مناظرین اور دینی کام کے لیے مثبت رویہ

برِعظیم پاک و ہند میں مناظروں کا کاروبار انگریزوں کے زور پکڑنے کے زمانے سے شروع ہوا جب ان کی تجارتی کوٹھیوں اور تجارتی راستوں کے آس پاس پادری منڈلانے لگے. اول اول سید احمد شہید نے اصلاحِ رسوم کے لیے مناظرانہ انداز اختیار فرمایا. 1835 میں جب کلکتہ میں وائسرائے نے بیٹھنا شروع کیا اور بادشاہ کے دن گنے جانے شروع ہوئے تو پادریوں نے سرگرمی دکھائی اور کھلے عام اسلام اور ہندو مت پر معاندانہ باتیں شروع ہوئیں. 1857 کے بعد گاؤں کے چوراہوں اور بڑے شہروں میں باقاعدہ اعلانات اور اشتہاروں کے ساتھ مناظرے ہونا شروع ہوئے جن میں شرکت کے لیے لوگ دور دور سے آتے.

انگریز نے بحیثیتِ حاکم پادریوں کی ان سرگرمیوں کی کبھی پشت پناہی نہیں کی چنانچہ ہندوستان کے دونوں بڑے مذاہب کو پادریوں نے دعوتی سطح پر اتر کر مخاطب کیا. مختلف ممالک نے پورے ہندوستان کے مختلف شہر اپنے اپنے ذمے لیے اور آج تک ان میں عیسائیت دعوتی انداز میں پھیلائی جا رہی ہے. مثلاً ہری پور کا علاقہ فلپائن کے عیسائیوں نے لیا ہوا ہے جہاں ان کے ملک سے لوگ گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے آ رہے ہیں. یہ لوگ دس دس بیس بیس سال کے لیے آتے ہیں اور بوڑھے ہوکر واپس جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے لوگ آ جاتے ہیں.

پادریوں کی مناظرانہ سرگرمیوں کا توڑ کرنے کے لیے مسلمانوں اور ہندوؤں نے اپنے اپنے مناظر تیار کیے. انیسویں صدی کی آخری چار دہائیاں اور بیسویں صدی کے پہلے عشرے تک یہ کام خوب چلا. حیرت ناک طور پر یہ مناظرے ان علاقوں میں زیادہ ہوتے تھے جہاں ہنرمند زیادہ تعداد میں رہتے تھے. مثلاً سیالکوٹ کے علاقے میں مرزا غلام احمد اپنے دور کا کامیاب ترین مناظرِ اسلام رہا ہے جسے دور دور سے بلایا جاتا تھا.

مناظرین نے پورے ہندوستان میں پھر کر قوم کا مزاج بدل دیا. علمی کام اور مزاج پیچھے رہ گیا اور مناظرانہ انداز چل پڑا. تصانیف کا مزاج بھی مناظرانہ ہوگیا. ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار شیعہ سنی مناظرہ بھی اسی دور میں لکھنؤ میں ہوا. بریلی میں امام احمد رضا صاحب کا حلقہ بڑھا تو ان کے خلاف بھی علمی کے بجائے مناظرانہ فضا پروان چڑھی. مولانا محمد منظور نعمانی نے یہاں تقریر کے ساتھ ساتھ تحریر کے محاذ کو بھی سنبھالا اور مناظرانہ مذہبی صحافت کی باقاعدہ بنیاد ڈالی.

اس دور میں تحریکِ دعوت و تبلیغ کے موسس مولانا محمد الیاس علیہ الرحمہ نے پوری یکسوئی اور جانفشانی سے اپنا کام شروع کیا اور اپنے کام کے لائق علما پر توجہ فرمائی. ایک طرف انھوں نے عصری تقاضوں سے آشنا مولانا علی میاں کو ندوۃ العلما لکھنؤ سے متوجہ کیا تو دوسری طرف بریلی سے مشہور نوجوان مناظر اور صحافی مولانا محمد منظور نعمانی کو مائل کرنے میں کامیاب رہے.

مولانا محمد منظور نعمانی ہمیشہ مولانا محمد الیاس کے احسان مند رہے جنھوں نے ان کی مناظرانہ طبیعت کو مثبت رخ پر لگایا اور جس کے نتیجے میں وہ معارف الحدیث جیسا شاہکار اور کئی زندہ رہنے والی کتابیں یادگار چھوڑ جانے میں کامیاب رہے. ان کی کتاب ملفوظات مولانا محمد الیاس پہلی بار 1948 میں شائع ہوئی جس کا انگریزی ترجمہ اس خاکسار نے ان کی اجازت سے کیا.

مناظرے جب تک عیسائیوں کے خلاف تھے تب تک ان میں خیر کا پہلو یقینًا ہوتا تھا لیکن جب سے ان کا رخ شیعہ سنی اور دیوبندی بریلوی وغیرہ وغیرہ کی طرف ہوا ہے, انھوں نے صرف نفرتیں اور نفرت آمیز تحریریں پھیلائی ہیں. اب مناظرہ صرف فرقے کا پایہ مضبوط کرنے اور مخالف کی تحقیر کی نیت سے ہوتا ہے. مناظرے سے فرقہ جڑ پکڑتا ہے اور فرقے کی جڑ گہری ہوتی ہے. ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے تو معلوم ہوگا کہ اپنے اکابر کو گالیاں کھلوانے کا سب سے بڑا ذریعہ مناظرے اور مناظرانہ انداز ہے. سب مناظر مر مرا گئے اور جو باقی ہیں ان کا حلقہ محدود تر ہو رہا ہے. باقی رہنے والے کام علمی کام ہوتے ہیں. ہجویہ شاعری ہمیشہ قابلِ نفرت رہی ہے اور ہاجی کبھی بقائے دوام کے دربار میں بار نہیں پا سکے.

فیس بک کے چھوٹے بڑے ہاجی جو مختلف بڑے ناموں کے پیچھے چھپتے ہیں یا مختلف لوگوں کے چھوڑے ہوئے ہیں, ان کا انجام بھی یہی ہے. جو دشنامی ادب ان لوگوں نے تخلیق کیا ہے, جعفر زٹلی اور چرکیں ان کے سامنے اطفالِ مکتب لگتے ہیں. کاش یہ لوگ اپنے بے دام اور بادام بندوں کی صلاحیتوں کو کسی مثبت کام میں لگانے کا سوچیں. ہے کوئی جو انھیں بتائے کہ گالی دینے سے دوسرے کی عزت نہیں اترتی, اپنی تربیت آشکارا ہوتی ہے.
مناظرانہ انداز اور سوچ نے ہماری نسلیں برباد کر دی ہیں. اللہ سمجھ دے.

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”مناظرین اور دینی کام کے لیے مثبت رویہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *