• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • میانمار کے سفیر کی دفتر خارجہ طلبی،پاکستان سفارتی دبائو بڑھائے۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

میانمار کے سفیر کی دفتر خارجہ طلبی،پاکستان سفارتی دبائو بڑھائے۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

اس وقت دنیا بھر کے عدل پسند میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔برما جسے میانمار بھی کہا جاتا ہے،میں بدھ بھکشوئوں کی جانب سے وہاں کی مسلم اقلیت پر مظالم کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہیں اور عالم اسلام سمیت ہر عدل پسند انسان خواہ اس کا مذہب کوئی بھی ہے، وہ غصہ میں ہے۔روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے پر تشدد حملوں کی تاریخ طویل ہے جس کے ساتھ مذہبی،نسلی اور سیاسی معاملات جڑے ہوئے ہیں۔حالیہ حملوں کے بعد دنیا بھر میں روہنگیا مسلمانوں کے حق اوران کی نسل کشی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اب تک برمی فوج کے حالیہ حملوں میں 400 سے زائد روہنگیا مسلمان شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 2600 سے زائد گھروں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ حالیہ حملوں کے بعد اب تک 3 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کر چکے ہیں، جبکہ کئی بے چارے بے یارو مددگار دریاوں کی لہروں کے سہارے ہیں۔یاد رہے کہ کئی دنوں کی طویل خاموشی کے بعد بالآخر پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس حوالے سے سرکاری موقف اپنایا ہے اور میانمار کے سفیر کو طلب کر کے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے میانمار کے سفیر یو ون مائینٹ کو دفتر خارجہ طلب کر کے روہنگیا مسلمانوں پر جاری ظلم و بربریت کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا۔سیکریٹری خارجہ نے میانمار کے سفیر سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم و بربریت کو ختم کرنے کے حوالے سے مناسب اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔اعلامیے کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے میانمار کے سفیر سے ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے، ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور انھیں بلا امتیاز اور بغیر کسی خوف کے نقل و حمل کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔پاکستانی وزارت خارجہ نے میانمار کے سفیر سے مطالبہ کیا کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم کی تحقیقات کرائی جائے اور ان کی خون ریزی میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
رخائن میں جاری تنازع کے پائیدار حل کے لیے اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے کمیشن کی سفارشات پر فوری عمل درآمد پر بھی زور دیا گیا۔خیال رہے کہ اس کمیشن کی سفارشات میں میانمار کی ریاست رخائن میں فوری طور پر جاری شورش کو ختم کرنے کے لیے اقدامات، امن بحال رکھنے، رضا کارانہ مصالحت، غیر جانبدارانہ طور پر متاثرہ لوگوں تک رسائی اور شہریت کے مسائل کے حل پر مشتمل تجاویز بھی شامل ہیں۔میانمار کے سفیر یو ون مائینٹ نے سیکریٹری خارجہ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ میانمار حکومت تک پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام کے تحفظات پہنچائیں گے۔

خیال رہے کہ میانمار کی ریاست رخائن میں فوجی بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا تھا۔میانمار کی سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں نے ان پر حملے کیے تاہم روہنگیا مسلمان اس کی ترید کر رہے ہیں۔روہنگیا مسلمان میانمار کی فوج کے مظالم سے بچنے کے لیے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کر رہے ہیں۔بنگلہ دیش پہنچنے والے افراد نے بتایا کہ ان لوگوں کو میانمار میں بربریت کا نشانہ بنایا گیا جبکہ میانمار فوج نے ان کی خواتین کو ریپ کا بھی نشانہ بنایا۔بدھ مت اکثریت کے حامل اس ملک کی فورسز کی نہتے مسلمانوں پر جاری مظالم کے خلاف پوری دنیا کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آرہا ہے اور بین الاقوامی فورم پر میانمار کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔
میانمار (برما) کی نوبل انعام یافتہ رہنما آن سانگ سوچی پر بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کا شدید دبائو ہے کہ انھوں نے ہمیشہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف زبان بند رکھی۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق میانمار کی ریاست رخائن میں شروع ہونے والے تشدد سے گزشتہ 11 روز میں ایک لاکھ 23 ہزار 600 افراد نے سرحد پار کی ہے۔یہ صورتحال انتہائی خطرناک اور انسانی المیے کو جنم دینے والی ہے۔ ایک منظم انداز میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے۔ ان بیچاروں کا دوہرا دکھ ہے۔ وہاںرہیں تو برمی فورسز نشانہ بناتی ہیں اور اگر بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کریں تو حسینہ واجد حکومت کی بے رخی اور نفرت کا نشانہ بنتے ہیں۔حالیہ بحران میں اگرچہ ترکی نے ذمہ داری لی ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں پہنچنے والے مہاجرین کیمپ کے لیے امداد دے گا۔پاکستان اور عالم اسلام کے با اثر ممالک سمیت خطے اور دنیا بھر کے فیصلہ ساز ممالک کو میانمار کی حکومت پر سفارتی دبائو بڑھا کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔

اقوام متحدہ برمی حکومت کو پابند کرے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو گھر دوبارہ تعمیر کر کے دے اور ان کے تحفظ کی ضمانت بھی دے۔ اس حوالے سے چین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔پاکستان صرف اتنا احتجاج ریکارڈ کرانے پہ ہی اکتفا نہ کرے بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی خط لکھے کہ وہ میانمار کے علاقے رخائن، جسے رکھائن بھی لکھا اور کہا جا رہا ہے، وہاں اپنا ایک فیکٹ فائینڈنگ کمیشن بھی بھیجیے۔ میانمار کی حکومت اس وقت عالمی برادری کی تنقید کی زد میں ہے۔ اس پر جس قدر سفارتی دبائو ممکن ہو بڑھایا جائے تا کہ روہنگیا مسلمانوں کی سفارتی مدد کر کے ان کے دکھ کو کم کیا جا سکے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *