھے۔۔۔اکتوبر انیس سو ساٹھ میں چے گویرا پہلے چیکوسلواکیہ اور پھر سویت یونین گیا ، وہاں موجود سویت قیادت نے نا صرف عالمی نرخ سے زیادہ قیمت پر کیوبن چینی اور دیگر پیداوار خریدنے پر آمادگی کا اظہار کیا بلکہ کیوبا کو عالمی قیمتوں سے کم پر تیل بھی فراہم کرنے کی یقین دہانی کی گئی یعنی وہ پالیسی جو اس وقت صرف اور صرف مشرقی یورپ کے سوشلسٹ ممالک کے ساتھ خاص تھی، کیوبا کے حوالے سے بھی روا رکھی گئی۔ چین نے بھی صنعت سازی کیلیے ساٹھ ملین ڈالر دیے، یہ آجکا سرمایہ دار چین نہیں، چیرمین ماؤ کا سوشلسٹ چین تھا جس کی امداد ہر طرح کے سود اور تجارتی اغراض سے پاک Image result for che guevaraتھی اور اس کےاغراض میں سوشلسٹ ممالک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا اور انٹیرنیشنلزم کا جذبہ ہوتا تھا ۔صرف یہ ہی نہیں اسکے بعد کیوبا نے تیسری دنیا میں چلنے والی قومی آزادی کی تحریکوں کی بھی عسکری ، مالی اور انسانی بنیادوں پر مدد شروع کر دی . کون نہیں جانتا الجیریا ، ویتنام ، اکیڈور ، یمن ، لاؤس، کانگو ، انگولا میں کیوبا نے مقامی حریت پسندوں کی ساتھ مل کر کس طرح فرانسیسی ، برطانوی اور امریکی غاصبوں کو عبرتناک شکست دی تھی ۔۔یہ ہی وہ انقلابی اور جارحانہ خارجہ پالیسی تھی جس کی وجہ سے  کیوبا اور اسکی قیادت کو عالمی سوشلسٹ کیمپ میں وہ حیثیت مل گئی  جو شاید کسی اور کے حصے میں نہیں آئی .

داخلی سطح پر دیکھا جائے تو انقلاب کے بعد چے گویرا نے بے رضا کارانہ محنت کا تصور متعارف کروایا  جس کے تحت ھر شہری ، رضا کارانہ طور پر ھفتے میں بغیر اجرت کے ایک دن کام کرتا ھے جس سے حاصل ھونے والی امدنی مختلف قسم کے فلاح عامہ کے منصوبوں پر لگا کرتی ھے۔ زرعی اصلاحات کی گئیں، شہروں میں موجود کارخانے مزدوروں کی منتخب پنچائیتوں کے حوالے کیے گئے ۔ داخلی سطح پر زرعی اور صنعتی پیداوار کے تبادلے میں منڈی کے کردار کو کم سے کم کر کے بارٹر کا طریقہ اپنایا گیا۔ ٹرانسپورٹ اور دواسازی کے اداروں کو نجی ملکیت سے نکال کر کاپریٹو (اجتماعی ملکیت ) میں دیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا  کہ ٹرانسپورٹ کے نرخ پچاس ، جب کہ ادویات کی قیمتیں پچھتر فیصد کم ہو گئیں۔ اسی طرح سٹیل کے کارخانوں کو اجتماعی ملکیت میں دیا گیا جس کے بعد اس سیکٹر کی پیداوار میں پچھتر فیصد اضافہ ھوا۔ چے کے نزدیک اقتصادی ترقی کا معیار یہ تھا کہ ایک عام آدمی کی زندگی میں کتنی بہتری آئی ھے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو انقلاب سے پہلے اور بعد کے کیوبا میں زمین آسمان کا فرق ھے۔

چے خود ڈاکٹر تھا ، پیدایشی دمے کا مریض تھا، اس لیے بہت زیادہ کوشش اس ضمن میں کی گئی کہ کیوبا کو طب کی عالمی لیبارٹری بنا دیا جائے۔۔۔۔ آج کیوبا طب کے شعبے میں اپنے جیسے تیسری دنیا کے ممالک ہی نہیں، سپر پاور امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑتا ہے۔۔۔۔کسی کو شک ہے تو کینسر، ایڈز جیسے موزی امراض پر اقوام متحدہ کی رپورٹس پڑھ لے جو کیوبا کے حوالے سے شایع ہوتی رہتی ھیں۔۔۔ اسی طرح تیسری دنیا کے طلبا کیلیے مفت کیوبن سکالرشپس اور فری میڈیکل مہم ۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب بھی چے کا آغاز کردہ ہے۔

چے نے جس نظریے ، کیوبا اور انقلاب کیلیے اپنی جان قربان کی اسکے ثمرات کا موازنہ زرا اس نظام سے کرتے ھیں جسکے لیے ، بقول اسلامی فاشسٹوں کے،  اسامہ بن لادن نے جہاد کیا اور جام شہادت نوش کیا، افغانستان ، قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے ، اسکے برخلاف ، کیوبا کی آمدنی کا بڑا زریعہ اسکی چینی کی صنعت اور سیاحت ہے. طالبان کی فلاحی امارت اسلامی کے قیام  سے قبل افغانستان ایک ترقی پذیر ملک تھا. اسکے شہروں میں تعلیمی ادارے ، یونیورسٹیاں ، ہسپتال تھے ، عبدل احمد مہمند جیسے افغان خلاباز خلائی سفر پر روانہ ہوے تھے جب کہ کیوبا میں سوشلسٹ حکومت قائم ہونے سے قبل ایسا کچھ نہیں تھا . کیوبا ، حقیقی معنوں میں امریکی سرمایہ داروں کی کالونی تھا . ایک بڑا قحبہ خانہ جہاں امریکی مالدار سیٹھ اپنی شہوانی اور مالی حرص مٹاتے تھے .

انقلاب سے قبل کیوبا میں شرح خواندگی نہایت پست تھی – انقلاب کے بعد سوشلسٹ حکومت نے گاؤں ، دیہاتوں میں سکول کھولے جس کا نتیجہ یہ نکلا کے انقلاب کے تین سال بعد شرح خواندگی چھیانوے فیصد ہو گئی اور آج یہ سو فیصد ھے۔ دوسری جانب، امارت اسلامی نے جب اقتدار سنبھال کر اسلامی فلاحی ریاست قائم کی ، اس وقت شرح خواندگی پچیس فیصد تھی ، جب امارت ختم ہوئی یہ شرح پچیس فیصد سے کچھ ہی زیادہ، ستائیس فیصد تھی ، وہ بھی اقوام متحدہ کی جانب سے دی جانے والی امداد اور تعلیم کا نتیجہ تھا۔ خواتین کے حوالے سے امارت اسلامی نے پہلا کام یہ کیا کہ ان کی تعلیم پر پابندی لگاتے ھوئے لڑکیوں کے سکول بند کر دیے۔ انکے نظریاتی بھائی ہمارے سوات اور مالاکنڈ میں بھی لڑکیوں کے سکولوں کو آگ لگاتے رھے اور بارود سے اڑاتے رھے ھیں، اسکا موازنہ کیوبا سے کریں جہاں آج خواتین، مردوں کے شانہ بشانہ ملک و قوم کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رھی ھیں۔

صحت کے حوالے سے دیکھا جائے تو اج کیوبا بلاشبہ ایک معجزہ پیش کرتا ھے۔ آج کیوبا ایڈز، کینسر کے تریاق ایجاد کر رھا ھے۔ دنیا بھر سے ھزاروں نوجوانوں کو اپنے ملک میں سکالرشپس دے رھا ھے۔ اسکے میڈیکل مشن، کشمیر کے زلزلے گزیدہ پہاڑی دیہات ھوں ، افریقہ کے سیلاب میں ڈوبے شہر ۔۔ سب سے پہلے وہاں پوھنچتے اور مفت علاج کرتے ھیں۔  ملک کے اندر اوسط عمر ، اکاسی سال ہے ، امارت اسلامی میں یہ چون برس تھی . سوشلسٹ  کیوبا میں ہزار میں سے صفر بچے علاج کی ناکافی سہولیات ہونے کی بنا پر جان سے جاتے ہیں جبکہ امارت اسلامی میں ہزار میں سے ایک سو اڑتالیس بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے . آج چے گویرا کا کیوبا دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے جس کے سائنسدانوں نے ایسی دوا ایجاد کی ہے جس کے استمعال سے ایڈز ماں سے بچے کو منتقل نہیں ہوتی . اسکے سائنسدانوں نے پھیپھڑوں کے کینسر کی ویکسین ایجاد کی ہے .دنیائے طب میں کیوبا جو معجزے دکھا رھا ھے  اسکے معترف سامراجی ممالک کے میڈیا گروپ بھی ھیں۔ بی بی سی پر تیرہ دسمبر کو ایک ریپورٹ شایع ھوئی۔۔۔ جس کے مطابق:

”تصور کریں کہ ڈاکٹر آپ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور وہ بھی نہ صرف آپ کے علاج کے لیے بلکہ آپ کے تمام اہل خانہ کی سالانہ صحت کی جانچ کے لیے۔آپ کا بلڈ پریشر لینے اور دل کی دھڑکن جانچنے کے علاوہ وہ آپ سے آپ کی زندگی اور روزگار کے بارے میں مختلف قسم کے سوالات کرتا ہے اور آپ کے گھر کی باقی چیزوں پر نظر ڈالتا جاتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی چیز تو نہیں جو آپ کی صحت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ایسا ہی کچھ کیوبا میں ہوتا ہے۔ ایسا ہر جگہ نہیں ہو سکتا لیکن یہ صحت کی دیکھ بھال کے لیے ایک مدافعتی یا احتیاطی طریقۂ کار ہے جس کے بعض موثر نتائج سامنے آئے ہیں۔ صحت مند افراد کے معاملے میں کم اور متوسط درجے کی آمدن والے ممالک میں کیوبا کی ہیلتھ سروس بہترین ہے اور بعض معاملے میں تو وہ امیر ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔”

اسکا موازنہ کیا بن لادن اور اسکی میزبان امارت اسلامی سے کیا جا سکتا ھے؟ میں سوچ رھا تھا کہ شاید خودکش جیکٹ کی ایجاد کا سہرا اسامہ بن لادن ، القاعدہ یا طالبان کو جاتا ھو گا مگر افسوس یہ ایجاد بھی تامل آزادی پسندوں کی نکلی۔

رہی ٹرانسپورٹ، صنعتی ترقی ، عوام کی فلاح و بہود کے منصوبے تو اس پر تو خود مولانا طارق جمیل صاحب خود قبول کرتے ھیں کہ امریکہ نا بھی حملہ کرتا تب بھی افغانستان سے طالبان حکومت کا خاتمہ ھو جانا تھا کیونکہ امارت اسلامی میں کوئی ایک بھی عوامی فلاح کا منصوبہ نہیں تھا۔ ٹرانسپورٹ کا نظام برباد تھا، صنعتیں بند اور کارخانے کھنڈر بن چکے تھے۔ افغانوں کی اکثریت پاکستان ، ایران، تاجکستان اور عرب ممالک میں بیگاری کاٹ رھی تھی، آخر کون بھول سکتا ھے جب شمالی اتحاد کی فوج کابل میں داخل ھوئی تو کیسے پھولوں کے ھار لے کر کابلی ، ٹینکوں پر چڑھ گئے تھے۔ یونیکول کیا تھا ، امارت اسلامی نے کیسے ملکی دولت امریکی کارپوریٹ اداروں کو سعودی مڈل مین ، یعنی دلالوں کے زریعے فروخت کیے جانے کے منصوبے بنائے ، یہ پردہ خود ہی بے نقاب کیجیے ۔

فاشزم اور سوشلزم دو متضاد نظریے ھیں۔ سوشلزم اتحاد اور وحدت انسانی کا داعی ھے۔ وہ یہ سمجھتا ھے کہ انسانی وحدت اور اخوت میں حائل سب سے بڑی دیوار سرمایہ دارانہ ، جاگیردارانہ استحصالی طبقات ھیں جو اپنے مفادات کیلیے انسانوں کو نسلوں، مذھبوں، زبانوں کی بنیاد پر تقسیم کرتے اور انکو آپس میں تقسیم کرتے ھیں۔ وہ مرد و عورت کی مساوات کا قائل ھے، وہ عورت کو اس سماج کا اتنا ھی اھم جزو اور حصہ سمجھتا ھے جتنا کہ مرد ۔۔ اسکے مقابلے میں ملائیت اور فاشسٹ عورت کو محض ایک جنسی لذت اور بچے پیدا کرنے، پالنے والی ثانوی مخلوق سمجھتے ھیں کو ناقص العقل ھے، اور تخلیق جوہر اور صلاحیتوں میں مرد سے آدھی ھے  جبکہ سرمایہ دار لبرل معشیت اسے اپنے سرمائے میں اضافے کیلے  منڈی میں لا کھڑا کرتی ھے۔ آخری تناظر میں دونوں ھی عورت کو، مرد ھی کا طرح کا ایک جیتا جاگتا انسانی وجود ماننے سے منکر ھیں۔ سوشلسٹ کیوبا، جہاں انقلاب سے قبل بدترین قسم کی نسل پرستانہ قوانین اور سماجی رویوں کا غلبہ تھا، آج نسل پرستی کا نام و نشان نہیں ملتا۔ نسلی تعصبات ھوں یا مذھبی، انکا کہیں کوئی شائبہ تک نہیں، چے کا کیوبا فلسطینی جدوجہد آزادی کا بھی اسی طرح حامی اور مدد گار ھے جیسے وہ ماضی میں نیلسن منڈیلا  اور انکی نسل پرستی کے خلاف تحریک کا تھا۔ اسکے مقابلے میں اسامہ بن لادن اور اسکے ھمنوا اسلامسٹ ، ھٹلری فاشزم کی طرح انسانوں کو اہل ایمان اور اہل کفر کے مابین تقسیم کر کے ہر اس انسان کے خلاف مذھب کی بنیاد پر تعصب برتتے اور Related imageاسے بربریت کا نشانہ بناتے ھیں جو انکے بقول ، انکے مرتب کردہ دائرہ اسلام سے باھر ہوتا ھے۔ کون نہیں جانتا امارت اسلامی نے کیسے ایک دن میں ھزارہ جات اور مزار شریف میں دس ھزار شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کیا، کیسے صدیوں سے آباد چلی صوفی درگاہوں کو بند کیا گیا، کیسے ھندو، مسیحی اور سکھ آبادی سے ھر قسم کے شہری حقوق چھین کر انکو دوسرے درجے کا شہری قرار دیا۔ کیسے ایک مخصوص مسلک کی آمریت کو مسلط کیا گیا اور پھر کیسے ان فاشسٹ گروھوں نے لاکھوں کی تعداد میں غیر متحارب ، غیر مسلح، بے گناہ ، معصوم شہریوں کا بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں  قتل عام کیا۔ چے گویرا اس سب کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اسکا تو مشہور قول ھے: “ایک انسانی جان کی قیمت، دنیا بھر کے سرمایہ داروں کے سرمائے سے زیادہ ھے”۔  چے کی پوری زندگی اٹھا کر پڑھ لیجیے۔ ھمیشہ جنگ میں دشمن فوج سے لڑائی لڑی گئی ھے۔ کوئی ایک موقع بھی ایسا نہیں جب بے گناہ سویلین آبادی یا غیر مسلح سپاہی کو قتل کیا گیا ھو،۔

آج چے گویرا کو ھم سے بچھڑے پچاس برس سے زیادہ ھو چلے مگر عالمی سوشلسٹ تحریک اور لیفٹ میں اسکا چہرہ آج بھی زندہ ھے۔ پھر وہ فلسطین میں پی ایل او کے حریت پسند ھوں، یورپ میں ماحولیات اور گلوبلائزیشن کے خلاف ھونے والے مظاہرے، لاطینی امریکہ اور بھارت میں سرمایہ داری کے خلاف Image result for osama bin laden funnyھونے والے احتجاج ۔۔۔۔ چے گویرا کی تصویریں ہاتھوں میں لیے یہ جوان اس بات کی گواھی دیتے ھیں کہ چے گویرا آج بھی زندہ و جاوید ھے۔ آج اس کی قاتل کی بینائی کیوبن ڈاکٹروں نے بحال کی. چے کا قاتل ماریو ٹرین آج اسکا سب سے بڑا مداح ھے۔ اسکا مجسمہ بولیویا میں اس مقام پر ایستادہ ھے جہاں اسے قتل کیا گیا تھا۔ نیشنل یونیورسٹی کولمبیا میں اسکے قد آدم پورٹریٹ ، کیوبا کے دارلحکومت ہوانا میں اسکے نام سے منسوب درجنوں سکوائر۔۔۔۔ایک لادین سوشلسٹ انقلابی چے گویرا کے لاطینی امریکی مسیحی راہب حامی  اور پھر ہزاروں میل دور بیٹھا چے گویرا کے ان لاکھوں حامیوں میں سے ایک مجھ جیسا نوجوان جو یہ جملے لکھ رھا ھے۔۔۔۔ کیا آپ سمجھتے ھیں کہ چے گویرا ایک ناکام شخص تھا؟ یا یہ کہ دنیا اسے بھول چکی یا اس کے نظریات ماضی کا حصہ ھو چلے؟ مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔  کیا آپکو لگتا ہے کہ اسامہ یا اس جیسے دہشت گرد چے کا سا مقا م حاصل کر پائیں گے؟ ایں خیال است  و محال است

فہد رضوان
فہد رضوان
میں پیشے کے لحاظ سے ایک انجینیر ہوں۔ تاریخ، ادب، فلسفے سے شغف ہے۔ ایک سیاسی اور ماحولیاتی ایکٹوسٹ ہوں اور پچھلے دس سالوں سے لیفٹ کے ساتھ وابستہ ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *