مایوسی سے نجات کیونکر ممکن ہے؟/محمد مبشر نذیر

اگر ہم روزمرہ کے اخبارات کا جائزہ لیں تو ہمیں روزانہ کسی نہ کسی کی خودکشی کی خبر نظر آئے گی۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ دس لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں اور ایک سے دو کروڑ انسان اس کی کوشش کرتے ہیں۔ غریب اور پسماندہ ممالک میں خود کشی کرنے والوں کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ اگر ہم خود کشی کی وجوہات کا جائزہ لیں تو صرف اور صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے جسے ’’مایوسی‘‘ یا Frustration کہا جاتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کا شکار تقریباً ہر انسان ہوتا ہے۔ بعض افراد میں یہ مایوسی اتنی شدت تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے خاتمے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ عام طور پر ان مسائل کے حل کی جو تجاویز دی جاتی ہیں ، وہ اجتماعی سطح پر دی جاتی ہیں جن پر عمل حکومت یا بڑے بڑے ادارے ہی کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس ہماری اس تحریر کا مخاطب وہ لوگ ہوں گے جو کسی نہ کسی قسم کی مایوسی کا شکار ہیں۔ اس تحریر میں ہم یہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ انسانوں میں مایوسی کیوں پیدا ہوتی ہے اور اس کے تدارک کا طریقہ کار کیا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے دین میں ہمیں اس کے متعلق کچھ تعلیمات دی ہیں ؟ ہم کن طریقوں سے اپنے اندر مایوسی کو کم کر سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ خوشیاں سمیٹ سکتے ہیں؟

مایوسی کی تعریف!

علم نفسیات میں مایوسی کو خیبت بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے ممتاز ماہر نفسیات حمیر ہاشمی جن کی تصنیفات امریکہ اور کینیڈا کی یونیوسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں ، مایوسی کی تعریف کچھ اس طرح کرتے ہیں: ’’مایوسی یا خیبت ہم اس احساس کو کہتے ہیں جو ایک شخص اپنی کسی خواہش کی تسکین نہ ہونے کے طور پر محسوس کرتا ہے، مثلاً اگر ایک طالب علم امتحان میں پاس ہونا چاہے لیکن فیل ہو جائے تو وہ خیبت یا مایوسی سے دوچار ہوگا یا اگر کوئی کھلاڑی کھیل کے میدان میں مقابلہ جیتنا چاہے، لیکن ہار جائے تو وہ خیبت کا شکار ہوگا۔‘‘ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ’’اب اگر ہم اس تعریف میں اپنے آپ کا اور اپنے گرد وپیش کے افراد کا جائزہ لیں تو ہم جان لیں گے کہ دنیا کا ہر شخص اپنی زندگی میں مایوسی یا خیبت کا شکار رہا ہے اور جب تک کسی شخص کے سانس میں سانس ہے، وہ خیبت سے دوچار ہوتا رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی تمام خواہشات کی تسکین اس کی مرضی کے عین مطابق ممکن ہی نہیں ہوتی، اس لئے وہ کسی نہ کسی حد تک مایوسی کا شکار رہے گا۔ تاہم کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن میں یہ احساس زیادہ شدید نہیں ہوتا اور کچھ لوگ ایسے ہیں، جن میں یہ احساس شدید حد تک پایا جاتا ہے۔ ‘‘ (حمیر ہاشمی، نفسیات، ص 772-773 )

سادہ الفاظ میں اگر کوئی شخص کسی چیز کی خواہش کرے اورکسی وجہ سے وہ خواہش پوری نہ ہوسکے تو اس کے نتیجے میں اس کے دل ودماغ میں جو تلخ احساس پیدا ہوتا ہے، اسے مایوسی کہتے ہیں۔

مایوسی کی اقسام!

مایوسی بنیادی طور پر دو طرح کی ہوتی ہے، ایک تو وہ جو ہمارے بس سے باہر ہے اور دوسری وہ جو ہمارے اپنے کنٹرول میں ہوتی ہے۔ ناقابل کنٹرول مایوسی کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ زندہ رہے اور بڑا ہو کر اس کی خدمت کرے۔ کسی وجہ سے اس بچے کی موت واقع ہوجائے اور اس شخص کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکے تو یہ ناقابل کنٹرول مایوسی کہلاتی ہے۔ اسی طرح جب ہم فطری حوادث جیسے سیلاب، زلزلہ اور طوفان میں لوگوں کو ہلاک ہوتے دیکھتے ہیں تو اس سے ہمارے دل میں جو غم، دکھ یا مایوسی پیدا ہوتی ہیں وہ ناقابل کنٹرول ہوتی ہے۔

یہ وہ معاملات ہیں جن میں انسان کچھ نہیں کرسکتا ۔ اس قسم کی مایوسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین میں یہ ہدایت دی ہے کہ انسان کو چاہئے کہ ایسے معاملات میں وہ اللہ کی پناہ پکڑے اور صبر اور نما زکی مدد سے اس مایوسی کو کم کرے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلاَّ عَلَى الْخَاشِعِينَ. الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ (البقرۃ 2:45-46) ’’صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ بے شک یہ (اللہ سے) ڈرنے والوں کے علاوہ (دوسرے لوگوں کے لیے )بہت مشکل ہے۔ (اللہ سے ڈرنے والے تو وہ ہیں) جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘

اس آیت میں یہ حقیقت بھی بیان کردی گئی ہے کہ یہ آفات کوئی بڑی چیز نہیں ہیں اس لیے کہ ایک دن سب نے ہی اپنے رب سے ملاقات کرنے کے لیے اس دنیا سے جانا ہے۔ اگر انسان حقیقت پسند ہو اور کائنات کی اس بڑی حقیقت کو قبول کرلے تو پھر اسے صبر آ ہی جاتا ہے اور یوں اس کی مایوسی کے زخم مندمل ہو جاتے ہیں کیونکہ چند روزہ زندگی کے بعد ایک لامحدود زندگی اس کے سامنے ہوتی ہے جہاں نہ کوئی دکھ ہو گا اور نہ کوئی غم۔ اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ آپ نے ہر ایسے معاملے میں اللہ کی پناہ پکڑی ہے اور جب بھی آپ کو کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا تو آپ نے نماز کے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع کر کے ذہنی سکون حاصل کیا اور اس مصیبت پر صبر کیا۔ اس کا احساس ہمیں آپ کی دعاؤں سے ہوتا ہے۔ دوسری قسم کی مایوسی وہ ہوتی ہے جو انسانی وجوہات سے ہوتی ہے اور اگر انسان چاہے تو اسے کم سے کم حد تک لے جا سکتا ہے۔ اس قسم کی مایوسی کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ہم ان میں سے ایک ایک پر بحث کرکے ان کا حل تجویز کرنے کی کوشش کریں گے۔

مایوسی کی وجوہات!

ناممکن خواہشات!

مایوسی کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ ایسی خواہشات کرتے ہیں جن کی تسکین ممکن ہی نہیں ہوتی مثلاً کوئی شخص اگر یہ خواہش کرے کہ اس کی جھولی میں سورج اور چاند آ جائیں اور وہ ان سے کھیلے یا پھر کوئی یہ سوچے کہ وہ گندم کی فصل سے چاول حاصل کرے۔ ظاہر ہے اس قسم کی مضحکہ خیز خواہشات پوری ہو ہی نہیں سکتیں۔

اگر ہم اپنے باطن کا تنقیدی جائزہ لیں تو ہم خود یہ محسوس کریں گے کہ ہم سے ہر ایک اس قسم کی بہت سی خواہشات ضرور رکھتا ہوگا۔ اس قسم کی مایوسی کا علاج صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم اپنی خیالی دنیا میں رہنے کی بجائے حقیقت پسند بنیں اور حقیقت کو کھلے دل سے قبول کرنے والے بنیں۔ ایسے بھائی اور بہنیں ، جو اکثر مایوسی اور ڈپریشن کا شکار رہتے ہوں ، کے لیے ایک مناسب حل یہ ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے کسی پرسکون جگہ پر بیٹھ جائیں اور ایک کاغذ پر اپنی تمام ایسی خواہشات کو لکھیں جو پوری نہ ہوئی ہوں۔ اس کے بعد ان میں سے ان خواہشات پر نشان لگاتے جائیں جو غیر حقیقت پسندانہ ہوں ۔ ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ ہماری خواہشات کی اکثریت ایسی ہے جو غیر حقیقت پسندانہ ہے جنہیں پڑھ کر    کوئی بھی شخص ہم پر ہنسے گا۔ جس شخص کی جتنی زیادہ خواہشات غیر حقیقت پسندانہ ہوں گی وہ اتنا ہی زیادہ مایوس ہوگا۔ کوشش کرکے ان تمام خواہشات سے نجات حاصل کر لیجئے۔ انشاء اللہ آپ خود محسوس کریں گے کہ اس کے بعد آپ کی مایوسی اور ڈپریشن میں واضح کمی ہوگی۔ جو خواہش پوری ہی نہ ہوسکتی ہو، اس کے غم میں گھلتے رہنے سے کیا حاصل؟

خواہشات کی شدت!

مایوسی کی دوسری بڑی وجہ کسی خواہش کی بہت زیادہ شدت ہے۔ جو خواہش جتنی زیادہ شدید ہو گی ، اس کی تسکین اتنی ہی زیادہ خوشی کا باعث بنے گی، لیکن اگر یہ پوری نہ ہوسکے تو پھر مایوسی بھی اتنی ہی زیادہ شدید ہوگی۔ ہمارے لوک قصوں میں ہیر رانجھا، سسی پنوں اور شیریں فرہاد اس کی مثالیں ہیں۔ انہوں نے ایک دوسرے کے حصول کی خواہش کو بہت زیادہ شدید کرلیا ، جب یہ خواہش پوری نہ ہوئی تو وہ اتنے مایوس ہوئے کہ انہوں نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر لیا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ بے چارے ہمارے لے عبرت کا نشان ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے قدیم اور جدید میڈیا نے ان سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں محبت میں ناکامی پر انتہا درجے کی مایوسی اور بالآخر خود کشی کی وبا پھیلتی چلی گئی۔ اس کا شکار زیادہ تر خواتین نظر آتی ہیں کیونکہ ان میں خواہشات کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ہر اس حقیقت پسند کو ، جو مایوسی سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے ، چاہیے کہ اپنی خواہشات میں شدت کو کم سے کم کرے۔ کسی سے محبت کا معاملہ ہو، یا امتحان میں پاس ہونے کا، اچھا کھلاڑی بننے کی خواہش ہو یا بڑا افسر بننے کی، اس حقیقت کو جان لیجئے کہ دنیا میں ہر چیز اور ہر انسان ہمارا پابند نہیں ہے۔ اس لیے اپنی کامیابی اور ناکامی دونوں امکانات کو مدنظر رکھئے۔ جب انسان اپنی ناکامی کے امکان کو بھی مدنظر رکھے گا تو اس کی خواہش کی شدت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

محبت کے معاملے میں یہ جان لیجئے کہ شادی سے پہلے معاملہ محض پسند یا ناپسند تک محدود رہنا چاہیے اور اسے عشق یا محبت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ جب شادی ہو جائے اور بات کنفرم ہو جائے تو پھر اپنے شریک حیات سے دل و جان سے محبت کیجئے۔ جو کوئی بھی اس کا الٹ کرے گا، اسے مایوسی سے دوچار ہونا ہی پڑے گا۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ عشق کیا نہیں جاتابلکہ ہو جاتا ہے، کوئی اچھی چیز نہیں بلکہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جس کا مناسب نفسیاتی علاج ضروری ہے۔انسان کے تمام جذبے اس کے اپنے کنٹرول میں رہیں تو وہ خوش رہتا ہے ورنہ مایوسیاں اور پریشانیاں اس کا مقدر بنتی ہیں۔

دوسروں سے بے جا توقعات وابستہ کرنا!

مایوسی کی ایک بڑی وجہ دوسروں سے بے جا توقعات وابستہ کرنا ہے۔ ہم لوگ اپنے دوستوں، رشتہ داروں ، عزیزوں ، منتخب نمائندوں اور حکومت سے بڑی بڑی توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ مثلاً ہمارا خیال ہوتا ہے کہ جیسے ہی ہم اظہار محبت کریں تو محبوب فوراً ہمارے قدموں میں سر رکھ دے۔ جب ہم پر کوئی آفت آئے تو ہمارا دوست بھی اس مصیبت کو اپنے سر پر لے لے۔ اگر ہمیں رقم کی ضرورت ہو تو تمام رشتے دار اور ملنے والے اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر ہماری ضرورت کو پورا کریں۔ اگر ہماری کسی سے لڑائی ہو جائے تو ہر دوست ہماری طرف سے مردانہ وار لڑے۔ منتخب نمائندے اور حکومت ہماری غربت کو ختم کردے۔ ہمارے کام کرنے کی جگہ ایسی ہو جہاں تنخواہ تو اچھی ملے لیکن کام زیادہ نہ کرنا پڑے۔ وغیرہ وغیرہ۔

ہر شخص کے حالات ایسے نہیں ہوتے کہ وہ ہماری ان توقعات پر پورا اتر سکے۔ اگرچہ بعض لوگ تو جان بوجھ کر کسی کے کام نہیں آنا چاہتے لیکن زیادہ تر دوست اور رشتے دار اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے ہماری مدد نہیں کرسکتے۔ محبت کا معاملہ اس سے بھی مختلف ہے۔ اگر مجھے جس سے محبت ہے وہ بھی ایک آزاد انسان ہے۔ میری طرح اسے بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو بھی پسند کرلے۔ اسے بہت سی نفسیاتی و سماجی مجبوریاں بھی لاحق ہوسکتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ اگر وہ مجھے پسند ہے تو میں بھی اسے پسند آؤں۔ بالعموم محبت کرنے والے تو بہت ہی بڑے بڑے ہوائی قلعے تعمیر کرتے ہیں اور جب حقیقی دنیا میں ان قلعوں کے بکھرتے دیکھتے ہیں تو مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ا س طرح کے معاملات میں ہر انسان کو چاہئے کہ وہ دوسروں سے بالکل کوئی توقع وابستہ نہ کرے اور ہر کام کو اپنے زور بازو سے کرنے کی کوشش کرے۔ حقیقی زندگی میں اسے دوسروں سے کچھ نہ کچھ مدد تومل ہی جائے گی۔ جب ایسا توقع کے بالکل خلاف ہو گا تو یہ امر اس کے لیے مایوسی نہیں بلکہ خوشی کا پیغام لائے گا۔

منفی ذہنیت!

بعض لوگ منفی ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر زندگی میں انہیں چند ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑے تو وہ اسے پوری زندگی کا روگ بنا لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی زندگی کا واحد مقصد اپنی مایوسی کو دوسروں تک منتقل کرنا ہی رہ جاتا ہے۔ یہ جب کسی محفل میں بیٹھتے ہیں تو مایوسی ہی کی بات کرتے ہیں، کسی کو خوش دیکھتے ہیں تو اسے اداس کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہر چیز کے منفی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں اور ایک مفکر کی دی گئی مثال کے مطابق مکھی کی طرح جسم کے اسی حصے پر بیٹھتے ہیں جو گلا سڑا ہو اور اس میں پیپ پڑی ہوئی ہو۔ اگر اپنی خوش قسمتی اور دوسروں کی بدقسمتی سے یہ شاعر، ادیب، کالم نگار، صحافی، ڈرامہ نگار، مصور، موسیقار، گلوکار یا اداکار بن جائیں تو اپنی اس مایوسی کو پورے معاشرے میں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر انہیں کسی فن میں نقاد کی حیثیت حاصل ہو جائے تو پھر مایوسی پیدا کرنے والی ہر تحریر، ہر نظم، ہر نغمے، ہر تصویر اور ہر ڈرامے کو شاہکار اور شہ پارے کا درجہ بھی مل جاتا ہے۔ جو لوگ بھی ان سے متاثر ہوتے ہیں، ان کی زندگی پھر غم اور مایوسی کی تصویر بن جاتی ہے۔ جو کوئی بھی مایوسی ہی کو اپنا مقصد حیات بنانا چاہے اس کا تو کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا لیکن جو اس مایوسی سے نجات حاصل کرنا چاہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے مکمل طور پر اجتناب کرے۔ اگر انہیں دور سے آتا دیکھے تو فوراً راستہ بدل لے۔ اگر کسی محفل میں انہیں بیٹھا دیکھ لے تو اس میں جانے ہی سے گریز کرے۔ اگر وہ گھر آ جائیں تو انہیں مایوسی پھیلانے والے موضوعات پر بات کرنے سے روکنے کے لیے کوئی اور موضوع چھیڑ کر ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرے۔ ان کی تحریروں، نظموں، نغموں اور ڈراموں کا مکمل بائیکاٹ کرے۔ اگر آپ تھوڑا سا غور کریں تو اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے معاشرے میں سے ایسے لوگوں کو باآسانی بلیک لسٹ کر سکتے ہیں۔

فکری جمود اور فکر و عمل میں تضاد!

مایوسی کی شاید سب سے بڑی وجہ ہماری سوچ میں جمود (Rigidity) اور ہماری فکر اور عمل میں تضاد ہے۔ سوچ میں جمود اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان تجربے اور مشاہدے کے روشنی میں اپنے فکر و عمل کا تنقیدی جائزہ لینے زحمت نہ کرے۔ وہ اپنی ہر سوچ اور عمل کو درست سمجھے اور دوسروں کو غلط سمجھے ۔ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ان کا الزام دوسروں کو دے اور اپنی ڈگر پر چلتا رہے۔

اس کی عام مثال یہ ہے کہ ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ کرکٹ کا بہت بڑا کھلاڑی بن جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ کوئی زیادہ محنت نہ کرتا اور نہ ہی کرکٹ کی کوئی زیادہ پریکٹس کرتا ہے۔ وہ قومی ٹیم میں خود کو شامل نہ کیے جانے کا الزام خود کو دینے کی بجائے سلیکٹرز اور نظام ہی کو دیتا رہتا ہے۔ اسے اپنی خامیوں کا کوئی احساس نہیں ہوتا بلکہ وہ دوسروں ہی کو مورد الزام ٹھہراتا رہتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس طرح کے معاملات میں بسا اوقات دوسرے بھی جانبداری اور تعصب سے کام لیتے ہیں لیکن اگر انسان اپنے رویے میں لچک پیدا کرے اور فکر اور عمل کے تضاد کو دور کرتے ہوئے محنت کرے اور اپنی خامیوں کو دور کرے تو کچھ عرصے کی ناکامیوں کے بعد وہ کامیابی حاصل کر ہی لیتا ہے۔

اگر ذرا غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو گی کہ یہ مایوسی صرف ہماری ذات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بحیثیت ایک قوم کے ہم اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے قومی زوال کی وجہ صرف اور صرف بیرونی ممالک کی سازشیں ہیں۔ اگر میدان جنگ میں ہمیں شکست ہوتی ہے تو اس کا الزام ہم براہ راست دشمن کی سازش اور اندرونی غداروں پر ڈال دیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ وہ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہ غدار صرف ہماری طرف ہی پیدا ہوتے ہیں اور ہمارے دشمن کے ہاں کوئی غدار کیوں جنم نہیں لیتا؟ ہماری افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی دشمنوں کے خلاف سازشیں کرتی ہیں لیکن کامیاب صرف ان دشمنوں ہی کی سازشیں کیوں ہوتی ہیں اور ہمارے منصوبے اور چالیں خاک میں کیوں مل جاتے ہیں؟ ہمارا ہر حملہ ناکام اور ان کا ہر حملہ کامیاب ہی کیوں ہوتا ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہو کر بھی دنیا میں مغلوب ہیں اور ہمارا دشمن انہیں نہ مان کر بھی فاتح ہے؟

یہ مایوسی اس حقیقت کو نہ جاننے کی وجہ سے ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اس کائنات کا نظام کو چند سائنسی قوانین کے ذریعے چلا رہا ہے اسی طرح اس نے قوموں کے عروج و زوال کے بھی کچھ قوانین بنائے ہیں۔ جو حضرات اس موضوع سے دلچسپی رکھتے ہوں ان کے لیے محترم دوست ریحان احمد یوسفی کی کتاب ’’قوموں کے عروج و زوال کا قانون اور پاکستان‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہو گا۔ میں یہاں صرف اتنا عرض کردوں کہ اللہ تعالیٰ صرف اسی قوم کو اس دنیا میں عروج عطا کرتا ہے جو دوسری قوموں کی نسبت اخلاقی اعتبار سے بہتر ہو؛ جو اپنے دور کے علوم ، سائنس اور ٹیکنالوجی میں اپنی معاصر اقوام پر برتری رکھتی ہو؛ جس میں دوسری اقوام کی نسبت بہترتنظیم پائی جاتی ہو ؛ اور جو اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا جانتی ہو۔ تاریخ میں اس اصول سے استثنا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کے ساتھیوں کو حاصل ہوتا رہا ہے جن کو غالب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ غیب سے مدد فرماتا رہا۔ختم نبوت و رسالت کے بعد یہ مدد آ بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ہر معاملے میں ہم جو مرضی آئے غلطیاں کرتے پھریں اور اللہ تعالیٰ ہماری مدد کے لیے فرشتے نازل کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ سے بے جا امیدیں اور توقعات وابستہ کرکے اس کا امتحان لینے والے ہمیشہ ناکام ہی رہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اپنی معاصر اقوام کی نسبت اخلاقی اعتبار سے بھی کمزور ہیں، علمی اعتبار سے ہمارا شمار جاہل ترین اقوام میں ہوتا ہے ، دوسری اقوام کی تنظیم (Organization) کے مقابلے میں ہمیں ایک منتشر ہجوم (Crowd) ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور وسائل کا استعمال شاید ہم ہی سب سے زیادہ برے طریقے سے کرتے ہیں۔ ان سب کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قوموں کے درمیان جب مقابلہ ہو تو ہم ہی غالب ہوں اور دنیا پر ہمارا ہی جھنڈا لہرائے۔ ہماری دعاؤں کے نتیجے میں دشمن کے میزائلوں، بموں اور توپوں میں کیڑے پڑ جائیں۔ ہم پتھر بھی ماریں تو وہ ان پر ایٹم بم بن کر گرے اور وہ ہمیں ہائیڈروجن بم بھی مار دیں تو وہ ہمیں پھول کی طرح لگے۔ یہ ہوائی قلعے ذہنوں کو بڑے اچھے لگتے ہیں لیکن جب ہمیں کوئی تلخ حقیقتوں سے آشنا کرنا چاہے تو ہم اسے رجعت پسند، دشمن کا ایجنٹ، ففتھ کالمسٹ اور نہ جانے کیا کیا خطابات دے ڈالتے ہیں۔حقیقی دنیا میں جب معاملہ ہمارے ان تصوراتی (Fantastic) خیالات کے برعکس پیش آتا ہے تو ہم ایک قومی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اگر ہم دوسروں کی سازشوں کا رونا رونے اور انہیں طعنے اور کوسنے دینے کی بجائے اپنے اخلاق اور علم کو بہتر بنانے کی کوشش کر لیتے تو اقوام عالم میں ہمارا مقام پہلے سے بہت بہتر ہوتا اور ہم ہر سازش کا مقابلہ بھی با آسانی کرلیتے۔ اس ضمن میں جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے نوازا ہے۔ اس کی واضح مثال پاکستان کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کی عملی، علمی، معاشی اوراخلاقی اعتبار سے قرآن کے آئیڈیل کے مطابق تو نہیں لیکن 1930 کے مسلمانوں کی نسبت ان کی حالت بہرحال بہت بہترہے۔

معاشی وجوہات!

مایوسی کی یہ وجوہات جو ہم نے اوپر بیان کیں زیادہ تر ایسی تھیں جن پر اگر انسان چاہے تو اپنے ذہن اور کردار میں مناسب تبدیلیاں کرکے قابو پاسکتا ہے۔ ان سب کے علاوہ ہمارے معاشرے میں مایوسی کی ایک او رقسم پھیلی ہوئی ہے جو سب سے زیادہ شدید ہے اور اس کے اثرات اتنے واضح ہیں کہ انہیں ہر شخص محسوس کر سکتا ہے۔ یہ ذرائع معاش کی کمی اور بے روزگاری سے پیدا ہونے والی مایوسی ہے۔ ملک بھر میں زیادہ تر خود کشیوں کی بنیاد یہی مایوسی ہے۔

چونکہ ہمارے معاشروں میں معاش کی ذمہ داری بالعموم مرد ہی سنبھالتا ہے اس لیے اس قسم کی مایوسی کا شکار زیادہ تر مرد حضرات ہی ہیں اور خود کشی بھی زیادہ یہی کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو یہ پورے خاندان سمیت خود کشی کر لیتے ہیں۔ ہمارے مفکرین اور دانش ور اس مایوسی کے خاتمے کے لیے جو تجاویز پیش کرتے ہیں، ان پر عمل درآمد حکومت ہی کرسکتی ہے۔ ہم اس تحریر میں ان لوگوں کے لیے چند تجاویز پیش کر رہے ہیں جو اس قسم کی مایوسی کا شکار ہیں۔

اگر ہم بے روزگاروں اور اس کی بنیاد پر خود کشی کرنے والوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو چند حیرت انگیز نتائج ہمیں معلوم ہوتے ہیں۔ معاشی مسئلے کی وجہ سے پر خود کشی کرنے والوں میں بلا تفریق مذہب چند کمیونیٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ان کمیونیٹیز میں قبائلی پٹھان، میمن برادری، بوہری برادری ، اسماعیلی برادری ، قادیانی مذہب اور پارسی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔راقم الحروف نے ان کمیونیٹیز سے تعلق رکھنے والے چند افراد سے مل کر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ ان میں خود کشی کرنے کی شرح اتنی کم کیوں ہے؟ اس سلسلے میں مجھے جو معلومات مل سکیں وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔

میمن برادری زیادہ تر پاکستان اور ہندوستان کے مغربی ساحلی شہروں میں آباد ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر کاروبار سے منسلک ہوتے ہیں جو بالعموم ان کے آباؤ اجداد کے زمانے سے ہی مالی طور پر مستحکم ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے اس برادری کے زیادہ تر افراد کو کوئی معاشی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ ان کی ایک بہت ہی قلیل تعداد کو اگر کسی وجہ سے معاشی مسائل کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے تب ان کے اپنے رشتے دار ہی ان کی مدد کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ رشتے داروں کے علاوہ ان کے بہت سے کمیونٹی سنٹر اور جماعت خانے بھی ہوتے ہیں جہاں فلاحی مراکز قائم کئے جاتے ہیں۔ ان مراکز میں اپنی برادری کے علاوہ دوسرے انسانوں کو بھی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے ان کے ہاں ایسے لوگ شاید بالکل ہی نہیں پائے جاتے جو معاشی مسئلے کی وجہ سے خود کشی پر مجبور ہو جائیں۔

بوہری برادری کے ہاں بھی اسی سے ملتا جلتا نظام پایا جاتا ہے۔ اسماعیلی برادری کا نظام کچھ مختلف ہے۔ ان کے ہاں ہر شخص کو اپنی آمدن کا کچھ حصہ اپنے امام ، آغا خان کے پاس جمع کروانا پڑتا ہے۔ پاکستان کے اسماعیلیوں کی زیادہ تر تعداد شمالی علاقوں گلگت، ہنزہ وغیرہ میں آباد ہے۔ اس کے علاوہ ان کی بڑی تعداد کراچی شہر میں بھی رہتی ہے۔ کراچی میں رہنے والے زیادہ تر کاروبار یا اعلیٰ ملازمتوں سے متعلق ہیں۔ ان لوگوں کو کوئی بڑا معاشی مسئلہ درپیش نہیں۔ جماعتی سطح پر شمالی علاقوں میں انہوں نے بہت سے ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہوئے ہیں جن سے وہاں کے لوگوں کے مسائل کو حل بھی کیاجاتا ہے اور انہیں روایتی ٹور ازم انڈسٹری کے علاوہ روزگار بھی فراہم کیا جاتاہے ۔ اس کا اندازہ شمالی علاقوں کے دیہات میں جا کر ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں جو نوجوان تعلیم حاصل کر لیتے ہیں، انہیں کراچی میں لا کر سیٹل کر دیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں برادری کا ہر شخص اپنا مذہبی فرض سمجھ کر کوشش کرتا ہے۔ قادیانی حضرات کے ہاں بھی اس طرز کا نظام رائج ہے اور وہ اس نظام کی مدد سے اپنے مذہب کی تبلیغ اور فروغ کے لئے بھی بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں۔

پاکستان کے عام مسلمانوں میں اس طرز کی کوششوں کی بہت کم مثالیں مل سکتی ہیں۔ اس کی ایک مثال لاہور کے اندرون شہر اور شمالی لاہور ہیں جہاں کسی حد تک اس طرز کی اجتماعی خدمات انجام دی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں شہر کے ان علاقوں میں غربت اور مالی مسائل کی وجہ سے خود کشی کرنے کی شرح شہر کے دوسرے علاقوں کی نسبت بہت کم ہے۔

یہ سب طریق ہائے کار ایسے ہیں جو ایک پوری برادری یا کمیونٹی کی مدد سے ہی چل سکتے ہیں۔ اگر کوئی کمیونٹی اس طرز کا نظام اپنے ہاں رائج کر لے تو غربت ، مہنگائی اور دوسرے معاشی مسائل کے اس جن کو اپنی حد تک قابوکر سکتی ہے۔ اس نظام کو قائم کرنے کے لئے ان کمیونیٹیز کے نظاموں کا تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی شخص کو ایسی کمیونٹی میسر نہ ہو تو اس کے لیے بہترین مثال صوبہ سرحد اور بلوچستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان پٹھانوں کی ہے جو بڑے شہروں بالخصوص کراچی میں آباد ہیں۔

ہماری معلومات کے مطابق ان کے ہاں میمن برادری کی طرح کوئی بڑا اجتماعی نظام تو قائم نہیں ہے لیکن ان لوگوں نے اپنے سادہ طرز زندگی اور چھوٹے چھوٹے گروپس کی مدد سے جس طرح ان مسائل پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے، اس کی کوئی اور مثال کسی پاکستانی کمیونٹی میں نہیں ملتی۔ شاید پاکستان سے باہر کسی اور ملک میں رہنے والے پاکستانی اس طریقے سے اپنے مسائل پر قابو پاتے ہوں۔

قبائلی علاقوں میں معاش اور روزگار کے مواقع نسبتاً کم ہیں۔ بعض علاقوں میں کسی حد تک زراعت اور کہیں کہیں گھریلوصنعت ہی ذریعہ معاش ہے۔ چند لوگ تجارت کرتے ہیں جس میں بالعموم بڑے شہروں سے مختلف چیزیں لا کر اپنے علاقوں میں فروخت کرتے ہیں۔ ان کے بہت سے نوجوان روزگار کی تلاش میں پاکستان کے تمام بڑے شہروں بالخصوص کراچی میں آتے ہیں ۔ جب بھی کوئی نوجوان کراچی میں آتا ہے تو اسے اپنے رشتے داروں ، قبیلے کے دوسرے افراد اور دوستوں کا ایک مستحکم نیٹ ورک پخیر راغلے کہتا ہے۔ اس کے یہ ساتھی بالعموم کوئی بہت امیر نہیں ہوتے ۔ ان کا ذریعہ معاش بھی محض محنت مزدوری، چائے کے ہوٹلوں میں کام، بنگلوں میں چوکیداری ، بسوں میں ڈرائیوری یا کنڈیکٹری ، ٹیکسی یا رکشہ چلانا یا پھر ٹھیلوں وغیرہ پر ہونے والا کام ہوتا ہے۔ یہ لوگ محنت کا کوئی بھی کام کرنے میں بالکل شرم محسوس نہیں کرتے۔نئے آنے والے ساتھی کے لئے انہوں نے کسی نہ کسی روزگار کا بندوبست کر رکھاہوتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ کچھ نہ کچھ کما ہی لیتے ہیں۔ ان میں سے کسی کی آمدنی بالعموم چار پانچ ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن اپنے سادہ طرز زندگی کی وجہ سے ان کے اخراجات بہت کم ہوتے ہیں۔ اس رقم میں سے یہ خود پر ہزار بارہ سو روپے خرچ کرکے باقی رقم اپنے گھر میں بھیج دیتے ہیں ۔ ان کی خواتین بھی انہی کی طرح محنتی اور جفاکش ہوتی ہیں۔ وہ بھی اپنے گھر میں کوئی نہ کوئی کام کرکے تھوڑی بہت رقم کما رہی ہوتی ہیں۔ ہر گھرانہ اپنی کل آمدنی کو خرچ نہیں کرتا بلکہ اس میں سے بھی کچھ نہ کچھ بچا لیتا ہے۔ کچھ رقم جمع کرکے کچھ عرصے بعد یہ لوگ زمین یا کوئی جائیداد بھی خریدلیتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو کوئی حادثہ پیش آجائے یا پھر وہ بیمار ہوجائے تو اس کا پورا گروپ اپنی آمدنی میں سے تھوڑی تھوڑی رقم جمع کرکے ایک معقول رقم اسے مہیا کردیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ باری باری کچھ عرصے بعد دو دو تین تین ماہ کے لیے اپنے گھر بھی چلے جاتے ہیں اور اس دوران اس کے دوسرے ساتھی اس کے کام کی دیکھ بھال بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ اسی نظام کی برکات ہیں کہ ان لوگوں میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد بہت کم ملتی ہے اور مالی مسائل کی وجہ سے خود کشی کرنے والوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایسے لوگ جو غربت اور مالی مسائل کا شکار ہوں ، وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے محض چند افراد کا گروپ بناکر اپنے مالی مسائل کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں۔ مثلاً ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک جگہ کام کرنے والے چند مزدور، یا پھر ایک دفتر میں کام کرنے والے افراد مل کر یہ طے کریں کہ ایک دوسرے کے مالی مسائل کو کم کرنے میں وہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ ایک مزدور کی ماہانہ آمدنی تین ساڑھے تین ہزار کے قریب ہوتی ہے۔ اگر دس مزدور مل کر یہ طے کر لیں کہ وہ روزانہ صرف پانچ روپے اپنے کسی قابل اعتماد ساتھی کے پاس جمع کروائیں گے تو ایک مہینے میں یہ لوگ باآسانی پندرہ سوروپے اور چھ ماہ میں نو ہزار روپے کی رقم جمع کر سکتے ہیں۔ ان میں سے کسی کو اگر کسی دن مزدوری نہ ملے یا وہ بیمار ہو جائے یا پھر اسے کوئی اور مسئلہ درپیش ہو تو اس اجتماعی فنڈ سے ممکن حد تک اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اس طرح یہ لوگ معمولی سی رقم ادا کرکے اپنے مسائل کو کسی حد تک کم کرسکتے ہیں۔ اس معاملے میں ضرورت صرف قابل اعتماد ساتھیوں کی ہے۔ مغربی ممالک میں اسی نظام کو بہت وسیع پیمانے پر پھیلا کر Employment Insurance کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ اس میں ہر شخص کو اپنی آمدنی کا ایک معمولی سا حصہ مثلاً 0.5% فنڈ میں جمع کروانا لازم ہوتا ہے۔ ان فنڈز کا انتظام فیڈرل یا سٹیٹ گورنمنٹ کرتی ہے۔ جب بھی کوئی بے روزگار ہوتا ہے تو اسے اسی فنڈ سے اتنی رقم ادا کر دی جاتی ہے جو اس کی کم از کم بنیادی ضروریات کو پورا کرسکے۔

شہری علاقوں میں رہنے والے ہمارے عام پاکستانی بھائیوں کے مالی مسائل کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر شخص دفتر میں بیٹھ کر آرام و سکون سے کام کرنا ہی پسند کرتا ہے۔ تعلیم کو صرف اور صرف روزگار کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ شروع ہی سے ہر بچے کے ذہن میں یہ بٹھایا جاتا ہے کہ اسے بڑا ہوکر افسر ہی بننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے عام پڑھے لکھے نوجوان محنت کے کاموں سے جی چراتے ہیں اور بس افسری ہی کا خواب سجاتے ہیں۔ اہل مغرب کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان کے ہاں کسی پیشے کو حقیر نہیں سمجھا جاتا۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طالب علم عام طور پر تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی پیٹرول پمپ پر کام کرنے، گاڑیاں دھونے، ہوٹلوں میں برتن دھونے یا اخبار بیچنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس طرح وہ باآسانی اتنی رقم کما لیتے ہیں جو ان کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے کافی ہو۔ ہر شخص ائر کنڈیشنڈ دفتر ، بنگلہ ، گاڑی اور خوبصورت سیکرٹری کے خواب نہیں سجاتا۔

اگر ہم اپنے رویے کو اس حد تک ہی تبدیل کرنے کے لیے تیار ہوں کہ کسی کام کو حقیر نہ سمجھیں اور جو کام بھی ملے اسے کرنے پر تیار ہوں تو کافی حد تک بے روزگاری کے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھی جب تک ان کی پسند کی جاب نہ ملے ، اور وہ جی کڑا کرکے اور طعنے دینے والوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کوئی نہ کوئی چھوٹا موٹا پارٹ ٹائم کام کرکے اپنے ذاتی اخراجات ہی پورے کر لیں تو یہ بے روزگاررہ کر ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہونے سے بہتر ہے کیونکہ under-employment بہرحال unemployment سے تو بہتر ہے۔

گناہوں میں مبتلا ہونا!

مایوسی کی ایک اور قسم ان لوگوں میں پیدا ہوتی ہے جو بہت سے گناہ کرلیتے ہیں اور پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ اتنے گناہ گار ہوگئے ہیں کہ ان کی بخشش ممکن نہیں۔ یہ طرز فکر بالکل غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے آپ کے لیے موت کے وقت تک کھلے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے یہ اعلان کر دیا ہے : قُلْ يَا عِبَادِي الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً۔ اے نبی آپ میری طرف سے فرما دیجئے کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔‘

اس تحریر میں ہم نے مایوسی کے خاتمے کی جو تجاویز پیش کی ہیں، ان کو یہاں مختصراً بیان کیا جارہا ہے اور اس کے ساتھ کچھ نئی تجاویز بھی پیش کی جارہی ہیں۔ جو بھائی یا بہنیں مایوسی اور ڈپریشن کا شکارہوں، ان سے گذارش ہے کہ وہ تحریر کے اس حصے کو اپنے سامنے والی دیوار پر چسپاں کرلیں یا پھر اپنے پرس میں رکھ لیں اور جب بھی مایوسی حملہ آور ہو تو محض ان تجاویز کو ایک نظر دیکھ ہی لیںتو انہیں مایوسی سے نجات کا کوئی نہ کوئی طریقہ سمجھ میں آ ہی جائے گا۔

سب سے پہلے یہ طے کر لیجئے کہ آپ مایوسی اور ڈپریشن سے ہر قیمت پر نکلنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔
اپنی خواہشات کا جائزہ لیجئے اور ان میں سے جو بھی غیر حقیقت پسندانہ خواہش ہو، اسے ذہن سے نکال دیجئے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پرسکون ہو کر خود کو suggestion دیجئے کہ یہ خواہش کتنی احمقانہ ہے۔ اپنی سوچ میں ایسی خواہشات کا خود ہی مذاق اڑائیے۔اس طرح ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر اک خواہش پہ دم نکلے کو غلط ثابت کیجئے۔
اپنی خواہشات کی شدت کو کنٹرول کیجئے۔ اپنی شدت کی ایک controllable limit مقرر کر لیجئے۔ جیسے ہی یہ محسوس ہو کہ کوئی خواہش شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور اس حد سے گزرنے والی ہے ، فوراً الرٹ ہو جائیے اور اس شدت کو کم کرنے کے اقدامات کیجئے۔ اس کا طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس خواہش کی معقولیت پر غور کیجئے اور اس کے پورا نہ ہو سکنے کے نقصانات کا اندازہ لگائیے۔ خواہش پورا نہ ہونے کی provision ذہن میں رکھئے اور اس صورت میں متبادل لائحہ عمل پر غور کیجئے۔ اس طرح کی سوچ خواہش کی شدت کو خود بخود کم کردے گی۔ آپ بہت سی خواہشات کے بارے میں یہ محسوس کریں گے کہ اگر یہ پوری نہ بھی ہوئی تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ یہ بھی خیال رہے کہ خواہش کی شدت اتنی کم بھی نہ ہوجائے کہ آپ کی قوت عمل ہی جاتی رہے۔ خواہش کا ایک مناسب حد تک شدید ہونا ہی انسان کو عمل پر متحرک کرتا ہے۔

دوسروں سے زیادہ توقعات وابستہ مت کیجئے۔ یہ فرض کر لیجئے کہ دوسرا آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ اس مفروضے کو ذہن میں رکھتے ہوئے دوسروں سے اپنی خواہش کا اظہار کیجئے۔ اگر اس نے تھوڑی سی مدد بھی کردی تو آپ کو ڈپریشن کی بجائے خوشی ملے گی۔ بڑی بڑی توقعات رکھنے سے انسان کو سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور دوسرے نے کچھ قربانی دے کر آپ کے لیے جو کچھ کیا ہوتا ہے وہ بھی ضائع جاتا ہے۔مایوسی پھیلانے والے افراد ، کہانیوں، ڈراموں، کتابوں ، خبروں ، نظموں اور نغموں سے مکمل طور پر اجتناب کیجئے اور ہمیشہ امنگ پیدا کرنے والے افراد اور ان کی تخلیقات ہی کو قابل اعتنا سمجھئے۔ اگر آپ مایوسی اور ڈپریشن کے مریض نہیں بھی ہیں ، تب بھی ایسی چیزوں سے بچئے۔ اس بات کا خیال بھی رکھئے کہ امنگ پیدا کرنے والے افراد اور چیزوں کے زیر اثر کہیں کسی سے بہت زیادہ توقعات بھی وابستہ نہ کرلیں ورنہ یہی مایوسی بعد میں زیادہ شدت سے حملہ آور ہوگی۔

گندگی پھیلانے والی مکھی ہمیشہ گندی چیزوں کا ہی انتخاب کرتی ہے۔ اس کی طرح ہمیشہ دوسروں کی خامیوں اور کمزوریوں پر نظر نہ رکھئے ۔ اس کے برعکس شہد کی مکھی ، جو پھولوں ہی پر بیٹھتی ہے کی طرح دوسروں کی خوبیوں اور اچھائیوں کو اپنی سوچ میں زیادہ جگہ دیجئے۔ ان دوسروں میں خاص طور پر وہ لوگ ہونے چاہئیں جو آپ کے زیادہ قریب ہیں۔
اپنی خواہش اور عمل میں تضاد کو دور کیجئے۔ اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر دھرنے کی بجائے اپنی کمزوریوں پر زیادہ سوچئے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کیجئے۔ ہر معاملے میں دوسروں کی سازش تلاش کرنے سے اجتناب کیجئے اور بدگمانی سے بچئے۔ یہ طرز فکر آپ میں جینے کی امنگ اور مثبت طرز فکر پیدا کرے گا۔ اس ضمن میں سورۃ الحجرات کا بار بار مطالعہ بہت مفید ہے۔اگر آپ بے روزگاری اور غربت کے مسائل کے حل کے لئے کوئی بڑا سیٹ اپ تشکیل دے سکتے ہوں تو ضرور کیجئے ورنہ اپنے رشتے داروں اور دوستوں کی حد تک کوئی چھوٹا موٹا گروپ بنا کر اپنے مسائل کو کم کرنے کی کوشش کیجئے۔ اس ضمن میں حکومت یا کسی بڑے ادارے کے اقدامات کا انتظار نہ کیجئے۔ اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آپ کی مایوسی انشاء اللہ شکرکے احساس میں بدل جائے گی۔

خوشی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا سیکھئے اور بڑے سے بڑے غم کا سامنا مردانہ وار کرنے کی عادت ڈالئے۔ اپنے حلقہ احباب میں زیادہ تر خوش مزاج لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے اور سڑیل سے لوگوں سے پرہیز کیجئے۔اگر کوئی چیز آپ کو مسلسل پریشان کر رہی ہواور اس مسئلے کو حل کرنا آپ کے بس میں نہ ہو تو اس سے دور ہونے کی کوشش کیجئے۔ مثلاً اگر آپ کے دوست آپ کو پریشان کر رہے ہوں تو ان سے چھٹکارا حاصل کیجئے۔ اگر آپ کی جاب آپ کے لیے مسائل کا باعث بنی ہو تو دوسری جاب کی تلاش جاری رکھئے۔ اگر آپ کے شہر میں آپ کے لئے زمین تنگ ہوگئی ہے تو کسی دوسرے شہر کا قصد کیجئے۔اگر آپ کو کسی بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑے اور آپ کے لئے اس سے جسمانی فرار بھی ممکن نہ ہو تو ایک خاص حد تک ذہنی فرار بھی تکلیف کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔ اس کو علم نفسیات کی اصطلاح میں بیدار خوابی (Day Dreaming) کہا جاتا ہے۔ اس میں انسان خیالی پلاؤ پکاتا ہے اور خود کو خیال ہی خیال میں اپنی مرضی کے ماحول میں موجود پاتا ہے جہاں وہ اپنی ہر خواہش کی تکمیل کر رہا ہوتا ہے۔ جیل میں بہت سے قیدی اسی طریقے سے اپنی آزادی کی خواہش کو پورا کرتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق ہر شخص کسی نہ کسی حد تک بیدار خوابی کرتا ہے اور اس کے ذریعے اپنے مسائل کی شدت کو کم کرتا ہے۔

مثلاً موجودہ دور میں جو لوگ معاشرے کی خرابیوں پر بہت زیادہ جلتے کڑھتے ہیں، وہ خود کو کسی آئیڈیل معاشرے میں موجود پا کر اپنی مایوسی کے احساس کو کم کرسکتے ہیں۔ اسی طرز پر افلاطون نے یو ٹوپیا کا تصور ایجاد کیا۔ اس ضمن میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ بیدار خوابی اگر بہت زیادہ شدت اختیار کر جائے تو یہ بہت سے نفسیاتی اور معاشرتی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ شیخ چلی بھی اسی طرز کا ایک کردار تھا جو بہت زیادہ خیالی پلاؤ پکایا کرتا تھا۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس طریقے کو مناسب حد تک ہی استعمال کیا جائے۔آپ کو جو بھی مصیبت پہنچی ہو، اس کے بارے میں یہ جان لیجئے کہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرکے آپ کو کسی طرح بھی اس مصیبت سے نجات نہیں ملے گی بلکہ مشہور حدیث کے مطابق موت کے بعد وہی حالات خود کشی کرنے والے پر مسلط کئے جائیں گے اور وہ بار بار خود کو ہلاک کرکے اسی تکلیف سے گزرے گا۔ اس سزا کی طوالت کا انحصار اس کے قصور کی نوعیت اور شدت پر ہوگا۔ ہمارے یہاں خود کشی کرنے والے صرف ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ایساکرتے ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جن مصیبتوں سے بچنے کے لئے وہ ایسا کرتے ہیں، اس سے بڑی مصیبتیں ان کی منتظر ہوتی ہیں۔ آپ نے ایسا بہت کم دیکھا ہو گا کہ مصائب سے تنگ آ کر کسی دین دار شخص نے خود کشی کی ہو کیونکہ اسے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ مصیبت کا کیا ہے، آج ہے کل ٹل جائے گی اور درحقیقت ایسا ہی ہوتا ہے۔

ان تمام طریقوں سے بڑھ کر سب سے زیادہ اہم رویہ جو ہمیں اختیار کرنا چاہئے وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکل اور قناعت ہے۔ توکل کا یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہا جائے۔ اس کا انتہائی معیار یہ ہے کہ انسان کسی بھی مصیبت پر دکھی نہ ہو بلکہ جو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو ، اسے دل و جان سے قبول کرلے۔ ظاہر ہے عملاً اس معیار کو اپنانا ناممکن ہے۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ اس کے جتنا بھی قریب ہو سکتا ہو، ہو جائے۔ قناعت کا معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنا عطا کر دیا ہے ، اسی پر خوش رہا جائے۔ اس سے زیادہ کی کوشش اگر چہ انسان ضرورکرتا رہے لیکن جو بھی اسے مل جائے اسے اپنے رب کی اعلیٰ ترین نعمت سمجھتے ہوئے خوش رہے اور جو اسے نہیں ملا ، اس پر غمگین نہ ہو۔ وہ آدھے گلاس میں پانی دیکھ کر شکر کرے کہ آدھا گلاس پانی تو ہے، اس غم میں نہ گھلتا رہے کہ باقی آدھا خالی کیوں ہے؟ اگر ہم ہمیشہ دنیا میں اپنے سے اوپر والوں کو دیکھنے کی بجائے خود سے نیچے والوں کو ہی دیکھتے رہیں تو ہماری بہت سی پریشانیاں ختم ہو جائیں۔گناہوں کی وجہ سے کبھی مایوس نہ ہوں بلکہ ہمیشہ اللہ کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے اپنے گناہوں سے توبہ کیجئے اور آئندہ یہ گناہ نہ کرنے کا عزم کیجئے۔

اگر آپ اس تحریر کو پڑھ کر کوئی فائدہ محسو س کریں تو مصنف کے لیے دعا کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے فیڈ بیک سے بھی مطلع فرمائیے تاکہ آپ کے تجربات کو شامل کرکے اس تحریر کو اور بہتر بنایا جاسکے۔ اگر کوئی تجویز آپ کو نامعقول محسوس ہو تو اس سے بھی ضرور آگاہ فرمائیے تاکہ کسی تک غلط بات پہنچانے سے بچا جاسکے۔ اگر ہوسکے تو اس تحریر کے مندرجات کو اپنے انداز میں ان بھائیوں اور بہنوں تک بھی پہنچائیے جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تاکہ امید کا یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح مایوسیوں اور پریشانیوں سے بچا کر ہر مصیبت کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے اور ہم پر اپنی رحمتیں نازل کرتا رہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *