عمران کے کرنے کے کام”( فکشن /طنز و مزاح )۔۔۔۔ثا قب ملک

وزیراعظم یہ چند کام کر دیں تو مذکورہ ہر صحافی، اینکر انکی مالا جپے گا اور عمران پر صرف میٹھی میٹھی تنقید ہوا کریگی.

1. عارف نظامی

عمران کو چاہیئے کہ موصوف کو خصوصی حکم کے تحت ہر نئے نویلے شادی شدہ جوڑے کے بیڈ کے نیچے سونے کی اجازت مرحمت فرما دیں. نظامی صاحب اس حکم نامے کے تحت روز قوم کو بریکنگ نیوز فراہم کرکے حقائق سے روشناس کروا سکیں گے. مزید یہ کہ قائد اعظم اور اقبال کے نام پر بننے والے ہر سرکاری ادارے کے نظامت نظامی فیملی کے حوالے کر دی جائے. اسکے بعد آپ کا صحافتی ڈنگ زہریلا نہیں رہے گا.

2. حامد میر

میر صاحب کو لبھانا زیادہ مشکل نہیں بس دن میں آدھ گھنٹہ انکی صحافتی کہانیوں کو سننا ہی عمران کے لئے کافی ہوگا. دو چار گالیاں اگر انکی مرضی کے جرنیلوں کو بھی پڑ جائیں تو سونے پر سہاگہ ہوگا. گو اس کے باوجود بھی حامد میر اپنے “شیڈول ” کے تحت تنقید و تعریف جاری رکھیں گے.

3. ایاز امیر

وزیراعظم اگر ایاز امیر کے گھر کو حدود آرڈیننس کی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دے دیں اور پلاسٹک کے شاپروں پر پابندی لگا دیں تو جناب ایاز امیر عمران کو کے ایل سہگل سے بھی بڑا ولی تسلیم کر لینگے. چکوال یا لاہور مال روڈ پر ایک آدھ اعلیٰ نائٹ کلب یا میخانہ کھل جائے تو بھی برا سودا نہیں.

4. طلعت حسین

کرنا یہ ہوگا کہ عمران کو روز طلعت حسین کی انا کو گنے کا رس پلانا ہوگا ساتھ سرکاری ٹی وی کی سربراہی بھی مزہ دوبالا کر دیگی . روز کی تعریفی ڈرپ طلعت کو صراط مستقیم سے ہٹنے نہیں دیگی. ساتھ ساتھ اسلام آباد کے کرکٹ گراؤنڈز پر قبضے اور خاندان کی بقیہ زمین جائداد پر ہاتھ صاف کرنے پر آنکھیں بند کر لی جائیں تو طلعت حسین نیا پاکستان کا ڈھول گلے میں لٹکا کر گھوما کرینگے.

5. رؤف کلاسرہ

کلاسرہ تو معصوم انسان ہیں. اگر عمران کسی طریقے سے ” بازی گر” کہانی دوبارہ شروع کروا دیں، کیتھرائن کو لندن سے بلا کر میانوالی مظفر گڑھ روڈ پر آنجناب کے ساتھ اوندھے منہ لیٹ کر کینو کھانے کا موقع فراہم کر دیں اور گاڈ فادر کے ناول کو قومی نصاب میں شامل کروا دیں تو جناب کالم نگار، عمران کے پہلے سے بھی زیادہ ڈائی ہارٹ فین بن جائیں گے. نیز روز کے روز اگر آدھ درجن دکھی واقعات بھی کلاسرہ صاحب کو فراہم کئے جائیں جن پر روتے ہوئے قسط وار کالم لکھ سکیں تو عمران کو مزید افاقہ ہوگا.

6. جاوید چوہدری

عمران کو چاہیئے کہ قہقہہ لگا کر کوہ الپس کی پہاڑیوں پر چڑھ جائیں. وہاں سے واپسی پر بھاپ اڑاتی کافی پیتے جاوید چوہدری کو بھی سرکاری ہیلی-کاپٹر پر بٹھا لیں اور موصوف کے زریں نتائج پر فوراً ایمان لا کر سوئٹزرلینڈ یا کسی مغربی ملک کا سسٹم پاکستان میں کاپی پیسٹ کر دیں. مزید برآں وزیراعظم روزانہ توے پر کھڑے ہو کر جاگنگ کریں یوں جاوید چوہدری مکمل حمایتی ہو سکتے ہیں. اگر چوہدری صاحب خوش نہ ہوئے تو تاریخ کے کوڑے دان میں غرق ہوجائیں گے.

7. انصار عباسی

عمران کو انصار عباسی کو رام کرنے کے لئے سادہ سا کام کرنا ہوگا. ہر ہفتے کابینہ میٹنگ میں فحاشی و عریانی، اور فحاشی و عریانی، مزید فحاشی اور عریانی اور اگر فحاشی اور عریانی نہ بھی ہو تو اسے زبردستی پیدا کرکے اسکے خلاف سرکاری بیان جاری کرنا ہوگا. فحاشی و عریانی کے خلاف اس سرکاری مہم سے جیو کو مستثنیٰ قرار دیا جائے کیونکہ جیو کو عباسی صاحب خود پندرہ بیس برس سے تبلیغ کر رہے ہیں اور جب تک نوکری ہے کرتے رہیں گے.

8. اوریا مقبول جان

جب تک اوریا صاحب کو امام مہدی کا معتمد ترین ساتھی تسلیم نہ کیا جائے ، خلافت کا اعلان نہ کیا جائے ، ہر ٹی وی پروگرام کی خاتون پروڈیوسر کو بیٹی بنانے، اور سود کے خلاف جنگ کے لئے سینکڑوں ایکڑ سرکاری اراضی مفت نہ دی گئی تب تک وہ رام نہیں پڑیں گے. نیز ہر زلزلے کی وضاحت کا ٹھیکہ اوریا اور انکے بزرگوں کو تقویض کیا جاوے.

9. ہارون الرشید

فسوں خیز سپہ سالار اشفاق پرویز کیانی کو تا حیات صدر، عزیزی بیٹے کو اگلے پیدا ہونے والے عمران خان کا سپوکس پرسن، مرد مومن ضیاء الحق کو بعد از مرگ نشان حیدر، ہاوزنگ سوسائٹی کے آگے موٹروے، بھٹو کے نام پر انکل سام کے پروردہ فیس بکی لونڈوں دانشوروں کو سو کوڑے روزانہ لگانے، اور کپتان کا بنی گالا والا گھر منہدم کرکے دوبارہ بنوانے کا ٹھیکہ دینے تک آنجناب خان صاحب کی مخالفت جاری رکھیں گے.

10. حسن نثار

اوئے لعنت ہو، شودر، کمی کمینے، رزدیل، مچھندر جیسے الفاظ کو خوش آمدیدی خیر مقدمی الفاظ میں شامل کرنے تک، اپنے، اپنے قارئین اور ویورز، لائل پور کے پرانے محلے کے علاوہ ہر چیز کو تیزابی غسل دینے تک، انہیں دنیا کا عظیم ترین دانشور بار بار تسلیم کرنے تک، سینیئر کالم نگار وزیراعظم سے خوش نہیں ہونگے. یہ سب کرنے کے بعد بھی شاید یہی اضطرابی کیفیت برقرار رہے.

نوٹ:یہ تحریر ثاقب ملک کی فیس بک وال سے شکریہ کے ساتھ کاپی کی گئی ہے۔

Avatar
ثاقب ملک
رائٹر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *