بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط4)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

گزشتہ سے پیوستہ

باوا جی تو یہ سب اکاؤنٹنگ دیکھ کے ششدر رہ گئے، منشی اپنی جگہ پریشان ۔ خیر باوا جی نے اٹھ کے بیٹے کو گلے لگایا ،پیار کیا، آنسو روکتے ، بھرائی آواز میں توجہ بدلنے کو یہ پوچھ لیا کہ میرا شناختی کارڈ کہاں سے لیا تھا؟
اصغر شاہ نے باپ کے پاؤں چھوئے اور کہا، “ باوا جی آپ بھول گئے ! میرا کالج میں داخلہ آپ کے کارڈ پہ ہوا تھا میرا شناختی کارڈ تو بعد میں بنا ۔ کاپی میرے پاس تھی، نہ ہوتی تو بھی آپ کے نام پہ ہر شے ہونی چاہیے۔اسی میں تو برکت ہے، اس میں تو دادا جی کا اسم مبارک بھی ہے ۔
باوا جی میرے دادا پہ آپ میرا نام رکھتے ناں ۔ وہ تو ذاکر تھے تو میں بھی ذاکر بن رہا ہوں “
باپ بیٹے کی گفتگو منشی ایک موڑھے پہ بیٹھا سن رہا تھا، اچانک وہ کانپنے لگا اور اٹھ کے باوا جی کے پاؤں پکڑ کے زار و قطار رونے لگا۔۔۔
نئی قسط
اصغر شاہ نے اسے پکڑ کے اٹھایا، موڑھے پر بٹھا کے پانی پلا کے پوچھا، “ چاچا تیری نسوار کدھر ہے ؟
باوا جی سے مخاطب ہو کے کہا، “ صبح سے آپ کے ساتھ ہے، نسوار نہ کھائے تو اسے یہ دورہ پڑ جاتا ہے۔۔منشی حیران اور خالی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہا تھا، اصغر نے اسے پکڑ کے اٹھایا اور باوا جی سے کہا کہ میں اسے گھر چھوڑ کے آتا ہوں، نسوار رکھے  گا،آرام  کرے گا تو تھوڑی دیر تک طبیعت سنبھل جائے گی۔
وہ منشی کا بازو تھامے اسے بیٹھک سے باہر لے گیا، اس کے ڈیرے پر پہنچ کے اسے تاکید سے کہا کہ تم فائرنگ والے واقعے کا ذکر کرنے کو روئے تھے، تم نے اسکی بات نہیں  کرنی، میں باوا جی کو خود اپنے طریقے سے بتاتا ہوں۔
اسے وہاں چھوڑ کے بیٹھک میں  واپس آیا تو باوا جی کو مزید تسلی دی کہ منشی واقعی نسوارچی ہے،پلنگ کی پائنتی بیٹھ کے بڑے اعتماد سے بات پھیر دی، اور کہا۔۔
“ آپ کو کلاشنکوف لینے کی تفصیل بتانے کا موقع ہی نہیں  ملا،آپ کے لئے چائے کا کہہ آؤں تو عرض کرتا ہوں۔۔
چائے آ گئی، اصغر نے رجسٹر اور فائلیں واپس بیڈ روم میں رکھ دیں، باپ بیٹے کو تنہائی  میسرآئی ، تو اصغربتانے لگا ۔۔

باوا جی آپ کے اس مربعہ والے مرحوم کزن کے چھوٹے داماد کا بھائی  تاجی شاہ یہاں پٹرولیم کمپنی کا ڈیلر ہے۔ وہ ہر نئی سائیٹ پر جہاں پٹرول پمپ لگنا ہو، کمپنی میں اثر و رسوخ سے پہلے آگاہ ہوتا ہے، زمین ٹھیکے پر لیتا ہے، پمپ لگاتا ہے اور تگڑی رقم ایڈوانس لے کے آگے کرایہ پر دے دیتا ہے، پورے ڈویژن میں اس کے ایسے پٹرول پمپ ہیں۔
اب یہ ہماری زمین کے کونے والے چوک پہ  نیا پمپ لگنا ہے، تاجی شاہ یہاں آیا تھا، منشی سے گرائیں بن کے اس نے زمین کی ملکیت کی تفصیل پوچھ لی، مجھے پتہ چلا کہ وہ انکل کے داماد کا بھائی  ہے تو میں نے میجر انکل سے بات کی۔ انہوں نے ڈی سی آفس بات کی اور مجھے وہاں بھیجا۔ وہاں کے ناظر صاحب میرے ہم جماعت دوست کے والد صاحب نکل آئے، انہوں نے ماتحت عملے کو کہہ دیا کہ ہمارے مربعوں بارے کوئی  بھی بات ہو تو ان کو فوری اطلاع دی جائے۔
باوا جی حیرانی سے یہ سب سُن رہے تھے، لیکن جب اصغر نے انہیں ناظر صاحب کے بنگلے پر محکمہ مال اور انہار کے ملازمین کی ریکارڈ سمیت حاضری کی تفصیل بتائی  تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئے، اس نے تفصیل سے بتایا کہ محکمہ انہار میں تو سارے موگھے اور کھال باوا جی کے نام تھے، محکمہ مال میں خانہ کاشت میں مرحوم شاہ جی کے پرانے مزارعوں کے نام   بدستور چل رہے تھے، جو ناظر صاحب کی ہدایت پر دس سال قبل سے باوا جی کے نام  کا اندراج کرایا گیا۔

اصغر شاہ نے جذباتی ہو کے جب یہ کہا کہ اس کے فوج میں کمیشن سے اہم اس آبائی  وراثت کی حفاظت تھی،تو باوا جی آبدیدہ ہو گئے، اصغر نے مزید کہا کہ گاؤں میں مربعے کا سودا ان حالات کی وجہ سے کیا تھا،اب یہاں دو تین دن میں مختار نامے تصدیق کرا کے زمین کا انتقال کرانا ممکن ہے اور لازمی بھی ،جس کے بعد کونے پہ پٹرول پمپ کی کمپنی سے ڈیل اور منظوری کی کوشش کرنی ہو گی، کیونکہ اس سائیٹ کی کمپنی میں کچی منظوری ہو چکی ہے، اصغر نے پھر ذرا سینہ پُھلا کے کہا کہ باقی این او سی وہ لے سکتا ہے۔

اتنی دیر میں منشی واپس آ کے بیٹھ گیا، اصغر نے اسے چُپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔
اپنی بات جاری رکھتے ، بڑے تحمل سے کہا کہ تاجی شاہ نے اس دوران ایک رات کو جب ملازم پانی لگا رہے تھے،یہاں سڑک والی سائیڈ سے فائرنگ کرائی ، جس کے جواب میں باوا جی کی دو نالی بندوق سے انہوں نے جوابی فائر کیے،جس پر میجر انکل تک بات پہنچی، انہوں نے اس بات کو دبا دینے کا مشورہ دیا، تب کلاشنکوف کا لائسنس بنا ۔
اب ڈیرے پر ڈرائیور اور ایک ملازم کے پاس  پستول ہیں، دو نالی بندوق بھی اِن سروس ہے، دونوں کلاشنکوف چلانے کے ماہر ہیں۔

اب باوا جی نے تھوڑے غصے سے پوچھا کہ اتنا عرصہ یہ سب ان کے علم میں کیوں نہیں  لایا گیا،انہوں نے منشی کو ڈانٹا کہ تم گاؤں آ کے یہ سب بتا سکتے تھے، منشی پھر رونےکو تیار  تھا، اصغر شاہ نے فوری اس کی سائیڈ لی، اور کہا کہ چاچا تو روز ہی کہتا کہ گاؤں سے بندے بلوا لیتے ہیں لیکن میجر انکل نے سختی سے منع کیا تھا۔

ناظر انکل کا بھی مشورہ یہی تھا کہ تاجی شاہ بھی ہمارے علاقے کا ہے، برادری ہے، بات نکلی تو کام بگڑ جائے گا۔مربع  خریدنے کا مشورہ بھی دونوں انکل کا تھا،اسی لئے میں نے آپکی اجازت کے بغیر گاؤں میں وارثان سے بھی رازداری میں سودا کیا تھا ،ان کو میں نے یقین دلا  دیا تھا کہ تاجی شاہ ان کی ساری زمین ہڑپ کر لے گا اور ٹکہ بھی نہیں  دے گا۔
چاچے منشی کو آپ سے بہت ڈر تھا کہ باوا جی کو جب پتہ چلا وہ مجھے مار دیں گے، منشی نے اقرار میں سر ہلایا۔۔اور ادب سے باوا جی کے پاؤں پکڑ لئے۔

اصغر شاہ کو اچانک یاد آیا کہ ابھی تک باوا جی نے صبح کی دوائی  نہیں  کھائی،وہ پھرتی سے اٹھا دوائیوں کا پیک لے کے آیا، باوا جی کو دوائی  دی، اور منشی سے کہا کہ اچھی سی گائے کے  دودھ کی دودھ پتی بنوا کے لائے اور ساتھ باوا جی کے پسندیدہ بسکٹ بھی ہونے چاہئیں۔

باپ اور بیٹے کے باہمی تعلقات میں بیٹے کو یہ فائدہ تو ہمیشہ ہوتا ہے کہ اسے ایک باپ سے ڈیل کرنا ہوتا ہے۔اسے باپ کی طرح دیگر اولاد سے مساوات رکھنے کا تردد نہیں کرنا پڑتا ۔باوا جی جہاں اصغر شاہ کی اتنی چھوٹی عمر میں دنیاداری کی ایسی مہارت سے مسرور تھے وہاں ان کے دماغ میں تینوں بیٹوں میں جائیداد کی برابر تقسیم کی فکر بھی جاگزیں تھی۔
یہ پیچیدہ مرحلہ ہر باپ کو پیش آتا ہے جب اولاد خود مختار ہونے لگتی ہے۔
باوا جی اس سے کیسے نمٹتے ہیں ۔ یہ اگلی قسط میں دیکھیں گے ۔۔۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *