لیلتہ القدر ،کتوں کی خاموشی اور حلال گوشت۔۔۔۔مشتاق خان

رمضان المبارک کی تئیسویں شب تراویح پڑھ کے گھر جاتے ہوئے گلی کی نکڑ پر ایک شخص کو ڈھیر سارے گوشت کے ساتھ کتوں کے ساتھ مصروف دیکھا لیکن زیادہ سوچا نہیں  اور گھر آکر شب قدر کی تیاری میں لگ گئے۔
بیگم جو کہ  شب قدر کو پوری طرح مناتی ہیں رات ڈھائی بجے کے قریب فرمایا کہ  دیکھیں لگتا ہے کہ  آج شب قدر ہے، کیونکہ اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کتوں کا نا بھونکنا بھی ہے۔
میں بھی بہت خوش اور ایمان سے بھر گیا بہت کان لگا لگا کے کتوں کے بھونکنے کو سننے کی کوشش کی لیکن دور دور تک خاموشی تھی جسم میں ایمان کی لہریں چل پڑیں اور دل سے توبہ استغفار کرنا شروع کردیا کہ  یہ تو کرامت جیسی نشانی ہے۔

سرجانی ٹاؤن کی تین چیزیں مشہور ہیں ایک اس کا نام ،دوسرے   اس کے بائیکرز اور تیسرے کتوں کے سیسلین مافیاز جیسے طاقتور گینگ جو رات ہوتے ہی گینگ وار میں لگ جاتے ہیں اور صبح تک لگاتار بھونکتے ہیں ۔
کتوں کا نان سٹاپ ساری رات بھونکنا ہمارے لئے رات کے ہونے کی نشانی ہے، بچے بوڑھے عورتیں اور موٹر سائیکل سوار ان کتوں کے آسان شکار ہوتے ہیں یہ کتے بیس پچیس کے گینگ کی صورت کسی کی بھی تکہ بوٹی کر سکتے ہیں۔

جب بیگم اپنی سب دوستوں رشتےداروں کو بتا چکی کہ  آج کی رات شب قدر ہے کیونکہ کتے نہیں  بھونک رہے اور اس کے جواب میں کچھ نے سبحان اللہ ماشااللہ کہا اور ایک آپی نے کہا کہ  ان کی طرف تو کتے بہت بھونک رہے ہیں تو ہم تھوڑا پریشان ہوئے۔
خیر فیصلہ ہوا کہ کل رات بھی کتوں کے بھونکنے کو نوٹ کرینگے انشاللہ۔
اگلی صبح باہر چکر لگانے پر کتوں کی تعداد نہ  ہونے کے برابر تھی  ذہن فوراً اس گوشت والے صاحب کی طرف گیا جو کتوں کے ساتھ گوشت کے ساتھ موجود تھے رات کے وقت۔
اب شب قدر اور اس کی نشانی تو ایک طرف ہوگئی ھے پریشانی یہ ہے کے وہ صاحب کون تھے کیا وہ سرکاری اہلکار تھے وہ اکیلے ہی کیوں کتوں کا شکار کر رہے تھے اور وہ ان سینکڑوں کتوں کو کہا ں لے گئے ہیں۔

julia rana solicitors

ہم میاں بیوی تو باہر سے گوشت بہت کم کھاتے ہیں تو اس تحریر کے  ذریعے میں اہل کراچی کو صرف ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ  سرجانی ٹاؤن کے سینکڑوں کتے کوئی صاحب لے گئے ہیں ہمارے لئے تو یہ ایک نیکی کا کام کیا ہے ان صاحب نے پر آپ اہل کراچی بازار سے گوشت خریدنے اور ہوٹلوں میں گوشت کھانے میں احتیاط کریں جب تک ان کتوں کے لیجانے والوں کا پتہ اور ان کتوں کا انجام معلوم نہ   ہو جائے ۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply