بخت بانو ۔۔۔۔ محمدخان چوہدری

ایک لرزہ خیز حکایت ۔۔
بی بی بخت بانو ایک ہی وقت خوش بخت ترین یا بد نصیب ترین خاتون تھی یا نہیں ۔۔اس کا فیصلہ آپ اس کی کہانی پڑھ کر کیجیئے گا،
وڈا پنڈ چھوٹی دو پہاڑیوں پہ  تھا ۔جنگل، چشمے اور ان سے بہتی ندی،
جس کا پانی گاؤں کے تالاب میں جمع ہوتا تھا، وہاں اٹھارہ ہزار کنال کا ہموار زرعی رقبہ،اور اٹھارہ کنوؤں پہ  مشتمل خوبصورت گاؤں چوہدری رنگو خان کی آبائی  وراثت تھا اور ملکیت تھا،
چوہدری کی پہلی شادی برادری سے ہوئی ، دس سال تک اولاد نہیں  ہوئی،تو بیوی اور دوسرے رشتہ داروں کے مجبور کرنے پہ متمول لیکن کافی کم حیثیت کے خاندان سے دوسری شادی کی ، بہاول خان بیٹا پیدا ہوا،پانچ سال بعد بیٹی بخت بانو پیدا ہوئی  تو زچگی میں ماں مر گئی ،پہلی بیوی بھی بیمار رہتی تھی،رضاعت کا ذمہ ایک مزارعے کی بیوی کو دیا جس کی بچی انہی دنوں پیدا ہوئی  تھی۔جس کی اجرت میں دو کنویں اور دو سو کنال زمین اس کو دی،بہاول کے طور اطوار اچھے نہ تھے،سکول تو جاتا رہا اسے ہر سال پاس کر دیا جاتا ،میٹرک میں دوبارہ فیل ہونے تک اس کا گاؤں اور گردو نواح کے آوارہ لڑکوں کا گروپ بن چکا تھا۔۔حویلی سے ملحق بیٹھک اس کا ڈیرہ بن چکی تھی،
چوہدری کا بیٹا ہونے کی وجہ سے کوئی  روک ٹوک نہ تھی،رنگو خان اب بوڑھا اور کمزور ہو گیا،پہلی بیوی فوت ہوئی  تو حویلی کا نظام بھی بگڑنے لگا،بخت بانو نے انتظام سنبھالا۔۔
باپ کی دیکھ بھال کے لۓ رضاعی ماں کو حویلی میں لے آئی ، بہاول کو اور آزادی مل گئی،بخت بانو کی مذہبی اور بنیادی تعلیم حویلی کے اندر ہوئی۔باقی علم اس نے اپنی ذہانت اور مطالعہ سے حاصل کر لیا،
جب اس کی عمر اٹھارہ سال ہوئی  تو چوہدری نے خلاف روایت ایک فیصلہ کیا جو زمین اور کنویں رضاعت کے لۓ دے چکا تھا ان کے علاوہ ساری جائیداد کا تیسرا حصہ، پٹواری اور تحصیلدار کو حویلی بلا کے بخت بانو کے نام ہبہ انتقال کر کے۔جمع بندی میں ملکیت، خود کاشت کے اندراج بھی کروا دیئے۔
اس امر کی منادی عام بھی کرا دی۔۔بہاول کو خبر تو ہوئی  لیکن وہ اس معاملے کی نوعیت سمجھنے سے قاصر تھا۔اور اس کی جملہ ضروریات پوری ہو رہی تھیں ۔
مسئلہ تب پیدا ہوا کہ بہاول کے رشتے کی بات چوہدری رنگو کے کزن کے ہاں طے ہو چکی تھی،بس شادی کی تاریخ دینی باقی تھی، اس کے ہونے والے سالے جو بہاول کا ہم نشین تھا اس کے لۓ جب بخت بانو کا رشتہ مانگا گیا،بخت بانو کی نام جائیداد پر سب کی نظر تھی تو اوررشتے بھی آ رہے تھے۔ ۔ان میں چوہدری رنگو کی پہلی بیوی کے بھائی  کا بیٹا،جو ایم اے کر کے لیکچرر بن چکا تھا، اس کا رشتہ آیا
تو چوہدری نے اس شرط پہ  حامی بھر لی کہ لڑکا حویلی آۓ اور بخت بانو اگر اسے پسند کرے تو۔۔۔۔اب بہاول کو کچھ خود سمجھ آئی اور باقی ہونے والے  سسرال نے سمجھایا کہ اگر بخت بانو کی شادی پروفیسر جیسے پڑھے لکھے اور با رسوخ خاندان کے بندے سے ہو گئی،تو وہ نہ صرف جائیداد کے حصے سے محروم ہو گا بلکہ شاید شادی بھی نہ کر سکے،نہ بہاول میں عقل تھی کہ وہ باپ اور بہن سے بات کرکے کوئی حل نکالنے کی کوشش کرے،اور نہ یہ اس کے حواریوں کے فائدے میں تھا کہ وہ اپنے گھر کے معاملات میں پڑے اور ان کا ٹھکانہ بند ہو جاۓ۔
بہاول کے سسرال والوں کی نظر تو تھی جائیداد پر۔ان سب نے مل کر منصوبہ بنایا، کہ بخت بانو کو اغوا کر کے دو تین دن غائب کرتے ہیں،
خبر ہر طرف پھیل جاۓ گی تو پھر واپس کر دیں گے، تو۔ ۔۔
ایک اغوا شدہ لڑکی سے کون شادی پہ  تیار ہو گا، آخر احسان کر کے بہاول کا ہونے والا سالا،جس نے دوران اغوا اسے رکھنا بھی تھا وہ ہی شادی کر لے گا،اور پروفیسر کے خاندان کے آنے والے دن سے پہلی رات،بہاول حویلی کے اندر بخت بانو کے کمرے میں گیا، وہ ابھی جاگ رہی تھی،اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا، وہ بہن تھی سمجھی بھائی  نے کوئی  بات کرنی ہو گی،چپکے سے اس کے ساتھ چل پڑی۔۔
حویلی کا پورا صحن عبور کر کے بیٹھک کے عقبی دروازے کے پاس جہاں نوکروں کے کمرے تھے وہ رک گئی،
بہاول نے اسے جلدی چلنے کا اشارہ کیا اور ہاتھ پکڑ کے بیٹھک کے دروازے کے اندر کھینچا،
بخت بانو کے سلیپر اترے یا اس نے خود اتارے، وہ باہر ہی رہ گۓ،بیٹھک کے اندر تین بندے تھے۔۔
بہاول نے چھوڑا تو وہ بخت بانو کے منہ پہ  ہاتھ رکھ کے اسے اٹھا کے سڑک پہ  کھڑی گاڑی میں ڈال کے لے گۓ،اسے آواز نکالنے کا بھی موقع نہ ملا۔
بہاول نے بیٹھک کے دروازے بند کۓ،سونے کی کوشش کی، لیکن شاید زندگی میں پہلی بار بہن کا ہاتھ پکڑنے کا اثر تھا، بہت بے چین ہو گیا،بہن تھی جوان تھی جو لڑکے اٹھا کے لے گۓ تھے دوست تھے لیکن !
اس نے شراب کی بوتل نکالی اور پیتا رہا، پتہ نہیں  کب بے ہوش ہوا،حویلی میں قیامت کی صبح طلوع ہو گئی۔۔
سب سے پہلے بخت بانو کی رضاعی ماں نے سلیپر دیکھے، پتہ نہیں  اس کی کس حس نے کام کیا،کہ ویسے ہی سلیپر چھوڑ کے اسکے کمرے میں آئی، کمرہ خالی تھا۔۔۔۔۔
وہ چوہدری کے کمرے میں گھبرائی  ہوئی داخل ہوتے رو پڑی اور بتایا کہ بخت بانو حویلی میں نہیں  ہے۔
چوہدری ننگے سر ننگے پاؤں باہر نکلا تو، دو دفعہ  لڑکھڑایا، سنبھلا ، آسمان کو دیکھ کے کچھ بات کی۔۔
نوکرانی نے چپل دکھائی  جو بیٹھک کے بند دروازے کے سامنے تھی
چوہدری نے پانی منگوا کے منہ ہاتھ دھویا، نوکروں کو مہمانوں کے آنے پر ان کو سیدھا حویلی کے اندر لانے اور ان کے ناشتہ بنانے کا کہا،ڈرائیور سے گاڑی نکلوائی ۔۔
بیٹھک کے دونوں دروازوں کے باہر تالے ڈلوا کے، نکلا اور پولیس چوکی پہنچا۔انچارج سے بات کی، واپس حویلی پہنچا تو پیچھے پولیس بھی پہنچ گئی،
بیٹھک کھولی گئی، چوہدری کے ہاتھ میں پسٹل تھی۔
اس نے بہاول سے کہا کہ مجھے ایک گھنٹے کے اندر بیٹی چاہیے،
انچارج نے بہاول کو جیپ میں پکڑ کے بٹھایا،
تو چوہدری کی آواز گونجی۔۔
تھانیدار صاحب گڑ بڑ ہو تو سب سے پہلے اسے گولی مار دینا،اور پولیس کی گاڑی کے ساتھ اپنی کار بھی بھجوا دی،
چوہدری لگتا تھا بوڑھا ہوا ہی نہیں،
حویلی میں مہمانوں کے لۓ بندوبست چیک کیا،اپنے کمرے میں گیا، شیروانی پہنی، کلے والی پگ سر پہ  سجائی  اور رائفل لوڈ کر کے، باہر آرہا تھا کہ گاڑیوں کی آواز آئی ،کار سے بخت بانو اتری اور باپ کے گلے لگ گئی، بہاول کو تھانیدار نے پکڑا ہوا تھا، باقی لڑکے تو پولیس کو دیکھ کے شاید بھاگ گۓ تھے،
چوہدری نے بہاول کو بیٹھک میں بند کروایا، پولیس کو واپس بھیجا ہی تھا
کہ پروفیسر اور اس کے گھر والے پہنچ گۓ۔
چوہدری نے بخت بانو کو پیار سے تیار ہونے کو بھیجا اور خود مہمانوں کے ساتھ زنانہ مہمان خانے میں کھانے کی میز پہ  جہاں ناشتہ لگ چکا تھا رائفل کرسی کے ساتھ ٹیک لگا  کے بیٹھ گیا۔
مہمان صورت حال کو سمجھ نہیں پا رہے تھے، چوہدری نے ناشتہ شروع کرنے کی دعوت دیتے ہوۓ کہا،
میرے بیٹے نے جائیداد کی خاطر بہن کی عزت کا سودا کیا، جو ہوا ان کو بتایا۔۔۔
اس ماحول میں ناشتہ کیا کسی  نے کھانا تھا بہر حال اٹھ کے جب سب گول کمرے میں بیٹھ گۓ تو چوہدری نےکہا۔۔
میں بیٹی کے پاس جا رہا ہوں آپ آپس میں طے کر لیں،
رشتہ کرنا ہے تو پروفیسر صاحب اند آ جائیں، نہیں  تو آپ یہاں سے ہی واپس ہو جائیں ۔
بخت بانو اپنے آپ کو سنبھال چکی تھی، باپ کے ساتھ چُپ کرکے  بیٹھ گئی۔
تھوڑی دیر میں نوکرانی نے پروفیسر کے آنے کی اطلاع دی اور وہ کمرے میں داخل ہوا، بخت بانو کو سلام کیا، چوہدری کے گھٹنے چھو کے بولا۔۔۔۔مجھے آپ جیسے عظیم انسان کا فرزند ہونے پہ  فخر ہو گا،
چوہدری نے بیٹی کی طرف دیکھا، تو وہ بولی، میں نے ابا کا ہر حکم مانا ہے۔۔
لیکن اس حکم کو ایک شرط کے ساتھ مانوں گی۔۔؟
پروفیسر اور چوہدری دونوں  ششدر ہو گئے دونوں نے اسے دیکھا تو وہ بولی۔ شرط یہ ہے کہ ابا بہاول کو معاف کر کے ساری جائیداد میرے نام والی سمیت بہاول کے نام کرائیں گے۔
اور پروفیسر صاحب آپ اپنے ماں باپ سے پوچھ لیجیئے کہ
اگر ان تین کپڑوں میں وہ بھی مجھے قبول کرنے کو تیار ہیں تو،
اتنی دیر میں بیٹھک سے فائر کی آواز آئی۔۔۔
بہاول جائیداد کے ساتھ دنیا بھی چھوڑ چکا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *