ڈنگ ٹپاو۔۔۔۔سلیم مرزا

کوئی چار سال پہلے کا ذکر ہے ۔ گوجرانوالہ بائی پاس سے ٹول پلازہ اٹھا کر کامونکی میں تنصیب شروع کی گئی ۔ کامونکی والوں کیلئے یہ اذیت ناک صورتحال تھی ، کیونکہ ان کو تو چھوٹے موٹے معاملات کیلئے بھی دن میں دو چار بار گوجرانوالہ جانا پڑتا تھا ۔ہر پھیرے کے تیس روپے سراسر ظلم تھا ۔ان دنوں میں، اسلام آباد میں تھا ۔اور الحمداللہ میرے احباب کے اعلی سطح پہ بہترین تعلقات تھے ۔میں ایک دو بار کامونکی آیا تو سوچا کہ متعلقہ اداروں سے بات کرکے ٹول پلازہ اس کی پہلی پوزیشن پہ لے آنا چاہئیے ۔اور مجھے اس سلسلے میں مقامی اور وفاقی سطح پہ کوشش کرنی چاہیے ۔
تیسری مرتبہ جب کامونکی آنا ہوا تو ادھورے ٹول پلازے اور شہر   کے اطراف میں بینر آویزاں تھے، جن پہ ٹول پلازہ کو نامنظور قرار دیا گیا تھا ۔اور اس کی تنصیب کی مقامی سطح پہ بھرپور مذمت کی گئی تھی ۔بینر پہ “ٹول پلازہ ہٹاؤ “کمیٹی کا قیام بھی نِظر آرہا تھا، مجھے تسلی ہوگئی کہ اب یہ ٹول پلازہ نہیں بنے گا ۔اور شکر ہے میں بھی سردردی سے بچ گیا ۔
مگر قسمت دیکھیے، ٹول پلازہ بنا اور کمیٹی غائب ہوگئی ۔تقریباً ایک سال بعد مجھے پتہ چلا کہ کمیٹی بوگس تھی اور صرف اس لیے بنائی گئی تھی کہ کہیں شہریوں کی جانب سے سچ مچ کا احتجاج شروع نہ ہوجائے ۔
اب بھی یہی ہورہا ہے ۔
مہنگائی اور بیروز، گاری سے مرتے ہوئے عوام کو چکر دینے کیلئے اپوزیش جماعتیں ایک نام نہاد ڈرامہ شروع کرنے لگی ہیں ۔تاکہ عوام کہیں سچ مچ نہ کھڑے ہوجائیں، سچ کہا تھا رانا ثناءاللہ نے کہ اگر ہم نے احتجاج نہ کیا تو لوگ ہمارا گریبان پکڑیں گے ۔ کیونکہ عوامی احتساب نیب کی طرح نہیں ہوتا، یہ اگر ہو تو بلا تفریق ہوتا ہے ۔جو نہ سیاستدانوں کے مفاد میں ہے، نہ اداروں کے،۔۔
لہذا تمام عوام سے گذارش ہے کہ بے فکر ہوکر مہنگائی انجوائے کریں، انہوں نے صرف افطارپارٹیاں انجوائے کرنی ہیں ۔آپ لوگوں کو “دھیانے “لگا کر خبروں میں “ان “رہنا ہے، کہانی وہی ہے
ٹول پلازے والوں کو ڈر ہے کہیں شہری سچ مچ ہی نہ اٹھ کھڑے ہوں ۔۔لہذا یہ سب بینرز ہیں ۔
یقین نہ ہو تو تاریخ میں جھانک لیں ۔بے نظیر بھٹو کے منی بجٹ کے خلاف جماعت اسلامی کا پہلا دھرنا اس بجٹ کے خلاف، بجٹ سے توجہ ہٹانے کیلئے تھا ۔
لہذا بجٹ آرہا ہے ۔بڑے صاحب کے آرڈر پہ یہ ہل جل کر رہے ہیں ورنہ یہ پہلے بھی یہیں تھے، اور آئندہ بھی یہیں رہیں گے ۔ یقین رکھیں کوئی بڑا ٹیکہ لگنے والا ہے ۔
یہ ایک ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کاحصہ ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *