مسجد، درویش اور ریاست

پاکستان کے اکثرعلاقوں میں بچوں کو قرآنِ مجید حفظ کرانے کی غرض سے محلوں کی مساجد میں داخل کرایا جاتا ہے۔ محلوں کی وہ مساجد ایک طرح کی اقامتی درس گاہیں ہوتی ہیں، کیونکہ مساجد میں داخل ہونے والے بچے انہی مساجد میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ مساجد کا اقامتی نظامِ تعلیم روایتی اقامتی نظام سے ذرا مختلف ہے کیونکہ روایتی اقامتی نظامِ تعلیم میں رہائش اور کھانے کا بندوبست نجی یا سرکاری ادارے کے منتظمین کر تے ہیں جب کہ مسجد میں رہائش پذیر بچوں کی رہائش مسجد میں ہوتی ہے اور انھیں اپنے کھانے کا بندوبست خود سے کرنا پڑتا ہے۔ علی الصبح، دوپہر اور شام میں سر پر ٹوپی پہنے دو دو بچوں کی ٹولیاں، بالٹی اور ایک بڑی سی تھالی ہاتھ میں لیے مسجد کے قریبی محلے کی گلی گلی گھومتے ہیں اور ہر طرح کا سالن ایک ہی بالٹی میں اکٹھا کرتے ہوئے اور تھالی میں روٹیاں لے لے کر جمع کرتے ہوئے واپس مسجد پہنچتے ہیں، جہاں مسجد کے مولوی صاحب کی امامت میں ہی مل کر کھانا کھایا جاتا ہے۔ مسجد میں اقامتی تعلیم پانے والے بچوں کو درویش کہا جاتا ہے۔
بظاہر یہ ایک ایثار اور قربانی کی سرگرمی لگتی ہے کہ گاؤں یا محلے کے لوگ مادیت کے اس دور میں بھی غیر محسوس انداز میں مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی مناسب مدد کر رہے ہیں جو فلاح بھی ہے اور کارِ ثواب بھی، مگر ذرا ٹھہریے اور سوچیے!
آپ کے گھر میں چھوٹی موٹی نوک جھونک کے نتیجے میں خاتونِ خانہ کھانا پکانے کی ذمہ داری سے سبکدوشی اختیار کرتے ہوئے گھر کے کسی گوشے میں خراب مزاج کے ساتھ گو شہ نشینی اختیار کیے ہوئے ہیں یا آپ کی کسی گھریلو پریشانی کی وجہ سے سب گھر والوں کا مزاج خراب ہے، کسی انتہائی نازک مسئلے پر گفت و شنید بحث کا روپ دھار چکی ہے، گھر کے تقریبًا سارے افراد اس بحث میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ کوشش یہ ہے کہ اس بحث پر مسئلے کا ممکنہ حل سامنے آئے۔ دلائل اور بیانات کی جذباتی آواز گھر کی چار دیواری پھلانگ کر پڑوسیوں کے کانوں تک جا پہنچتی ہے۔ کچھ کھڑکیوں کے پٹ کھلتے ہیں اور لوگوں کی توجہ آپ کے گھر کی طرف ہوتی ہے۔ لوگ منصفی کی پیشکش بھی کرتے ہیں مگر آپ کچھ نہیں، ویسے ہی، خیر ہے، ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہوے ممکنہ منصفوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں واپس بھیج دیتے ہیں۔ آواز دھیمی ہوجاتی ہے مگر بحث میں شامل افراد ابھی تک جذباتی کیفیت میں ہیں۔ اسی اثنا میں ہاتھ میں بالٹی اور تھالی لیے بچے آپ کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اورکھانے کا تقاضہ کرتے ہیں۔ گرما گرمی کی کیفیت میں آپ ان بچوں کو ڈانٹ کر واپس بھیج دیتے ہیں۔ کیا اس وقت ان بچوں کی مایوسی اور کرب کبھی کسی نے معلوم کرنے کی سعی کی ہے؟ شاید نہیں۔
اگر ہم صرف چند لمحوں کے لیے فرض کرلیں کہ در در پر روٹی اور سالن کے لیے دستک دینے والے بچے ہمارے بچے ہوں اور وہ ایک ایسے ادارے میں زیرِ تعلیم ہوں جس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ انھیں در در بھٹک کر کھانا مانگ کر کھانا پڑے تو ہم یہ برداشت کرسکتے ہیں یا ہم بچے کو اس اقامتی درس گاہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل کرا سکتے ہیں؟ بالکل نہیں!
گلوبل ہنگر انڈیکس مرتب کرنے والے ادارے کی سال 2016 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایتھوپیا تینتیس اعشاریہ چار فیصد کے ساتھ فہرست میں ایک ساتھ کھڑے ہیں، پاکستان میں تعلیم پر کام کرنے والے اداروں الف اعلان اور ایس ڈی پی آئی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جا رہے۔ اس بات کا تعین کرنا ابھی باقی ہے کہ کیا مذکورہ بالا دونوں اداروں نے مساجد اور مدرسوں میں زیرِ تعلیم بچوں کو تعلیم حاصل کرنے والی تعداد میں شامل کیا کہ نہیں، کیونکہ 2015 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد لگ بھگ پینتیس ہزار تھی اور مذکورہ رپورٹ میں مدارس میں زیرِ تعلیم طلبہ کی تعداد نہیں بتائی گئی تھی۔
1973 کے دستور کی شق 25 الف کے مطابق پاکستان میں تعلیم کو لازمی اور مفت حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے، لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ ریاست یہ حق اختیار بھی دیتی ہے کہ اگر طالب علم مذہبی تعلیم کی طرف راغب ہو اور قرآن مجید حفظ کرنا چاہتا ہو تو ریاست کے پاس ایسی تعلیم کا کوئی معقول بندوبست ہے؟
چلیں اس بات کو بھی پسِ پشت ڈال کر یہ معلوم کرنے کی سعی کرتے ہیں کہ مدرسوں اور مساجد کی تعلیم کے دوران ممکنہ مشکلات کو جانتے ہوئے بھی پتھر دل والدین اپنے جگر گوشوں کو ان مساجد میں کیوں داخل کرواتے ہیں؟
عالمگیر جریدہ براۓ معاشیات 2015 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کے 30 فیصد بچے معاشی مجبوریوں کی بنا پر پانچویں جماعت تک تعلیم مکمل نہیں کرسکتے۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ معاشی طور پر ناآسودہ والدین کام کرنے کی افرادی قوت میں اضافے کے پیش نظر اپنے بچوں کو سکول سے ہٹا کر کام پر لگا دیتے ہیں۔ نہایت غریب خاندان اپنے بچوں کے سکول کی فیس، کتب اور روزمرہ کے اخراجات سے عاجز آتے ہوئے بچے کی پسند ناپسند کے برخلاف اسے مدرسے یا مسجد میں داخل کرا دیتے ہیں جہاں نہ رہائش کا مناسب بندوبست ہوتا ہے اور نہ ہی خوراک کا۔ مدارس میں داخل بچے کن کن ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی اذیتوں کا شکار ہوتے ہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔
تعلیم کسی بھی جمہوری ریاست کے اندر بسنے والے انسانوں کا بنیادی حق ہے خواہ وہ روایتی ہو یا مذہبی۔ اگر والدین اور بچے غربت کی وجہ کے برعکس شعوری طور پر مذہبی تعلیم حاصل کرنا چاہیں تو کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے؟ کیا عوام اور ریاست کا سماجی معاہدہ اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ درویش کہلائے جانے والے مسجدوں میں زیرِ تعلیم بچے دو وقت کے کھانے کے لیے ہر روز عزتِ نفس مجروح کروائیں اور اپنی سماجی شناخت کے بارے ایک مخمصے کا شکار رہیں۔

اظہر مشتاق
اظہر مشتاق
اظہر مشتاق سماج کے رِستے زخموں کو محسوس کرنے والا عام انسان ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *